نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جولائی 31, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بدمذہب سے نکاح

بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوہاب سوال: کیا صحیح العقیدہ سنی لڑکا، دیوبندی، وہابی، اہلِ حدیث یا دیگر بدمذہب فرقے کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے؟ اگر نکاح کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے نکاح میں شریک ہونے والوں کا کیا حکم ہے؟ الجواب: صحیح العقیدہ اہلِ سنت و جماعت پر لازم ہے کہ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرے اور نکاح جیسے اہم معاملہ میں بھی صحیح العقیدہ اہلِ سنت ہی کو اختیار کرے۔ اگر کوئی لڑکی ایسے عقائد رکھتی ہو جن کی وجہ سے وہ شرعاً اسلام سے خارج ہو، تو اس سے مسلمان کا نکاح باطل ہے، منعقد ہی نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ "اور کافر عورتوں کے نکاح کو اپنے قبضہ میں نہ رکھو۔" (سورۂ ممتحنہ: 10) اور اگر وہ اسلام سے خارج نہ ہو لیکن گمراہ، بدعتی اور بدمذہب ہو، تو اس سے نکاح کرنا سخت ناجائز، مکروہِ تحریمی اور دین و ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بدمذہب تمام لوگوں اور تمام جانوروں سے بدتر ہیں۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 129) نیز رسول الل...