نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے سے

کھڑے ہو کر پاجامہ پہننے سے لاعلاج بیماری آتی ہے؟

ایک تحقیقی جائزہ

✍️ دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت)
مرتب: مفتی ابو احمد ایم. جے. اکبری

الجواب وباللہ التوفیق

بعض لوگوں میں ایک روایت بہت مشہور ہے کہ:

"جو شخص کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے گا، وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوگا جس کی کوئی دوا نہیں۔"

یہ بات عوام میں اس قدر مشہور ہو چکی ہے کہ بہت سے لوگ اسے حدیثِ رسول ﷺ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس روایت کی حقیقت

علامہ دانش حنفی برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔ حدیث کی کسی معتبر اور معروف کتاب میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا۔

اگرچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بعض تصانیف میں اس کا ذکر کیا ہے، لیکن اس کی کوئی معتبر سند بیان نہیں کی، اور بعد کے لوگوں نے بلا تحقیق ایک دوسرے سے نقل کرتے ہوئے اسے مشہور کر دیا، یہاں تک کہ عوام نے اسے حدیث سمجھ لیا۔

محدثین کا اصول

علمائے حدیث نے واضح فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات اس وقت تک منسوب نہیں کی جا سکتی جب تک وہ صحیح یا قابلِ قبول سند سے ثابت نہ ہو۔

امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"الإسناد من الدين، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء."

"سند دین کا حصہ ہے، اگر سند نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیتا۔"

اسی طرح محدثین نے یہ اصول بھی بیان فرمایا کہ ایسی روایت جس کی کوئی اصل نہ ہو، معتبر سند نہ ہو اور جسے اہلِ حدیث نے ثابت نہ کیا ہو، اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔

کیا تجربہ بھی اس کی تائید کرتا ہے؟

اگر واقعی کھڑے ہو کر پاجامہ پہننے سے لازماً ایسی بیماری لاحق ہوتی جس کی کوئی دوا نہ ہو، تو دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے، لیکن حقیقت میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

اسی طرح اگر اس عمل سے عقل کمزور ہو جاتی یا تنگ دستی آتی تو دنیا کے وہ تمام لوگ جو اس طریقے سے لباس پہنتے ہیں، سب کے سب کم عقل، بیمار یا فقیر ہوتے، حالانکہ مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔ اس لیے محض تجربات کے خلاف ایسی بے اصل بات کو دین کا حکم قرار دینا درست نہیں۔

شریعت کی تعلیم

البتہ ادب، وقار اور آسانی کے اعتبار سے بیٹھ کر لباس پہننا بہتر اور مناسب عمل ہے، لیکن اس کے لیے ایسی بے اصل روایت بیان کرنا یا اسے حدیثِ نبوی ﷺ کہنا ہرگز جائز نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ."

ترجمہ: "جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

خلاصۂ کلام

مذکورہ روایت کہ "کھڑے ہو کر پاجامہ پہننے والا ایسی بیماری میں مبتلا ہوگا جس کی دوا نہیں" کسی معتبر کتابِ حدیث سے ثابت نہیں، لہٰذا اسے حدیثِ رسول ﷺ کہنا یا لوگوں میں حدیث سمجھ کر بیان کرنا ناجائز ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ دین کی ہر بات تحقیق کے بعد ہی آگے پہنچائیں اور رسول اللہ ﷺ کی طرف صرف وہی بات منسوب کریں جو معتبر دلائل سے ثابت ہو۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت)
✍️ مفتی ابو احمد ایم. جے. اکبری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...