نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حدیث مسلم کا قصہ بدعت حسنہ

الجواب وباللہ التوفیق

صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔

شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔

مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالانکہ سنتوں کا وقت اور مشروعیت سب کو معلوم تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک غیر ثابت عمل عوام کے نزدیک گویا ضروری حیثیت اختیار کر گیا ہے، جو قابلِ اصلاح ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم حدیث بھی قابلِ غور ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرمایا۔ جمعہ کا دن تھا، ان کے ساتھی صبح ہی روانہ ہوگئے، لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ پہلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ ادا کرلوں پھر لشکر سے جا ملوں گا۔ چنانچہ جب انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ جمعہ ادا کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح ہی کیوں نہ چلے گئے؟"

انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے چاہا کہ آپ کے ساتھ نماز ادا کرلوں پھر ان سے جا ملوں۔

اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"اگر تم روئے زمین کی تمام چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تب بھی اپنے ساتھیوں کے صبح سویرے روانہ ہونے کے ثواب کو نہیں پاسکتے۔"

(شرح صحیح مسلم، جلد 2، ص 583)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادات اور نیکیوں میں اپنی طرف سے اضافہ یا اپنی رائے کو ترجیح دینا مطلوب نہیں، بلکہ اصل فضیلت اسی میں ہے کہ جس طریقے کو شریعت نے مقرر فرمایا ہے اسی پر عمل کیا جائے۔ لہٰذا اذان کے بعد "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کا مستقل اعلان کرنا جبکہ اس کی کوئی اصل شریعت میں موجود نہیں، قابلِ ترک اور بدعتِ اضافیہ کے زمرے میں داخل ہے۔

لہٰذا ائمہ و مؤذنین کو چاہیے کہ اس قسم کے غیر ثابت اعلانات سے اجتناب کریں اور عوام کو سنتِ نبویہ کے مطابق عمل کی ترغیب دیں، تاکہ دین میں کسی نئی رسم یا عادت کو عبادت کا حصہ سمجھنے کا دروازہ نہ کھلے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

دارالافتاء گلزار طیبہ

مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب

بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...