نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

محرم الحرام میں باجا بجانے

الجواب وباللہ توفیق 
محرم الحرام حرمت و عظمت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں گناہوں سے بچنے، سنتوں پر عمل کرنے اور شہدائے کربلا خصوصاً سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کا حکم ہے، نہ کہ ناجائز رسموں، باجوں اور گمراہ فرقوں کے مذہبی شعائر کی اشاعت کا۔
اولاً: DJ اور باجوں کا حکم
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
"اور بعض لوگ لہو کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کریں۔"
(سورۂ لقمان، آیت: 6)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
"والله الذي لا إله غيره هو الغناء"
"اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس سے مراد گانا بجانا ہے۔"
(تفسیر طبری، تفسیر ابن ابی حاتم)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف"
"میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے۔"
(صحیح بخاری، کتاب الاشربۃ)
لہٰذا DJ، باجے اور موسیقی کا استعمال ناجائز و گناہ ہے، خصوصاً محرم الحرام میں اس کا اہتمام مزید قبیح ہے۔
ثانیاً: شیعہ نوحوں اور کلام کا حکم
اہل سنت کے نزدیک ایسے نوحے اور کلام جن میں روافض کے عقائد، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص، یا ان کے مذہبی شعائر کی ترویج ہو، ان کا سننا اور پھیلانا جائز نہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"روافض و مبتدعین کے مذہبی امور میں شرکت اور ان کے باطل مذہب کی تائید حرام ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ)

"بدمذہبوں کی ایسی مجلس میں جانا یا ایسا کام کرنا جس سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہو، ناجائز ہے۔"

لہٰذا شیعہ مذہب کی تبلیغ یا ان کے مذہبی شعار کے فروغ کے لیے نوحے اور کلام چلانا ناجائز ہے۔
ثالثاً: "شریعت دیکھے کہ نوجوانوں کی بات" کہنے کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ
"تمہارے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں تمہیں حاکم نہ مان لیں۔"
(سورۂ نساء، آیت: 65)
اور ارشاد فرمایا:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَّكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ
"کسی مسلمان مرد یا عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ فرما دیں تو پھر انہیں اپنے معاملہ میں کوئی اختیار باقی رہے۔"
(سورۂ احزاب، آیت: 36)
ان آیات سے ثابت ہوا کہ شریعت ہر مسلمان پر مقدم ہے۔
لہٰذا اگر مذکورہ شخص نے واقعی یہ جملہ اس معنی میں کہا کہ "نوجوانوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے شریعت کی پروا نہیں" تو اس نے سخت گناہ اور شریعت کے خلاف بات کی، اس کی مراد شریعت۔ کی اہمیت نہیں ہے اور نوجوانوں کی اہمیت ہے تو یہ کفر ہے اس پر توبہ لازم ہے۔ تجدید ایمان اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح لاذم 
 
رابعاً: "شیعوں کے کلام ہی بجا سکتے ہیں" کہنے والے کا حکم
اگر اس شخص کا مقصد صرف یہ کہنا ہو کہ ایسے انداز کے نوحے زیادہ تر شیعوں کے یہاں پائے جاتے ہیں تو یہ جہالت اور غلط بات ہے، کیونکہ اہل سنت کے پاس بھی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی منقبت و محبت میں بے شمار جائز کلام موجود ہیں۔
اور اگر اس کا مقصد شیعہ مذہب کی ترویج، حمایت یا ان کے باطل مذہبی شعائر کو فروغ دینا ہو تو وہ سخت گناہگار ہے اور اس پر توبہ لازم ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...