نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

امام نماز کے بعد انحراف

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں دو امام ہیں ایک امام صاحب فجر میں کتاب پڑھنے کے بعد قبلہ کی داہنے طرف قعدہ میں بیٹھ کر دعا کرتےہیں،دوسرے امام صاحب کتاب پڑھنے کے بعد مصلیوں کی طرف منھ کرکے اور دونوں پیر بیچھاکر عام حالت میں جس طرح بیٹھتے ہیں اس طرح بیٹھ کر دعا کرتے ہیں،اب رہا مسئلہ یہ کہ ان دونوں میں سنت طریقہ کونسا ہے؟اور کس طرف اور کس طرح بیٹھ کردعا کرنا چاہئے؟اور کونسا طریقہ صحیحی ہے؟کیا دونوں کا طریقے صحیحی ہیں؟ جواب عنایت کریں عین نوازش ہوگی. فقط والسلام .عارف اللہ قادری رضوی.انڈیا وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق      سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں :’’بعدِ سلام (امام کا )قبلہ رو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے ، شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے،مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں اگرچہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو ،تو مشرق کو یعنی جانبِ مقتدیان منہ نہ کرے ، بہر حال پھرنا مطلو...

ताजिया के सामने फातिहा

[ताज़िये के सामने फ़ातेहा] दारुल इफ्ता गुलज़ारे तैय्यबा - 06:27 सवाल: जो इमाम ताज़िये के सामने फ़ातेहा पढ़ता हो उसके पीछे नमाज़ पढ़ने का हुक्म क्या है? अलजवाब वबिल्लाहित्तौफ़ीक़: सूरत-ए-मसऊला में ताज़िये के सामने फ़ातेहा पढ़ना दुरुस्त तरीका नहीं बल्कि जहालत व ग़लत रिवाज में शुमार होता है। आला हज़रत, इमामे अहले सुन्नत, मुजद्दिदे दीनो मिल्लत, इमाम अहमद रज़ा ख़ाँ क़ादरी रहमतुल्लाहि अलैह फ़रमाते हैं: "फ़ातेहा जायज़ है जिस चीज़ पर हो, मगर ताज़िये पर रखकर या उसके सामने होना जहालत है। ताज़िये से जुदा, ख़ालिस सच्ची नियत से हज़राते शुहदाए किराम की नियाज़ हो।" (फ़तावा रज़विया, जिल्द 24, सफ़्हा 499) फ़रमाते हैं उलमाए किराम इस मसअला ज़ैल में कि अगर किसी शख़्स ने ताज़िया बनाने की मन्नत मानी तो क्या वह अपनी मन्नत पूरे करे या अगर उस मन्नत की जगह सदक़ा वग़ैरह करना चाहे तो क्या यह सदक़ा करना दुरुस्त होगा? तफ़सील के साथ जवाब इनायत फ़रमाएँ। मुरव्वजा ताज़िया बनाने की मन्नत मानना जायज़ नहीं है। यह शरई नज़्र नहीं है इसलिए पूरा करना ज़रूरी नहीं है। सदक़ा देना भी ज़रूरी नहीं है। अलबत्ता नज़्र व मन्न...

تعزیہ کے سامنے فاتحہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) تعزیہ رایجہ مجمع بدعات شنعیہ سیہ ہے'اس کا بنانا دیکھنا جایز نہیں اور تعظیم و عقیدت سخت حرام و بدعت (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 489) لہٰذا شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد میں ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور نیاز کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن تعزیہ کو سامنے رکھ کر یا اس کی طرف متوجہ ہو کر فاتحہ پڑھنا شرعی طریقہ نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی غلط رسموں سے بچے اور اپنی عبادت و نیاز کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور شہدائے کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے انجام دے۔  *تشریح* : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے نام ...

حدیث مسلم کا قصہ بدعت حسنہ

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔ مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالانکہ...

دن میں نیا طریقہ ایجاد کرنا

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔ مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالا...

محرم کو تمباکو کھانا

محرم کو تمباکو نوشی دارالافتا۶ گلزار طیبہ - 08:46 الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں محرم کو تمباکو جس میں خوشبو ہو کھانا مکروہ ہے مگر اس سے دم لازم نہیں آتا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ) خوشبو بالوں   ،یا() بدن ،یا() کپڑوں   میں   لگانا۔ جایز نہیں   خالص خوشبو مشک، عنبر، زعفران، جاوتری، لونگ، الائچی، دار چینی، زنجبیل وغیرہ کھانا۔ (بہار شریعت حصہ ششم)  بہار شریعت اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کھانے میں وہ چیز منع ہے جس میں خوشبو غالب ہو تو دم لازم اے گا لیکن مسالہ ماوا میں باغبان کی تمباکو ملاتے ہیں جس کی خوشبو مغلوب ہے' لہٰذا دم لازم نہیں آتا مگر کرات پھر بھی ہے' ہو سکے تو بچنے کی کوشش کریں واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ : अलजवाब वबिल्लाहि तौफ़ीक़: सूरत-ए-मस्ऊला में एहराम की हालत में ऐसे तम्बाकू या मावा का इस्तेमाल जिसमें खुशबू मिली हुई हो मकरूह है लेकिन उससे दम लाज़िम नहीं आता। फ़क़ीहे मिल्लत सद्रुश्शरीअह हज़रत मुफ़्ती अमजद अली आज़मी अलैहिर्रहमा फ़रमाते हैं: "खुशबू को बालों बदन या कपड़ों में ल...

جاہلوں سے بحث نہ کرے

السلام علیکم حضرت صاحب آج کل عوام کو کوئی شریعت کا مسئلہ بتایا جاتا ہے تو عوام بحث اور جھگڑا کرنا شروع کر دیتی ہے- جیسے تعزیہ داری وغیرہ- اس کا آسان حل ہو تو بتا دیجیئے ابراھیم خان، راجستھان، انڈیا الجواب وباللہ التوفیق: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اگر عوام کو کوئی شرعی مسئلہ بتایا جائے اور وہ بحث و جھگڑا شروع کر دیں تو ایسے موقع پر صبر، حکمت اور نرمی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ شریعت نے بے فائدہ جھگڑوں اور کج بحثی سے منع فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کرو۔" (سورۃ النحل، آیت: 125) اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ترجمہ: "اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔" (سورۃ الفرقان، آیت: 63) احادیثِ مبارکہ میں بھی جھگڑے اور بے فائدہ بحث سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گی...