الجواب وباللہ توفیق
نخاع الصلب“ یعنی ریڑھ کی ہڈی میں موجود سفید ڈورے کی طرح کا گودا جسےاردومیں ”حرام مغز“ کہتے ہیں ، اس کا کھانا مکروہ (تنزیہی) ناپسندیدہ ہے۔ لہذاگوشت پکاتے ہوئے نکالناممکن ہو تو پہلے ہی نکال دیا جائے۔ اور اگر کھانے میں یہ پک گیا تو اس کی وجہ سے سالن میں کوئی کراہت نہیں آئے گی البتہ کھاتے وقت احتیاط کی جائے اور اسے کھایا نہ جائے ۔
وہ عبارات جن میں”نخاع الصلب“ کی مطلق کراہت مذکور ہے:
تفصیل کچھ یوں ہے کہ کئی کتبِ فقہ میں نخاع الصلب(حرام مغز) کی کراہت مذکور ہے۔جیسا کہ علامہ ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ (وفات: 1174ھ) اپنی کتاب" فاكهة البستان" میں لکھتے ہیں :
”وذكر في بیان الأحکام: نشاید خوردن پشتِ مازہ کہ جائے گاہ مني است، كذا في كنز العباد. وهو نخاع الصلب الذي يقال له بالفارسية "حرام مغز". وقد صرح بكراهة أكله في معدن الكنز ونصاب الإحتساب وغیرھما “
یعنی بیان الاحکام میں ذکر ہے:” پشتِ مازہ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ یہ منی کا مقام ہے، جیسا کہ کنز العباد میں بھی آیا ہے۔“ اور یہ وہی نخاع الصلب ہے جسے فارسی میں "حرام مغز" کہتے ہیں۔ اس کی کراہت کا ذکر معدن الكنز اور نصاب الاحتساب وغیرہ کتابوں میں ہے۔(فاكهة البستان، ص172، دار الکتب العلمیہ،بیروت)
اور طحطاوی علی الدر میں ہے : وزید نخاع الصلب یعنی مکروہ اجزاء میں حرام مغز کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ (طحطاوی علی الدر، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد4،صفحہ360، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اپنے دوفتاوی میں حرام مغز کی کراہت کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ ایک مقام پر لکھتے ہیں :”حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں ۔۔۔ (8) حرام مغز ۔۔۔الخ “(فتاویٰ رضویہ، جلد20، صفحہ، 241، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
یونہی دوسرے مقام پر حلال جانو ر کے مکروہ اجزاء شمار کرتے ہوئے اولاً حدیث میں بیان کردہ سات اجزاء کاذکر کیا اور پھر لکھا: ”۔۔۔۔۔۔اور علامہ قاضی بدیع خوارزمی صاحب غنیہ الفقہاء وعلامہ شمس الدین محمد قہستانی شارح نقایہ وعلامہ محمد سیدی احمد مصری محشی درمختار وغیرہم علماء نے دو چیزیں اور زیادہ فرمائیں (۸) نخاع الصلب یعنی حرام مغز۔ اس کی کراہت نصاب الاحتساب میں بھی ہے ۔۔۔۔۔۔بحرالمحیط میں ہے:
الغدد والذکروالانثیان والمثانۃ و العصبان اللذان فی العنق والمرارۃ والقصید مکروہ اھ ملخصا۔
غدود، ذکر، خصیے، مثانہ، گردن کے دو پٹھے، پتہ، پیٹھ کاگودا مکروہ ہیں اھ ملخصا (ت) “(فتاوی رضویہ،جلد 20، صفحہ236 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مذکورہ بالا عبارات میں حرام مغز کی مطلق کراہت کا ذکر تو ہمیں مل جاتا ہے لیکن ان عبارات میں کراہت کے تنزیہی یا تحریمی ہونےکی وضاحت نہیں ہے۔ البتہ دیگر کئی فقہاء کرام نے اس کراہت کے تنزیہی ہونے کی صراحت کی ہے چنانچہ
وہ عبارات جن میں مکروہ تنزیہی ہونےکی صراحت ہے:
جامع الرموز کتاب الذبائح میں ہے:
النخاع مثلثۃ وھو خیط ابیض فی جوف الفقار ینحدر من الدماغ یقال بالعربیۃ خیط الرقبۃ وبالفارسیۃ ”حرام مغز“ وان کرہ کراھۃ تنزیۃ
لفظ "نخاع" کے نون پر تینوں حرکات پڑھی جا سکتی ہیں۔ اور یہ ایک سفید ریشہ ہے جو ریڑھ کی ہڈی کے اندر دماغ سے نیچے کی طرف اترتا ہے، اسے عربی میں "خیط الرقبہ" اور فارسی میں "حرام مغز" کہا جاتا ہے۔ اور(اس کا کھانا) مکروہ تنزیہی ہے۔(جامع الرموز، کتاب الذبائح، جلد3، صفحہ344، ایچ ایم سعید کراچی)
اس عبارت کے تحت حاشیہ غواص البحرین میں ہے:
” وانما غايته كراهة التنزيه “
یہ زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے۔واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com