*(حضرت قاسم ابن حسن کا تعویذ اور کربلا میں شادی)*
حضرت قاسم کے بارے میں بعض کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے آپ کو جب میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہ ملی تو آپ کے تعویذ بندھا ہوا تھا اس کو کھولا گیا تو اس میں لکھا ہوا تھا ان کو جنگ کے میدان میں جانے دیا جاۓ اور یہ تعویذ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا، حالانکہ یہ بلکل جھوٹ و منگھڑت ہے لوگوں کی بناوٹی کہانی ہے محض افسانہ ہے، صحیح یہ ہے جو کہ شیعوں اور اہلسنت کی معتبر کتب میں لکھا ہے کہ آپ میدان جنگ میں جاتے ہیں اور شہید ہو جاتے ہیں۔ تعویذ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے مقتل ابو مخنف میں بھی صرف شہادت کا ذکر ہے، اور اسی طرح یہ بھی بیان کیا جاتا ہے حضرت قاسم کی شادی کربلا میں امام عالی مقام نے اپنی بیٹی سے کردی تھی حالانکہ یہ بھی جھوٹ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ شیعوں نے بھی اسے غیر معتبر قرار دیا ہے اس کو سب سے پہلے ملا حسین کاشفی نے روضتہ الشہداء میں شادی ہونے کا شوشہ چھوڑا اس سے پہلے یہ کہیں نہیں ملتا کہ آپ کی شادی ہوئی ہو میدان کربلا میں جلاء العیون میں مجلسی نے لکھا ہے میں نے اس کو کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں پایا اسی طرح لؤ لؤ والمراجان میں بھی اس کی نفی کی گئ ہے شادی ہونے کا شوشہ 1000 ھ میں چھوڑا گیا اس سے پہلے اس کا وجود نہ تھا بعض شیعوں نے کہا ہے جس سے شادی ہونا بتایا جاتا ہے اس کا نام زبیدہ ہے لیکن امام عالی مقام کی زبیدہ نام کی کوئی لڑکی تھی ہی نہیں بعض شیعوں نے کہا ہے اس کو 500 یا 600 ھ میں نقل کیا گیا ہے، امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہ یہ شادی ثابت ہے نہ یہ مہندی سوا اختراع اختراعی کے کوئی چیز یعنی یہ بنائی ہوئی چیز ہیں،۔ فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 502📕،۔
علامہ محمد علی نقشبندی نے میزان الکتب میں لکھا ہے۔یہ تمام باتیں منگھرت ہیں اور اہلبیت پر بہتان عظیم ہے امام حسین کی دو صاحب زادیاں تھی اور واقعہ کربلا سے پہلے دونوں کی شادی ہو چکی تھی
میزان الکتب صفحہ 246📚
بہر حال یہ شادی کا واقعہ منگھڑت محض ایک افسانہ ہے جو کہ گھڑا گیا ہے جس کا مقصد صرف لوگوں کو رلانا ہے اس کا بیان کرنا ناجائز ہے
فقیر محمد دانش حنفی
ہلدوانی نینیتال
+919917420179
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com