نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مصافحہ اور دست بوسی

مصافحہ اور دست بوسی: حقیقت، فضیلت اور ہماری ذمہ داری

قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تفصیلی مضمون

اللہ تعالیٰ نے اسلام کو محبت، بھائی چارے اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے والا دین بنایا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو مٹانے اور آپس میں محبت بڑھانے کے لیے شریعت نے کئی طریقے بتائے ہیں۔ انہی میں سے ایک مصافحہ (ہاتھ ملانا) اور دوسرا دست بوسی (ہاتھ چومنا) ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ان دونوں مسائل میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ کچھ لوگ دست بوسی کو ایسا ضروری سمجھ بیٹھے ہیں کہ جو شخص دست بوسی نہ کرے، اسے بے ادب اور گستاخ تک کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ شریعت کا حکم اس سے مختلف ہے۔

مصافحہ کی فضیلت

1- گناہوں کی معافی

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

📚 (سنن ابی داؤد، حدیث: 5212، سنن ترمذی، حدیث: 2727)

2- دلوں کی صفائی اور مغفرت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو مسلمان اپنے بھائی سے اس حال میں مصافحہ کرے کہ ان دونوں میں سے کسی کے دل میں دوسرے کے خلاف کوئی کینہ نہ ہو، تو ان کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کے گزشتہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔"

📚 (شرح صحیح مسلم، جلد 7، صفحہ 107)

3- مصافحہ سنتِ صحابہ ہے

حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ مصافحہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔"

📚 (صحیح بخاری، حدیث: 6263)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مصافحہ ایک مبارک سنت ہے اور اس کے بے شمار فضائل ہیں۔


دست بوسی کا ثبوت

1- نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھ چومنا

حضرت زارع عبدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم آپ کے ہاتھ اور پاؤں چومنے لگے۔"

📚 (سنن ابی داؤد، حدیث: 5225)

2- دو یہودیوں کا ہاتھِ مبارک چومنا

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"دو یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیا۔"

📚 (سنن ترمذی، حدیث: 2733)

ان احادیث سے دست بوسی کا جواز ثابت ہوتا ہے اور علماء نے اہلِ دین، والدین اور بزرگوں کے احترام میں اسے مستحب بھی قرار دیا ہے۔


کیا دست بوسی کی کوئی خاص فضیلت بھی ہے؟

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ دست بوسی کے جواز اور استحباب کا ثبوت تو موجود ہے، لیکن اس کی کوئی خاص فضیلت، جیسے گناہوں کی معافی، جنت کی بشارت یا کسی خاص ثواب کی صحیح اور صریح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

اس کے برعکس مصافحہ کی فضیلت پر متعدد احادیث موجود ہیں۔


مصافحہ کو ترجیح کیوں؟

ہمیں چاہیے کہ دست بوسی کے بجائے مصافحہ کو زیادہ اہمیت اور ترجیح دیں، کیونکہ:

  1. یہ سنتِ نبوی ہے۔
  2. اس پر بہت سی فضیلتیں بیان ہوئی ہیں۔
  3. اس سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
  4. گناہ معاف ہوتے ہیں۔
  5. تکبر اور بڑائی کا احساس ختم ہوتا ہے۔
  6. دونوں مسلمانوں کو سنت پر عمل کرنے کا ثواب ملتا ہے۔

جو دست بوسی نہ کرے، اسے بے ادب کہنا کیسا؟

آج کل بعض لوگ اگر کوئی شخص دست بوسی نہ کرے تو اسے بے ادب، گستاخ یا بدعقیدہ کہنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ شریعت کے مطابق نہیں۔

جب دست بوسی ایک جائز عمل ہے اور اس کی کوئی واجب یا لازمی حیثیت نہیں، تو اسے چھوڑ دینے والے پر الزام لگانا، اسے بے ادب کہنا یا اس کے بارے میں بدگمانی کرنا ہرگز جائز نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"

📖 (سورۂ حجرات: 12)

لہٰذا کسی مسلمان کو صرف دست بوسی نہ کرنے کی وجہ سے گستاخ کہنا یا اس کے دل کا حال جانے بغیر اس پر حکم لگانا گناہ اور بدگمانی میں شامل ہو سکتا ہے۔


خلاصۂ کلام

دست بوسی کا جواز اور بعض صورتوں میں اس کا استحباب تو احادیث سے ثابت ہے، لیکن اس کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں۔ دوسری طرف مصافحہ ایک مبارک سنت ہے، جس کے بے شمار فضائل احادیث میں موجود ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مصافحہ کو زندہ کریں، آپس میں محبت اور بھائی چارہ بڑھائیں اور دست بوسی جیسے جائز مسائل کو فتنہ اور طعن و تشنیع کا ذریعہ نہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے، باہمی محبت بڑھانے اور ہر قسم کی بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔

واللہ اعلم بالصواب

✍️ مفتی ابو احمد ایم۔ جے۔ اکبری
دار الافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...