بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
السؤال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک عورت طلاق یافتہ ہے اور عدت پوری کر چکی ہے۔ اب وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کی برادری میں مناسب رشتہ نہیں مل رہا۔ مثال کے طور پر عورت پٹھان برادری سے ہے جبکہ ایک دیندار اور مناسب لڑکا انصاری برادری میں موجود ہے، مگر والدین صرف برادری کی بنیاد پر اس نکاح پر راضی نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ شادی اپنی ہی برادری میں ہوگی۔
ایسی صورت میں اگر عورت کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا حکم ہے؟ کیا بالغ، عاقل اور طلاق یافتہ عورت اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے؟ قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
سائل: ابراہیم خان
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر عورت بالغ، عاقل ہو اور اپنی عدت مکمل کر چکی ہو تو شریعتِ اسلامیہ نے اسے نکاح کے معاملہ میں ایک خاص اختیار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَّنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾
ترجمہ: "تم انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے (پسند کے) شوہروں سے نکاح کر لیں، جبکہ وہ دستور کے مطابق آپس میں راضی ہوں۔"
(سورۃ البقرہ: 232)
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ولی کو محض اپنی خواہش، خاندانی رسم یا برادری کی بنیاد پر عورت کو مناسب نکاح سے روکنے کا حق نہیں۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
"امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بالغہ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے۔ ان کا استدلال بھی اسی آیت سے ہے، کیونکہ اس آیت میں نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے اور انہیں نکاح سے روکنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس لیے کہ نکاح ان کا حق ہے، لہٰذا ان کا یہ تصرف صحیح ہے۔"
(تبیان القرآن)
اسی مسئلہ پر احادیثِ مبارکہ بھی دلالت کرتی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الأيم أحق بنفسها من وليها."
ترجمہ: "بیوہ (یا طلاق یافتہ) عورت اپنے نکاح کے معاملہ میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔"
(صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بیوہ کا نکاح اس کی رائے کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا، جبکہ وہ بیوہ تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس نکاح کو رد فرما دیا۔
(صحیح بخاری)
امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے اس نکاح کو برقرار نہیں رکھا اور اسے اختیار دیا۔
(المصنف لابن أبي شيبة)
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے فقہِ حنفی کے موقف کو نقل کرتے ہوئے یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ غیر کفو میں نکاح کرنا بھی فی نفسہٖ جائز ہے، اگرچہ کفاءت کا باب معاشرتی مصالح سے متعلق ایک الگ فقہی بحث ہے، نہ کہ کسی ذات یا نسل کی شرعی فضیلت کا معیار۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
ترجمہ:
"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔"
(سورۃ الحجرات: 13)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اصل فضیلت ذات، نسل، برادری یا قبیلہ نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ اگرچہ فقہِ اسلامی میں کفاءت کا مسئلہ ایک مستقل فقہی باب ہے جس کا مقصد خاندانی نزاعات سے بچنا ہے، نہ کہ کسی برادری کی شرعی برتری ثابت کرنا۔
خلاصۂ کلام:
اگر عورت بالغ، عاقل، طلاق یافتہ ہو، عدت مکمل کر چکی ہو، اور جس شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہو وہ مسلمان، صحیح العقیدہ، دیندار اور نکاح کے شرعی موانع سے خالی ہو، تو محض برادری، ذات یا قبیلے کی بنیاد پر اس کے نکاح میں رکاوٹ ڈالنا شرعاً درست نہیں، خصوصاً جبکہ اس کے گناہ میں مبتلا ہونے کا حقیقی اندیشہ ہو۔
لہٰذا والدین کو چاہیے کہ محض غیر شرعی رسم و رواج یا برادری کی بنیاد پر نکاح میں رکاوٹ نہ بنیں، بلکہ دینداری، حسنِ اخلاق اور شرعی اوصاف کو ترجیح دیں۔ اگر والدین صرف برادری کی وجہ سے انکار کریں اور عورت کو فتنۂ گناہ میں مبتلا ہونے کا حقیقی اندیشہ ہو، تو فقہِ حنفی کے مطابق بالغ و عاقل عورت کو اپنے نکاح کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم حتی الامکان والدین کو حکمت، حسنِ اخلاق اور نرمی کے ساتھ راضی کرنے کی کوشش کرنا، خاندانی اختلاف سے بچنا، اور ان کی رضامندی کے ساتھ نکاح کرنا زیادہ بہتر، باعثِ برکت اور صلۂ رحمی کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ: مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
🌹 بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com