نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اپاہز فرشتے کا واقعہ موضوع

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  مفیت صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک جگہ جمعہ پڑھنے جانے کا موقع ملا تو جمعہ کے خطاب میں مقرر صاحب امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی برکتیں بیان کر رہے تھیں جس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک فرشتے نے آسمان سے انسان کو دیکھا جس کے ہاتھ پاؤں سے معزرور ہے اور وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے تو فرشتے نے کہا کہ  یہ بھی بھلا شکر کرنے کا موقع ہے نہ ہاتھ نہ پاؤں پھر شکر کیسا تو اسپر اللہ کا عطاب نازل ہوا اور اسکو زمین پر پھینک دیا گیا اسکے پر بھی جل گئیں پھر جب تمام فرشتیں پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی مبارکباد پیش کرنے حاضر ہوئیں تو یہ فرشتہ بھی حاضر خدمت اقدس ہوا اور اپنا حال عرض کرکے مدد کی التجاء کی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کیولادت کی برکت سے یہ پہلے جیسا کر دیا گیا  کیا یہ واقعہ صحیح ہے براہ کرم رہنمائی فرمائیں و علیکم السلام و رحمتہ اللہ ، اپاہج فرشتہ کا  واقعہ یہ ایک مشہور فرضی کہانی ہے، جو کہ شیعوں کی کتب میں ملا کرتی ہے اسلامی تعلیمات اور مستند احادیث میں کہیں نہیں ملتی۔ فرشتے نور سے پیدا ک...

اللہ جسے ہدایات نہیں دیتا

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 37 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰى هُدٰٮهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ مَنۡ يُّضِلُّ‌ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ‏ ۞ ترجمہ: اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کیلئے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

جب روحے قبض

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 28 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰۤئِكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ‌ۖ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَـعۡمَلُ مِنۡ سُوۡۤءٍؕ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞ ترجمہ: (ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (وہ یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔

ساجس کرنے والے

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 26 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَاَتٰٮهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ۞ ترجمہ: ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

کؤی بوجھ نہیں اٹھائے گا

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 164 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِىۡ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىۡءٍ‌ ؕ وَلَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَـفۡسٍ اِلَّا عَلَيۡهَا‌ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں ؟ اور وہی تو ہر چیز کا مالک اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے۔ اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔

فرض کے بغیر دوسرے اعمال قبول نہیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے: یہ کہ بعض خطباء حق بات کہنے کے نام پر اس طرح کے جملے کہتے ہیں، جن کی ایک مثال یہ ہے کہ: “آج کل سنی مسلمان نماز چھوڑ کر صرف جلسے جلوس، چادر، فاتحہ، تیجا، چالیسواں وغیرہ میں لگے ہوئے ہیں، سن لو! نماز کے بغیر یہ سب کام کسی کام نہ آئیں گے، یہ پیر اور یہ عالم بھی کچھ کام نہ آئیں گے، اور یہ سارے اعمال منہ پر مار دیے جائیں گے۔” اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: ایک سنی مسلمان جو مزاراتِ اولیاء پر حاضری دیتا ہے، میلاد کی محفلیں سجاتا ہے اور ایسی محفلوں میں شرکت بھی کرتا ہے، علما کی تعظیم کرتا ہے، اور اہلِ سنت کے دیگر معمولات پر عمل کرتا ہے، تو کیا یہ سارے اعمال اسے کچھ فائدہ نہیں دیں گے؟ اور اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو کیا اسے یہ تمام اعمال بالکل بند کر دینے چاہئیں؟ مفتی صاحب اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: حاجی خان عطاری ورہی پاٹن، ضلع گجرات الجواب وباللہ توفیق  صورت مسئولہ میں خطیب صاحب نے فی زمانہ لوگوں کے حالات دکھ کر ہی جو بات کہی وہ درست ہے اگرچہ مذکورہ اعمال صالحہ ہے مگر ان کو شرع کے مطابق کیا جاے تو مفی...

ہم ضرور سوال کرے گے

القرآن - سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 92 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فَوَرَبِّكَ لَـنَسۡـئَلَـنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۞ ترجمہ: تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔ القرآن - سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 93 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ ترجمہ: ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔ القرآن - سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 94 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞ ترجمہ: پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔