نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

قربانی جانور حاملہ

الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں  گابھن (حاملہ) جانور کی قربانی شرعاً ناپسند ہے، لیکن قربانی ہو جائے گی اور اگر صرف پندرہ بیس روز کا حمل ہے، تو کسی قسم کا مضائقہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:’’شاۃ او بقرۃ اشرفت علی الولادۃ، قالوا: یکرہ ذبحھا‘‘ ترجمہ: بکری یا گائے بچہ جننے کے قریب ہو، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الذبائح، جلد 5، صفحہ 354، مطبوعہ کراچی) سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (متوفی 1340ھ) فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: گابھن کی قربانی، اگرچہ صحیح ہے، مگر ناپسند ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاونڈیشن، لاھور) صاحبِ بہار شریعت، مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی 1367ھ) فتاوی امجدیہ میں فرماتے ہیں: حاملہ جانور کی قربانی ہو سکتی ہے، مگرحاملہ ہونا معلوم ہے، تو احتراز اولیٰ ہے اور اگر صرف پندرہ بیس روز کا حمل ہے، تو اس میں کسی قسم کا مضائقہ نہیں۔ (فتاوی امجدیہ، حصہ 3، صفحہ 328، مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی ہدایہ اور تبیین میں فرمایا:(جو جانورپہلے قربانی کی نی...

رفیع دین اور بت رکھنے

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  نماز میں رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کے حوالے سے یہ کہنا کہ لوگ بغل میں بت رکھتے تھے اور انہیں گرانے کے لیے رفع الیدین کیا جاتا تھا، بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور لغو بات ہے۔ اس کا احادیث یا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔محدثین اور فقہاء کے مطابق یہ دعویٰ کئی وجوہات سے غلط ہے:تاریخی حقیقت: بت پرستی مکہ مکرمہ میں تھی۔ جب مدینہ منورہ میں نماز باجماعت فرض ہوئی، تب وہاں کوئی بت پرست یا منافق مسجد میں بت چھپا کر نہیں لاتا تھا۔حکمت عملی کا تضاد: اگر بتوں کو گرانا ہی مقصد ہوتا تو رکوع یا سجدے میں جھکتے وقت بت خود ہی گر جاتے، اس کے لیے بار بار ہاتھ اٹھانے (رفع الیدین) کی ضرورت نہیں تھی۔علمِ غیب: اگر لوگ بغل میں بت چھپا کر لاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر رفع الیدین کے بھی وحی کے ذریعے اس حقیقت سے آگاہ ہو سکتے تھے۔اختلافی مسائل کا پس منظر:رفع الیدین نماز میں سنت ہے یا یہ عمل بعد میں منسوخ ہو گیا، یہ فقہی اور علمی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس کا بتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  حالانکہ پہلے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین صحیح احادیث...

اصول نوٹس دارالافتاء

📢 तवज्जोह फरमाएं 📢 दारुल इफ्ता में सवाल करने वाले हज़रात से गुज़ारिश है कि सवाल भेजने से पहले ग्रुप की डिस्क्रिप्शन में दिए गए दारुल इफ्ता के उसूल ज़रूर पढ़ लें, फिर अपना सवाल करें। बार-बार समझाने के बावजूद अक्सर लोग अपना पूरा नाम, पता या मुकम्मल तआरुफ़ नहीं लिखते, या सवाल के साथ भेजते ही नहीं। ऐसी सूरत में जवाब देने में दिक्कत पेश आती है, इसलिए कई सवालात का जवाब नहीं दिया जाता। 📖 शरीअत का मसला बहुत नाज़ुक अमानत है। अधूरी मालूमात की बुनियाद पर सही जवाब देना मुश्किल हो जाता है। इसलिए सवाल भेजते वक्त: ✍️ अपना नाम ✍️ मुकम्मल पता ✍️ ज़रूरी तफ़सील ज़रूर लिखें, ताकि सही और मुतमइन जवाब दिया जा सके। 🌹 याद रखिए! अदब और उसूल की पाबंदी इल्म में बरकत और सही रहनुमाई का ज़रिया है। दारुल इफ्ता के उसूल पढ़कर ही सवाल करें। जज़ाकुमुल्लाहु खैरन 🌸

ہدایت و گمراہ کن

القرآن - سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 15 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ ‌ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا‌ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ؕ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ۞ ترجمہ: جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

قربانی کے جانور میں عیب ہو جائے

ایک شخص ہے اس نے ایک بکری قربانی کے لیے خاص کی اس کی وجہ سے اس خاص بکری کی پسند کی ہوئی بکری کی قربانی کرنی واجب ہوتی ہے اب ایام قربانی اتے اتے اس بکری میں جس کو قربانی کے لیے خاص کیا تھا نقص پیدا ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ جو جانور قربانی کے لیے خاص کیا ہو اسی جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے اگر اس میں کوئی نقص ا جائے تو کیا اب بھی اس کی قربانی واجب ہے یا اس نقص کی وجہ سے کوئی اور جانور ذبح کرنا جائز ہے ذرا اس بات پر مفتیان کرام روشنی ڈالیں اور قران و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں  وما توفیق الا باللہ  سائل منتظر نظر رحمت ماتحت دست برکت مولانا محمد سمیر برکاتی وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر شخص غنی ہے تو اسے دوسرے جانور کی قربانی کرنا واجب ہے کہ جس جانور میں عیب ہو جائے وہ قربانی کے لائق نہیں رہتا  بدائع الصنائع، ہندیہ اور رد المحتار میں ہے:واللفظ للاول:”لو كان فی ملك انسان شاة فنوى ان يضحی بها او اشترى شاة ولم ينو الاضحية وقت الشراء،ثم نوى بعد ذلك ان يضحی بها لا يجب عليه سواء كان غنيا او فقيرا “یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں بک...

قرا انداز

سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیزاس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ  جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔پھر مالِ حرام سے کیا جانے  والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔ لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا  ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے ،پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا  مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو ،تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے ،اس لیے کہ اس  میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہےاور یہ جائز...

حرمت مصاہرت

السلام علیکم حضرت صاحب * حرمت مشاہرت کب اور کس کس طرح ہو سکتی ہے اور کیا میری عووت کو میں گالی دوں اس کی ماں کی تو بھی کیا حرمت مشاہرت ثابت ہو جاتی ہے؟* * وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے اس لڑکے یا لڑکی کا حد شہوت کو پہنچنا ضروری ہے یعنی لڑکےکاکم ازکم بارہ سال اورلڑکی کاکم ازکم   نوسال  کا ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا بالکل چھوٹے نومولود بچےیابچی کو شہوت سے چھونے میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی،کیونکہ یہ حد شہوت کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں۔    چنانچہ  حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے متعلق در مختار میں ہے:”(هذا إذا كانت ‌حية ‌مشتهاة) ولو ماضيا(أما غيرها)يعني الميتة وصغيرة لم تشته(فلا)تثبت الحرمة بها أصلا...وكذا تشترط الشهوة في الذكر؛فلو جامع غير مراهق زوجة أبيه لم تحرم“ترجمہ:حرمت مصاہرت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت زندہ اور حد شہوت تک پہنچی ہو اگر چہ بوڑھی ہو اگر اس کے علاوہ ہو یعنی مُردہ عورت یا چھوٹی بچی جو حد شہوت تک نہ پہنچی ہو(نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہو)تو ...