وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) کیا جنات حضورِ اکرم ﷺ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں؟
نہیں، جنات ہوں یا شیاطین، وہ حضور نبی کریم ﷺ کی حقیقی صورتِ مبارکہ اختیار نہیں کر سکتے۔
حدیثِ پاک میں ہے:
> "جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے واقعی مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔"
(Sahih al-Bukhari، کتاب التعبیر؛ Sahih Muslim)
علمائے کرام نے فرمایا کہ جب شیطان حضور ﷺ کی صورتِ مبارکہ اختیار نہیں کر سکتا تو جنات بھی آپ ﷺ کی حقیقی صورت اختیار نہیں کر سکتے۔ البتہ کوئی جن یا شیطان کسی اور شکل میں آ کر جھوٹ بول سکتا ہے کہ "میں رسول اللہ ﷺ ہوں"، لہٰذا ایسے دعووں پر یقین نہیں کیا جائے گا۔
---
2) محشر میں حضور ﷺ تمام مومنین کی شفاعت فرمائیں گے اور پھر ندا دیں گے کہ کوئی مومن باقی نہ رہا، یہ روایت کیسی ہے؟
اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کو شفاعتِ کبریٰ عطا ہوگی اور آپ ﷺ کی شفاعت سے بے شمار گناہگار مسلمان بخشے جائیں گے۔
قرآن مجید میں ہے:
> "عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔"
(سورۃ الضحیٰ: 5)
اور احادیثِ صحیحہ میں شفاعتِ کبریٰ، شفاعتِ اہلِ کبائر اور امت کی مغفرت کا تفصیلی بیان موجود ہے۔
البتہ یہ الفاظ کہ:
> "حضور ﷺ سدا لگائیں گے کہ کوئی مومن باقی نہیں رہا"
یا
> "فلاں مخصوص جملہ فرما کر اعلان کریں گے"
ان الفاظ کے ساتھ مجھے کوئی صحیح اور معتبر حدیث یاد نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی واعظ نے مختلف احادیث کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار کیا ہو، لیکن اسے حدیثِ نبوی ﷺ کہہ کر بیان کرنا درست نہیں جب تک معتبر حوالہ موجود نہ ہو۔
صحیح احادیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ شفاعتوں کے بعد جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکالے گا جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، یہاں تک کہ آخر میں اہلِ ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔
لہٰذا:
شفاعتِ رسول ﷺ برحق ہے۔
امتِ محمدیہ کے بہت سے گناہگار شفاعت سے نجات پائیں گے۔
مذکورہ مخصوص الفاظ کو حدیث کہنے کے لیے معتبر حوالہ ضروری ہے۔
حوالہ کے بغیر اسے حدیث یا قطعی روایت کے طور پر بیان نہ کیا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
جواب از: مفتی ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ، گجرات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com