السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ مفتی صاحب سے میرا سوال ہے کہ اگر کسی نے نماز میں تشہود کے وقت التحیات سے پہلے تشہود پڑھنے سے پہلے اگر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیا تو کیا نماز ہوگی یا نہیں. قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل.. امید علی عطاری. باڑمیر راجستھان
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں قعدہ اولیٰ یا آخر میں تشہد سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ یہ آیت قرآنی ہے' جو قیام کے سوا کسی اور رکن میں پڑھنا جائز نہیں (فتاویٰ تربیت یافتہ جلد اول صفحہ 181+)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:”قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیۂ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوااورجگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔“(فتاوی رضویہ،ج 6،ص 350،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نماز کے مکروہاتِ تحریمہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:”قیام کے علاوہ اورکسی موقع پر قرآنِ مجید پڑھنا(مکروہ تحریمی ہے )۔“(بہارِ شریعت ، ج 1 ، حصہ 3 ، ص 629 ، مکتبۃ المدینہ )
رکوع و سجود میں قرآن پڑھاتو سجدۂ سہو واجب ہے،اس کے متعلق غنیۃ المستملی میں ہے:”لو۔۔۔ قرا القرآن فی رکوعہ او فی سجودہ او فی موضع التشھد یجب علیہ سجود السھو“ترجمہ: اگر کسی نے رکوع، سجود یا تشہد کی جگہ قرآن پڑھا، تو اس پر سجدۂ سہو واجب ہے۔(غنیۃ المستملی،فصل فی سجود السھو،ص 397،مطبوعہ کوئٹہ)
اگر بھول سے پڑھ لیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا کہ تشہد پڑھنا واجب ہے اور بسم اللہ پڑھنے سے واجب میں تاخیر ہویی
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com