نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کیا امام نے علی اصغر کے لیے پانی

*(کیا امام عالی مقام نے حضرت علی اصغر کے لیۓ پانی طلب کیا تھا)* چھے ماہ کے علی اصغر اور ان کے پیاس کا افسانوی قصہ بھی غیر معتبر ھے  ، عموما واعظین کہتے ہیں کہ شہزادہ علی اصغر رضیﷲ عنہ کو امام حسین نے یزیدیوں کے سامنے لے جا کر پانی مانگا یہ پانی مانگنے کا  غیرمعتبر قصہ ہے "خاک کربلا" جیسی کتب میں بغیر حوالے کے درج ہے بلا تحقیق غور و خوض کے عوام الناس میں بیان کیا جاتا ہے، جب کہ یہ واقعہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان عزیمت کے بالکل خلاف ہے اور ان کی شایان شان قطعاً نہیں ہے،۔ پہلی بات تو یہ ہے حضرت علی اصغر کا نام عبداللہ ہے،، علی اصغر آپ کو کہا جاتا ہے،،  جب پانی اتنی مقدار میں موجود تھا کہ امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے غسل کیا حضرت زینب بے ہوش ہوکر گری تو آپ کے چہرے پر پانی ڈالا گیا تو کیا حضرت عبداللہ یعنی علی اصغر کے  پینے کے لیۓ نہ تھا ؟ کتنی ہی عجیب بات ہے سچ تو یہ ہے امام عالی مقام اس بچہ کو لیکر پانی مانگنے نہیں گۓ تھے ۔، بلکہ آپ اپنے اس بچہ کو پیار کر رہے تھے تو دشمنوں نے تیر مارا جو کے اس بچہ علی اصغر کے آکر لگا جس سے وہ شہید ہو گۓ۔ جی ہاں یہ بات تو شیعو...

حضرت قاسم کی شادی

*(حضرت قاسم ابن حسن کا تعویذ اور کربلا میں شادی)* حضرت قاسم کے بارے میں بعض کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے آپ کو جب میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہ ملی تو آپ کے تعویذ بندھا ہوا تھا اس کو کھولا گیا تو اس میں لکھا ہوا تھا ان کو جنگ کے میدان میں جانے دیا جاۓ  اور یہ تعویذ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا، حالانکہ یہ بلکل جھوٹ و منگھڑت ہے لوگوں کی بناوٹی کہانی ہے محض افسانہ ہے، صحیح یہ ہے جو کہ شیعوں اور اہلسنت کی معتبر کتب میں لکھا ہے کہ آپ میدان جنگ میں جاتے ہیں اور شہید ہو جاتے ہیں۔ تعویذ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے مقتل ابو مخنف میں بھی صرف شہادت کا ذکر ہے، اور اسی طرح یہ بھی بیان کیا جاتا ہے حضرت قاسم کی شادی کربلا میں امام عالی مقام نے اپنی بیٹی سے کردی تھی حالانکہ  یہ بھی جھوٹ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ شیعوں نے بھی اسے غیر معتبر قرار دیا ہے اس کو سب سے پہلے ملا حسین کاشفی نے روضتہ الشہداء میں شادی ہونے کا شوشہ چھوڑا  اس سے پہلے یہ کہیں نہیں ملتا کہ آپ کی شادی ہوئی ہو میدان کربلا میں جلاء العیون میں  مجلسی نے لکھا ہے میں نے اس کو کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں پایا اسی...

حضرت سکینہ کے متعلق جھوٹا واقعہ

*{حضرت سکینہ کے متعلق ایک جھوٹا واقعہ }* بعض بازاری چلتی پھرتی غیر معتبر کتابوں میں ایک واقعہ لکھا ہوا ہے، جسے  بعض مقررین حضرات بھی اس واقعہ کو بڑے جوش کے ساتھ بیان بیان کرتے ہیں کہ کر بلا میں عاشوراء کی رات جب تمام اہل بیت قرآن عظیم کی تلاوت میں مشغول و مصروف تھے تو حضرت سکینہ رضی اللہ تعالی عنہا نے قرآن جب پڑھتے ہوئے دیکھا توحضور امام پاک رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا مجھے بھی قرآن پاک پڑھا ئیے امام پاک نے فرمایا بیٹی پانی نہیں ہے لہٰذا تیمم کرلو بعد تیمم تعوذ و تسمیہ پڑھا تے ہیں پھر زارو قطار رونے لگے حضرت سکینہ نے رو نے کا سبب پوچھا تو فرمایا بیٹی قرآن شروع کرا دیا ہوں لیکن ختم نہیں کرا سکوں گا، یہ روایت مو ضوع و بے اصل ہے اس سے اہل بیت اطہار پر یہ الزام آتا ہے کہ وہ حضرات قرآن کریم سے اتنے غافل تھے کہ سات سال کی حضرت سکینہ تھی اور ابھی قرآن عظیم شروع پڑھنا نہیں جانتی تھی معاذ اللہ۔ جیسا کہ صد رالافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اُس وقت آپ کی عمر سات سال کی تھی۔  (سوا نح کر بلا ص ۸۷) فقیر کا ایمان تو یہ کہتا ہے کہ اس وقت حضرت سکینہ ...

حضرت فاطمہ صغریٰ کا افسانوی قصہ

*(حضرت فاطمہ صغری کا افسانوی قصہ)* جہاں واقعہ کربلا میں کثیر موضوع روایات ملادی گئیں ہیں انہیں میں سے  ایک واقعہ فاطمہ صغریٰ کا بیان کیا جاتا ہے جو کہ بے اصل منگھڑت ہے ،واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے امام عالی مقام جب مدینہ شریف سے روانہ ہوۓ تو اپنی بیٹی فاطمہ صغریٰ کو اکیلا چھوڑ دیا مکہ مکرمہ پھر وہاں سے کربلا تشریف لے گۓ۔  ادھر فاطمہ صغریٰ تنہا اور بیمار تھی اپنے بابا کے انتظار میں روتی رہتی پھر لکھنے والوں نے اسے بہت دردناک بناکر لکھ ڈالا جس کا مقصد رلانا دھلانا تھا پورا واقعہ خاک کربلا میں دیکھا جا سکتا ہے میں اس کو یہاں ذکر نہیں کرتا، واضح رہے خاک کربلا نہایت ہی درجہ کی غیر معتبر کتاب ہے، یہ واقعہ محض بے اصل اور جھوٹ ہے کیوں کہ حضرت فاطمہ صغریٰ میدان کربلا میں موجود تھی اور شیعہ و اہلسنت کی کتب میں یہ مذکور ہے، اول تو امام عالی مقام کی اولاد کی تعداد 6 بتائی گئ ہے شیعہ سنی دونوں کے یہاں چار لڑکے اور دو لڑکیاں کی تعداد ہے۔منتخب التاریخ میں ہے امام عالی مقام کی چھ اولاد تھیں چار لڑکے اور دو لڑکیاں، علی بن حسین  اکبر، علی بن حسین اصغر یہ دونوں کربلا میں شہید ہوۓ تھے۔، جع...

امام حسین کے قاتل ؟

(امام عالی مقام کے قاتل کیا کافر ہیں) السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب سے عرض ہے کہ  حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے بیٹے عمر بن سعد کے متعلق اہلسنت کا کیا عقیدہ ہے؟ امام عالی مقام کے قاتل کافر ہیں۔ وہ مسلمان تھے وغیرہ سائل عبداللہ ملتان و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب ھو الھادی الی الصواب امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنے والے فاسق و فاجر ضرور ہیں، لیکن وہ کافر نہیں ہیں،، ہاں اگر امام عالی مقام کو قتل اس وجہ سے کیا جاتا کہ وہ نبی علیہ السلام کے نواسے ہیں یا یہ کہ نبی علیہ السلام کے جانشین ہیں، تو ضرور کافر ہیں،،۔ علامہ مفتی شریف الحق رحمہ اللہ فرماتے ہیں، امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کو اس وجہ سے قتل کیا جاتا کہ وہ نبی علیہ السلام کے نواسے یا جانشین ہیں تو ضرور کافر ہیں،، مگر کربلا میں امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کو نواسے رسول جانشین رسول ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا،، بلکہ وہ ظالم یزید کو خلیفہ برحق مانتے تھے،۔ اور امام عالی مقام کو باغی،، اس لیۓ امام عالی مقام کو شہید کرنے والے کافر نہیں،،۔ البتہ بدترین فاسق فاجر جفاکار ضرور ہیں،...

ویڈیو تصویر کا حکم

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کے حکم کے بارے میں معاصر علماءِ کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات اسے ناجائز یا حرام قرار دیتے ہیں، بعض مکروہ کہتے ہیں، جبکہ بعض علماء مخصوص شرائط کے ساتھ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں حالاتِ زمانہ، مصالحِ شرعیہ، عرفِ عام اور دعوتِ دین کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مزاج آسانی، اعتدال اور رفعِ حرج پر قائم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: "اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔" (سورۂ بقرہ، آیت: 185) اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ» ترجمہ: "بے شک دین آسان ہے۔" (صحیح البخاری) اور ایک مقام پر فرمایا: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا» ترجمہ: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔" (صحیح البخاری، صحیح مسلم) یہ نصوصِ شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں...

مرحوم کے نام سے قربانی کرنے سے مالک نصاب کا

مرحوم کی طرف سے قربانی کرنے سے مالک نصاب کا فرض ساقط ہوجائے گا ؟ الجواب وباللہ توفیق  مذکورہ صورتِ حال میں مرحوم والدین کی طرف سے جو بغیر وصیت کے قربانی کی گئی،اُس سے اِس ذبح کرنے والے کا واجب ادا  ہو گیا، کیونکہ میت کی طرف سے یا میت کے نام پر قربانی کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا ثواب میت کو پہنچے ،باقی رہی قربانی تو وہ چونکہ ذبح کرنے والے کی مِلک پر واقع ہوئی ہے ،اس لیے اس کا اپنا واجب ادا ہو جائے ترجمہ:اگر وارث نے میت کے حکم سے اس کی طرف سے قربانی کی تو اس پر لازم ہے کہ اسے صدقہ کردے اور اس میں سے نہ کھائے،اور اگر وارث میت کے حکم کے بغیر تبرعاً اس کی طرف سے قربانی  کرے ،تو اس کے لیے اس میں سے کھانا ،جائز ہے، کیونکہ یہ قربانی ملکِ ذابح پر واقع ہوئی ہے اور میت کے لیے ثواب ہے،اور اسی لیے اگر ذابح پرایک قربانی لازم ہو، تو ساقط ہو جائے گی (۔ شامی جلد 11 صفحہ 604مترجم)  فتاوی قاضی خان میں ہے:’’ ولو ضحی عن المیت من مال نفسہ بغیر امر المیت جاز،ولہ ان یتناول منہ ولا یلزمہ ان یتصدق بہ،لانھا لم تصر ملکاً للمیت بل الذبح حصل علی ملکہ،ولھذا لو کان علی الذابح اضحیۃ سقطت عنہ‘‘ترجمہ...