نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عید غدیر کی شرعی حیثیت

(*عید غدیر رافضی صحابہ کے گستاخ نے 352ھ میں ایجاد کی تھی*)


عید غدیر جیسی عید کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے، اس نام نہاد بدعتی ناجائز عید کو شیعوں رافضیوں نے گھڑا ہے جو کے 18 ذو الحجہ کو منائی جاتی ہے اور یہی دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے اس عید کی آڑ میں رافضی لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوشیاں مناتے ہیں، عید غدیر کو ایجاد کرنے والا معز الدولہ احمد بن بویہ ہے 18 ذوالحجہ 352ھ میں بغداد میں عید غدیر منانے کا حکم دیا خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔

علامہ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں 352ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں: 18 ذوالحجہ 352 ہجری کو معز الدولہ نے بغداد شہر کو مزین کرنے کا حکم دیا کہ رات کو بازار کھلے رکھے جائیں، شادیانے اور ڈھول وغیرہ بجائے جائیں اور امراء کے دروازوں پر چراغ روشن رکھے جائیں۔ یہ سارا کچھ ایک بہت ہی قبیح اور بری بدعت عید غدیر خم‘‘ کی خوشی میں کیا گیا۔

(البدایۃ و النھایۃ 11 جلد صفحہ 243)

معز الدولہ ایسا بد بخت و خبیث قسم کا رافضی انسان تھا جو کہ صحابہ کا گستاخ تھا اس کے دور میں بغداد کی مساجدوں کے دروازوں پر  ایسی عبارتیں لکھی گئیں جس میں صحابہ پر لعنت کی گئ تھی،

لعن اللَّہ معاویۃ بن ابی سفیان و من غصب فاطمۃ حقھا، و من اخرج العباس من الشوری و من نفی اباذر و لعنوا  من منع دفن الحسن عند جدہ 
ان عبارت میں حضرت امیر معاویہ و حضرت ابو بکر و حضرت عمر و حضرت عثمان و مروان اور اس کے ساتھیوں پر لعنت کی گئی اور جب اس کو  خبر ملی رافضیوں نے مساجد کے دروازوں پر اس طرح کی عبارتیں لکھی ہیں تو اس نے اس پر کوئ نکیر نہیں کی بلکہ اس خبیث معز الدولہ نے خود بول کر حضرت امیر معاویہ پر لعنت کی عبارت لکھوائ

(البدایۃ و النھایۃ جلد 11 صفحہ 240)

معز الدولہ رافضیوں سے اس قدر عقیدت و محبت رکھتا تھا، ان کے کفریہ قول کو بھی لائق ادب و احترام سمجھتا تھا اس کے دور  میں ایک نئے گروہ کا ظہور ہوا جو تناسخ کا قائل تھا، ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ مجھ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روح حلول کر آئی ہے، اس کی بیوی کا دعویٰ تھا کہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح مجھ میں منتقل ہوئی ہے۔ ایک دوسرا شخص کہتا تھا کہ مجھ میں جبرئیل علیہ السلام کی روح ہے، دعوؤں کو سن کر لوگوں نے ان کو مارا پیٹا، معز الدولہ نے بوجہ شیعہ ہونے کے لوگوں کو ایذارسانی سے باز رکھ کر ان کا ادب کرنے اور تعظیم سے پیش آنے کا حکم دیا، کیونکہ کہ وہ اپنے آپ کو اہل بیت سے نسبت کرتے تھے۔

(تاریخ اسلام جلد 2 صفحہ 265)

خلاصہ کلام یہ ہے اس عید کو ایجاد کرنے والا ایک شیعہ رافضی تھا  عید غدیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم سے ثابت نہیں ہے، پہلی دفعہ عراق میں معز الدولہ علی بن بویہ کے دور حکومت میں 352 ہجری میں اسے شروع کیا گیا۔ تب سے شیعہ حضرات نے اسے عید کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ وہ اسی کی آڑ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی بھی خوشیاں مناتے ہیں ، اور  حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل تسلیم کرتے ہیں اسی کی آڑ میں حضرت ابو بکر کو غاصب مانا کرتے ہیں عید غدیر خم ان ناجائز و بدعات میں شمار ہوتی ہے جنھیں عبیدی امراء نے شروع کیا تھا۔ جو کہ بدعت پرور اور بدعت نواز تھے اور یہ عید انھوں نے آل بیت سے محبت کے دعوے کے تحت شروع کی کیونکہ وہ اپنے آپ کو اہل بیت میں سے ثابت کرتے تھے۔


منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کی
الٰہی روز و ماہ و سن انہیں گزرے محرم سا


فقیر محمد دانش حنفی 
ہلدوانی نینیتال 
+919917420179

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...