(عاشوراء کی کچھ خاص نماز جو موضوع روایات سے ثابت ہیں)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ما ثبتہ من السنتہ ہے آپ اس میں رقم طراز ہیں
پہلا دن ہے کہ یوم عاشوراء کا اللہ نے دنیا میں پیدا کیا اور یہ پہلا دن ہے کہ دنیا میں بارش اسی دن ہوئی پس جس نے عاشوراء کا روزہ رکھا گویا تمام زمانہ کا روزہ رکھا اور یہ انبیاء اور موسی علیہ السلام کا روزہ ہے اور جس نے شب عاشوراء کو شب بیداری کی گویا اس نے ساتوں آسمان والوں کی برابر اللہ کی عبادت کی اور جس نے چار رکعت نماز پڑھی جس کی ہر رکعت میں الحمد ایک بار اور پچاس بار قل ھو اللہ احد پڑھی تو اللہ تعالی اس کے گزشتہ کے پچاس اور آئندہ کے پچاس سال کے گناہ بخش دے گا اور جس نے ایک گھونٹ پانی پلایا گویا کہ اس نے ایک آن بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی اور جس نے اہل بیت کے مسکینوں کا پیٹ عاشوراء کے دن بھرا وہ پل صراط پر چمکتی بجلی کی طرح گزر جائے گا اور جس نے کوئی چیز خیرات کی گویا اس نے کبھی بھی کسی سائل کو نہیں لوٹایا اور جس نے عاشوراء کے دن غسل کیا سوائے مرض موت کے کبھی بیمار نہ ہوگا
عاشوراء کا دن یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے حضرت آدم کی توبہ قبول فرمائی یہ وہ دن ہے جس دن حضرت ادریس وہ بلند مرتبہ پر فائز کیا یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے حضرت ابراہیم کو آگ سے نجات دی اور یہ وہ دن ہے جس دن حضرت نوح کو کشتی سے اتارا اور یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے حضرت موسی پر تورات اتاری اور یہ کہ حضرت اسماعیل کا وبقت ذبح فدیی اتارا اور یہ وہ دن ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ سے نکالا اور یہ وہ دن ہے اللہ نے اس دن حضرت یعقوب کو بصارت واپس فرمائی اور یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے اور یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے حضرت ایوب علیہ السلام سے بلاؤں کو دور کیا اور یہ وہ دن ہے کہ جس دن اللہ نے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا اور یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے دریا کو پھاڑ دیا اور یہ وہ دن ہے کہ جس دن حضور علیہ السلام کے سبب اگلے اور پچھلے لوگوں کے گناہ بخشے اور یہ وہ دن ہے کے حضرت موسی نے دریا عبور کیا اور یہ وہ دن ہے جس دن حضرت یونس کی قوم پر توبہ اتاری پس جو اس دن کا روزہ رکھےگا چالیس سال کا کفارہ ہوگا
جس نے اس دن سرمہ لگایا یا سال بھر تک اس کی آنکھیں آشوب نہ کریں گی اور جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا گویا اس نے تمام اولاد آدم کے یتیموں کے ساتھ بھلائی کی اور جس نے کسی مریض کی عیادت کی گویا اس نے تمام اولاد آدم کے مریضوں کی عیادت کی ان سب کو ابن جوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے اور فرمایا یہ روایات موضوع ہیں اور کہا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کے بعد والوں نے اس کو وضع بناکر گھڑ کر ان سندوں کے ساتھ ترتیب دےدی ہے اور ثقہ راویوں کی طرف منسوب کردیا
(ما ثبت من السنتہ صفحہ 19)
فقیر محمد دانش حنفی
ہلدوانی نینیتال
+919917420179
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com