وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق
نماز میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کے حوالے سے یہ کہنا کہ لوگ بغل میں بت رکھتے تھے اور انہیں گرانے کے لیے رفع الیدین کیا جاتا تھا، بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور لغو بات ہے۔ اس کا احادیث یا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔محدثین اور فقہاء کے مطابق یہ دعویٰ کئی وجوہات سے غلط ہے:تاریخی حقیقت: بت پرستی مکہ مکرمہ میں تھی۔ جب مدینہ منورہ میں نماز باجماعت فرض ہوئی، تب وہاں کوئی بت پرست یا منافق مسجد میں بت چھپا کر نہیں لاتا تھا۔حکمت عملی کا تضاد: اگر بتوں کو گرانا ہی مقصد ہوتا تو رکوع یا سجدے میں جھکتے وقت بت خود ہی گر جاتے، اس کے لیے بار بار ہاتھ اٹھانے (رفع الیدین) کی ضرورت نہیں تھی۔علمِ غیب: اگر لوگ بغل میں بت چھپا کر لاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر رفع الیدین کے بھی وحی کے ذریعے اس حقیقت سے آگاہ ہو سکتے تھے۔اختلافی مسائل کا پس منظر:رفع الیدین نماز میں سنت ہے یا یہ عمل بعد میں منسوخ ہو گیا، یہ فقہی اور علمی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس کا بتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حالانکہ پہلے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین صحیح احادیث سے ثابت ہے حضرت ابو حمید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ تکبیر تحریمہ میں اور رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے (شرح صحیح مسلم جلد اول صفحہ 1108) پھر یہ حکم منسوخ کر دیا گیا جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو سرکش گھوڑوں کی دومو کی طرح رفع یدین کرتے ہوئے دیکھتا ہوں نماز سکون کے ساتھ پڑھو اس حدیث میں رفع یدین سے منع کیا گیا ہے (شرح صحیح مسلم اول صفحہ 1111) واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com