نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

محرم الحرام میں مکان کا افتتاح

🌹 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌹

دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات

محرم الحرام میں شادی، مکان کا افتتاح اور دیگر جائز کاموں کا شرعی حکم

السؤال:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ محرم الحرام میں شادی کرنا، نکاح پڑھانا، نئے مکان کا افتتاح کرنا، گھر میں داخل ہونا، کاروبار شروع کرنا یا دیگر خوشی کے کام انجام دینا جائز نہیں۔ بعض لوگ اس مہینے کو نحوست والا مہینہ سمجھتے ہیں۔ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں 

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور اشہرِ حرم میں سے ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ حکم موجود نہیں کہ اس مہینے میں نکاح، شادی، مکان کا افتتاح، نئے گھر میں منتقل ہونا یا دیگر جائز کام کرنا ممنوع ہو۔ بلکہ شریعتِ مطہرہ ہر وقت نیکی اور جائز کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾

ترجمہ: "نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔"

(سورۃ البقرۃ، آیت: 148)

نیز ارشاد فرمایا:

﴿وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

ترجمہ: "اور نیکی کے کام کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔"

(سورۃ الحج، آیت: 77)

نبی کریم ﷺ نے بدشگونی اور نحوست کے عقیدے کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

«لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ»

ترجمہ: "بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔"

(صحیح البخاری، کتاب الطب، باب لا ھامۃ، حدیث: 5757)

(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب لا عدوی ولا طیرۃ، حدیث: 2220)

اور نبی کریم ﷺ نے محرم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ»

ترجمہ: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔"

(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، حدیث: 1163)

اگر محرم نحوست والا مہینہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے "شہر اللہ المحرم" فرما کر اس کی فضیلت بیان نہ فرماتے۔

مزید برآں، سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بدشگونی کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

"شرعِ مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے، شریعت میں حکم ہے: اذا تطيرتم فامضوا یعنی جب کوئی شگونِ بد گمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔ وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ یہ دعا پڑھیں:

اللّٰهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ

پھر اپنے رب پر بھروسہ کرکے اپنے کام کو چلا جائے، ہرگز نہ رکے اور نہ واپس آئے۔"

(فتاویٰ رضویہ، جلد 29، صفحہ 478، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

لہٰذا محرم الحرام میں شادی کرنا، نکاح پڑھانا، مکان کا افتتاح کرنا، گھر میں داخل ہونا، کاروبار شروع کرنا اور دیگر تمام جائز کام انجام دینا شرعاً جائز ہے۔ ان کاموں کو ناجائز یا ممنوع سمجھنا یا محرم کو نحوست والا مہینہ قرار دینا قرآن و حدیث اور فتاویٰ اہلِ سنت سے ثابت نہیں۔

البتہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو یاد کرنا، ان کے فضائل بیان کرنا اور ان سے محبت رکھنا اہلِ سنت کا شعار ہے، مگر اس کی وجہ سے شریعت نے کسی جائز کام کو حرام یا ممنوع قرار نہیں دیا۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...