نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جولائی 17, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ناد علی

*(ناد علی شیعوں کی من گھڑت روایت ہے)* ناد علی بڑی ہی مشہور و معروف دعا ہے جس کا اہل شیعہ اور بعض صوفیائے کرام میں خوب ورد و وظائف کیا جاتا ہے۔ اوراد و وظائف کی کتب میں اس کی خوب فضیلت بیان کی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کی سند کو بڑی مضبوط قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ سند مضبوط ہونا تو دور کی بات ہے، سرے سے اس کی کوئی معتبر سند ہی موجود نہیں۔ ناد علی کو تقریباً نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان جنگ بدر کے واقعے کے تحت گھڑا گیا ہے، اسی وجہ سے ابتدائی محدثین جیسے امام ابن حجر عسقلانی، علامہ ابن عبد البر، امام ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثین کے اقوال میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ہزار ہجری اور اس کے بعد کے بعض محدثین نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ یہ شیعوں کی گھڑی ہوئی روایت ہے۔ ابن حجر عسقلانی، امام ذہبی، ابن عبد البر اور دیگر ابتدائی اور متقدم محدثین جو 800 ہجری سے پہلے کے ہیں، کے اقوال میں ناد علی کا ذکر نہ ملنے کی وجہ یہی ہے کہ یہ روایت نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان کے عرصے میں گھڑی گئی تھی۔ اس سے پہلے یہ روایت موجود ہی نہیں تھی، اس لیے ان جلیل القدر ع...

औलिया से मदद मांगने

✍️ लेखक की ओर से बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम अल्हम्दुलिल्लाहि रब्बिल आलमीन, वस्सलातु वस्सलामु अला सय्यिदिल मुर्सलीन, अम्मा बाद! इस छोटे से रिसाले को लिखने का मक़सद किसी से बहस करना या इख़्तिलाफ़ फैलाना नहीं है, बल्कि अहल-ए-सुन्नत के सही अक़ीदे को क़ुरआन, हदीस और अइम्मा-ए-अहल-ए-सुन्नत की तालीमात की रौशनी में वाज़ेह करना है, ताकि मुसलमान औलिया-ए-अल्लाह के मज़ारात पर हाज़िरी का सही मक़सद, उसके शरई आदाब और औलिया-ए-अल्लाह से इस्तिआनत (मदद तलब करने) के सही तरीक़े को समझ सकें। आज हमारे समाज में मुसलमानों की एक बड़ी तादाद मज़ारात पर हाज़िरी तो देती है, लेकिन ज़ियारत का शरई तरीक़ा, ईसाल-ए-सवाब, दुआ, वसीला और नज़र-ओ-नियाज़ के अहकाम से नावाक़िफ़ है। इसी नावाक़िफ़ी की वजह से कुछ लोग ऐसे आमाल में पड़ जाते हैं जो शरीअत के ख़िलाफ़ हैं, जैसे क़ब्र को सज्दा करना, क़ब्र का तवाफ़ करना, साहिब-ए-क़ब्र के नाम की नज़र मानना, या ऐसे अल्फ़ाज़ कहना जिनसे ग़लत अक़ीदे का शुब्हा पैदा हो। दूसरी तरफ़ कुछ बदमज़हब फ़िर्क़े इन्हीं ग़लत आमाल को बहाना बनाकर पूरे अहल-ए-सुन्नत पर "क़ब्र-परस्त" होने का इल्ज़ाम लगाते ...

اولیاء اللہ سے استعانت

مصنف کی گزارش بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید المرسلین، أما بعد! اس مختصر رسالے کو تحریر کرنے کا مقصد کسی سے مناظرہ کرنا یا اختلاف کو ہوا دینا نہیں، بلکہ صحیح عقیدۂ اہلِ سنت کو قرآن و سنت اور ائمۂ اہلِ سنت کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کرنا ہے، تاکہ مسلمان مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے شرعی آداب، حدود اور اولیاء اللہ سے استعانت کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے مسلمانوں کی ہے جو مزارات پر حاضر تو ہوتی ہے، مگر شرعی طریقۂ زیارت، ایصالِ ثواب، دعا، وسیلہ اور نذر و نیاز کے احکام سے ناواقف ہے۔ اسی ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ ایسے اعمال میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہیں، مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا، ان کا طواف کرنا، صاحبِ مزار کے نام کی نذر ماننا یا ایسے الفاظ کہنا جن سے غلط عقیدے کا شبہ پیدا ہو۔ دوسری طرف بعض بد مذہب گروہ انہی غلط اعمال کو بنیاد بنا کر پورے اہلِ سنت پر "قبر پرست" ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں، حالانکہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہرگز یہ نہیں۔ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، حقیقی ن...