نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

आशुरा के दिन नमाज़ मोजु रिवायत

🌹 आशूरा के दिन नमाज़ 🌹 दारुल इफ्ता गुलज़ारे तैयबा – 02/06/2026 (आशूरा की कुछ खास नमाज़ें जो मौज़ू (गढ़ी हुई) रिवायतों से साबित बताई जाती हैं) शैख अब्दुल हक़ मुहद्दिस देहलवी रहमतुल्लाहि अलैह ने अपनी किताब "मा साबित मिनस्सुन्नह" में लिखा है: आशूरा के दिन के बारे में कुछ रिवायतों में यह बयान किया गया है कि यही वह दिन है जब दुनिया पैदा की गई, पहली बारिश हुई, और जिसने इस दिन रोज़ा रखा उसने मानो पूरी उम्र रोज़े रखे। इसी तरह यह भी कहा गया कि जिसने आशूरा की रात इबादत में गुज़ारी, उसे सातों आसमान वालों की इबादत के बराबर सवाब मिलेगा। इसी प्रकार एक रिवायत में चार रकअत नमाज़ का ज़िक्र है कि हर रकअत में सूरह फ़ातिहा के बाद पचास बार "कुल हुवल्लाहु अहद" पढ़ी जाए तो पिछले और अगले पचास साल के गुनाह माफ़ कर दिए जाएंगे। कुछ रिवायतों में यह भी है कि जिसने एक घूंट पानी पिलाया, वह ऐसा है मानो उसने कभी गुनाह न किया हो؛ जिसने अहले बैत के किसी गरीब को खाना खिलाया वह पुल सिरात से बिजली की तरह गुज़रेगा؛ जिसने सदक़ा किया उसने कभी किसी साइल को खाली नहीं लौटाया؛ और जिसने आशूरा के दिन ...

جھوٹی روایات بیان کرنا ؟

السلام علیکم حضرت صاحب آج کل کجھ لوگ بولتے ہیں اللہ فرماتا ہے حالانکہ اللہ نے نہیں فرمایا ہوتا- اور اسی طرح حدیث و بزرگوں کے اقوال کو ان کی طرف منسوب کرنا کیسا؟ جبکہ حدیث و بزرگوں نے نہیں فرمایا ہوتا، ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ لوگوں کا بنا ثبوت و تحقیق کے پھیلانا کیسا اور  اسی طرح سے بعض حضرت تقریر کرنے والے حدیث کو ہو-بہ-ہو (same to same) بیان نہں کرتے اور اپنی طرف سے ملاکر پیش کر دیتے ہیں، جبکہ کتابوں میں، الفاظ الگ ہوتے ہیں، اس بارے میں کیا حکم ہوگا؟ ابراھیم خان، راجستھان۔ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم ﷺ، صحابۂ کرام، اولیائے عظام اور اکابر علماء کی طرف کوئی بات منسوب کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر تحقیق اور ثبوت کے یہ کہے کہ "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے" یا "حضور ﷺ نے فرمایا" یا "فلاں بزرگ نے فرمایا"، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ ہو، تو یہ سخت گناہ اور ناجائز عمل ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" "اور اس بات...

محرم الحرام میں باجا بجانے

الجواب وباللہ توفیق  محرم الحرام حرمت و عظمت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں گناہوں سے بچنے، سنتوں پر عمل کرنے اور شہدائے کربلا خصوصاً سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کا حکم ہے، نہ کہ ناجائز رسموں، باجوں اور گمراہ فرقوں کے مذہبی شعائر کی اشاعت کا۔ اولاً: DJ اور باجوں کا حکم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ "اور بعض لوگ لہو کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کریں۔" (سورۂ لقمان، آیت: 6) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "والله الذي لا إله غيره هو الغناء" "اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس سے مراد گانا بجانا ہے۔" (تفسیر طبری، تفسیر ابن ابی حاتم) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف" "میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے۔" (صحیح بخاری، کتاب الاشربۃ) لہٰذا DJ، باجے اور موسیقی کا استعمال ...

محرم الحرام میں مکان کا افتتاح

🌹 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌹 دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات محرم الحرام میں شادی، مکان کا افتتاح اور دیگر جائز کاموں کا شرعی حکم السؤال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ محرم الحرام میں شادی کرنا، نکاح پڑھانا، نئے مکان کا افتتاح کرنا، گھر میں داخل ہونا، کاروبار شروع کرنا یا دیگر خوشی کے کام انجام دینا جائز نہیں۔ بعض لوگ اس مہینے کو نحوست والا مہینہ سمجھتے ہیں۔ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں  محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور اشہرِ حرم میں سے ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ حکم موجود نہیں کہ اس مہینے میں نکاح، شادی، مکان کا افتتاح، نئے گھر میں منتقل ہونا یا دیگر جائز کام کرنا ممنوع ہو۔ بلکہ شریعتِ مطہرہ ہر وقت نیکی اور جائز کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ ترجمہ: "نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔" (سورۃ البقرۃ، آیت: 148) نیز ارشاد فرمایا: ﴿وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ترجمہ: "اور نیکی کے کام کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔" (سورۃ الحج، آیت: 77) نبی کریم ﷺ ن...

غیر مسلموں کو صدقہ دینا جایز نہیں

🌹 تشریح 🌹 علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ بعض فقہاء نے نفلی صدقہ غیر مسلم کو دینے کی اجازت دی ہے، لیکن صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ غیر مسلم کو صدقہ نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ صدقہ عبادت اور قربتِ الٰہی کا عمل ہے، اور مسلمان محتاج اس کا زیادہ حق دار ہے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ اپنے صدقات اور خیرات حتیٰ الامکان مسلمان فقراء، مساکین، یتیموں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرے تاکہ ایک طرف ثواب حاصل ہو اور دوسری طرف مسلمانوں کی حاجت روائی بھی ہو۔ 📚 علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صحیح یہ ہے کہ غیر مسلم کو صدقہ نہیں دیا جائے گا۔" (شرح صحیح مسلم، جلد 6، صفحہ 766) ✍️ دارالافتاء گلزارِ طیبہ بفیضِ روحانی حضور محدثِ کبیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ 🌹

انشورنس کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سلام کے بعد مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال ہے کہ: ایک بیمہ (انشورنس) پالیسی ہے جس کا اصول یہ ہے کہ ہر سال ستر ہزار (70,000) روپے جمع کروانے ہوتے ہیں، اور یہ رقم سات سال تک ادا کرنی ہوتی ہے۔ سات سال مکمل ہونے کے بعد مزید کوئی رقم جمع نہیں کرنی پڑتی۔ اگر پالیسی لینے والے شخص کا انتقال 75 سال کی عمر سے پہلے ہو جائے تو بیمہ کمپنی اس کے ورثاء کو ایک کروڑ (1,00,00,000) روپے ادا کرتی ہے، اور اگر اسی مدت کے دوران حادثے (ایکسیڈنٹ) میں وفات ہو جائے تو ورثاء کو ڈیڑھ کروڑ (1,50,00,000) روپے دیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر 75 سال کی عمر کے بعد انتقال ہو یا حادثے میں وفات ہو تو کوئی رقم نہیں دی جاتی، اور پالیسی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ نیز جو رقم سات سال تک جمع کروائی گئی تھی، وہ بھی واپس نہیں ملتی۔ مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا ایسی بیمہ (انشورنس) پالیسی شریعتِ مطہرہ کی رو سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ سائل: غلام یاسین، وانکانےر الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ انشورنس کروانا حرام و گناہ ہے چاہے لائف انشورنس ہو یا  جنرل انشورنس ۔ لائف انشورنس  سود پر مشتمل ہے کیونکہ اس می...

خواب میں حضور کی زیارت

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں: 1) کیا جنات حضورِ اکرم ﷺ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں؟ نہیں، جنات ہوں یا شیاطین، وہ حضور نبی کریم ﷺ کی حقیقی صورتِ مبارکہ اختیار نہیں کر سکتے۔ حدیثِ پاک میں ہے: > "جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے واقعی مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔" (Sahih al-Bukhari، کتاب التعبیر؛ Sahih Muslim) علمائے کرام نے فرمایا کہ جب شیطان حضور ﷺ کی صورتِ مبارکہ اختیار نہیں کر سکتا تو جنات بھی آپ ﷺ کی حقیقی صورت اختیار نہیں کر سکتے۔ البتہ کوئی جن یا شیطان کسی اور شکل میں آ کر جھوٹ بول سکتا ہے کہ "میں رسول اللہ ﷺ ہوں"، لہٰذا ایسے دعووں پر یقین نہیں کیا جائے گا۔ --- 2) محشر میں حضور ﷺ تمام مومنین کی شفاعت فرمائیں گے اور پھر ندا دیں گے کہ کوئی مومن باقی نہ رہا، یہ روایت کیسی ہے؟ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کو شفاعتِ کبریٰ عطا ہوگی اور آپ ﷺ کی شفاعت سے بے شمار گناہگار مسلمان بخشے جائیں گے۔ قرآن مجید میں ہے: > "عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔" (سو...