نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خیمہ اہل بیت میں پانی کے راوی

*خیمہ اہلبیت میں پانی موجود ہونے کے راوی حضرت زین العابدین ہیں*

حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جس رات کی صبح کو میرے والد ماجد شہید ہوئے میں اس کی شام کو بیٹھا ہوا تھا میرے والد اور ان کے ساتھی جب خیمے میں چلے جاتے تو میری پھوپھی حضرت زینب میری تیمارداری کرتیں میرے والد نے چند اشعار پڑھے اور یہ اشعار تین مرتبہ پڑھے اور میں نے ان کو یاد کر لیا اور میں اپنے والد کا مقصد سمجھ گیا تھا پس آنسوؤں نے میرا گلا گھونٹ دیا تھا اور میں سمجھ گیا تھا مصیبت نازل ہونے والی ہے اور میری پھوپھی پریشانی کے عالم میں کھڑی ہو گئی اور آپ کے چہرے پر غم کے آثار تھے امام عالی مقام سے کہنے لگیں کاش یہ لوگ آپ سے قتال نہ کرتے آپ کو شہید نہ کرتے اور بے ہوش ہو کر گر گئیں تب امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے آپ کے چہرے پر پانی ڈالا اور کہا میری بہن صبر کرو اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اور یہ اہل زمین مر جائیں گے ہر چیز فنا ہو جاۓ گی صرف اللہ عزوجل کی ذات پاک باقی رہے گی

تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 420 پر اس کی سند اس طرح ہیں۔ قال ابو مختف حدثنی الحارث بن كعب وابو الضحاك عن على ابن الحسين بن على قال,

بدایہ جلد 8 صفحہ 177 پر اس کی سند اس طرح ہے، وقال ابو مخنف حدثني الحارث بن كعب و ابو الضحاک عن على بن الحسين زين العابدين قال..



فقیر محمد دانش حنفی 
ہلدوانی نینیتال 
+919917420179

تبصرے