نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

طبری شیعہ تھا

*طبری نے حضرت امیر معاویہ پر لعنت کیوں بھیجی*

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ امام طبری نے حضرت امیر معاویہ پر لعنت ہو لکھا ہے اس بارے میں رہنمائی فرمائے ،،،

مصباح الدین

و علیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

الجواب ھو الھادی الی الصواب

ابن جریر طبری شیعہ سنی کے درمیان متنازع شخصیت ہے، طبری کا جھکاؤ شیعہ کی طرف تھا طبری کا بھانجا خود اپنے ان اشعار میں فخریہ انداز میں ذکر کرتا ہے
با مل مولدی و بنو جریر فاخو الی و یحکی المرء خالہ فھا انا رافضی عن کلا لہ
(الکنی والا لقاب جلد اول)
ترجمہ مقام مل میری جاۓ پیدائش ہے, اور جریر کے بیٹے میرے ماموں ہے، اور آدمی اپنے ماموں کے مشابہ ہوتا ہے،ہاں ہاں میں جدی پشتی شیعہ ہوں اور میرے سوا شیعہ کہلانے والا جدی پشتی نہیں بلکہ دور کا شیعہ ہے اس شعر میں خود اقرار کیا یے ابن جریر طبری شیعہ ہے اس لیے جو بات طبری کی عقائد اہلسنت کے موافق ہوں گی ،
 اس کو تو ہم قبول کرسکتے ہیں، لیکن اگر طبری کی کوئی بات عقائد اہلسنت کے خلاف ہوگی اس کو ہم قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا جس روایت کے تعلق سے آپنے سوال کیا یے، 

طبری نے دو جگہ سیدنا امیر معاویہ پر لعنت بھیجی ہے، میں ایک مقام کا ذکر کرتا ہوں ،، طبری 13 جلد میں اس طرح لکھتے ہے،،
و قد روی نوفل بن معاویہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم و تو فی نوفل بالمدینتہ فی خلافتہ یزید بن معاویہ لعنھما اللہ
ترجمہ نوفل بن معاویہ نے نبی علیہ السلام سے روایت حدیث کی ہے، اور یہ نوفل مدینہ منورہ میں، یزید بن معاویہ 
(،ان دونوں پر لعنت ہو) ،کی خلافت  کے دوران فوت ہوا
اس میں طبری نے سیدنا امیر معاویہ پر لعنت کی ہے، اور یہ عقیدہ اور فعل ہر گز کسی  سنی کا نہیں ہو سکتا اس سے بھی  طبری کی شیعیت ظاہر ہوتی ہے اس کے علاوہ اور جگہ۔ طبری میں ہی سیدنا امیر معاویہ پر لعنت بھیجی ہے،،

تاریخ طبری میں طبری نے ایسی روایات بھی ذکر کی ہیں جو اہلسنت کے عقائد کے خلاف ہیں، ان ہی روایات کو شیعہ سنیوں کو دکھاکر گمراہ کرنا چاہتے ہیں 

اوپر مذکورہ روایات بھی اسی کا حصہ ہے، طبری میں ایک اور روایت موجود ہے، جس میں حضرت عمر آگ لیکر حضرت عائشہ کے گھر کو جلانے کے لیے گۓ کسی نے کہا یہاں حضرت فاطمہ بھی ہے ، تو جواب دیا ہوا ہو اور یہ سب اس وجہ سے کیا کچھ لوگوں نے حضرت ابو بکر کی خلافت بیعت کا انکار کیا تھا یہ روایت بھی اہلسنت کے عقائد کے خلاف ہے،اور اس سے بھی طبری کی شیعیت ظاہر ہو رہی ہے نیز طبری شیعہ حضرات کے لیے حدیث گھڑھتا تھا ،،
لسان المیزان  اور میزان اعتدال میں یے،،

احمد ابن علی السلیمانی الحافظ  فقال کان یضع للروافض 
ترجمہ حافظ احمد بن علی سلیمانی کہتے ہیں ، کہ ابن جریر رافضیوں کے لیے حدیث گھڑا کرتا تھا

البدایہ و النہایہ میں ہے طبری کو 86 سال کی عمر میں انتقال ہوا اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا گیا، حنبلی لوگوں نے اسے شیعہ کی طرف منسوب کیا، طبری کو ان کے گھر میں دفن کیا گیا،،

اسی البدایہ و النہایہ میں ہے
طبری وضو کے دوران پاؤں کے مسح کا قول کیا کرتا تھا یعنی پاؤں کو دھویا نہ جاۓ ،،یہ بات اس کی بہت مشہور تھی،
انہ کان یقول بجواز مسح القدمین فی الوضوء و انہ لا یجب غسلھما وقد اشتھر عنہ ھذا،،
اس کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کیا کی پاؤں کا مسح کا قول کیا کرتا تھا،،
شیعہ سنی میں جہاں عقائد کا اختلاف ہے ،،وہی اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے،اہلسنت وضو میں پاؤں دھونے کے قائل ہیں، اور شیعہ مسح کرنے کے قائل ہیں
اور ابن جریر طبری فرماتے ہیں

،ابن جریر طبری نے تفسیر طبری جلد 2 میں لکھا ہے، 
ہمارے نزدیک پاؤں کا مسح کرنا صحیح ہے ،اللہ نے پاؤں کو دھونے کا نہیں بلکہ مسح کرنے کا حکم دیا ہے،،

ان سب دلائل سے واضح ہوجاتا ہے ابن جریر طبری کا میلان شیعہ کی طرف تھا، لہذا طبری کی اگر کوئی بات عقائد اہلسنت کے خلاف ہوگی تو اس کو ہر گز قبول نہیں کیا جاۓ گا سوال میں جس روایت کے تعلق سے پوچھا وہ اہلسنت کے عقائد کے خلاف ہے، اس لیے اس کو ہر گز قبول نہیں کیا جاۓ گا 

واللہ اعلم بالصواب 
فقیر محمد  دانش حنفی
ہلدوانی نینیتال 

9917420179📲

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...