السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت بعض لوگ کنٹیگ ٹوپی پہن کر نماز پڑھتے ہیں کیا ان کی نماز درست ہے وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ غلام مصطفی سیڑوا باڑمیر راجستھان
_________*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* _____
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* نماز کی حالت میں ستر عورت فرض ہے اور مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک *کتب فقہ* معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص بغیر ٹوپی کے نماز پڑھ لیں تو بھی نماز ہو جاتی ہے البتہ مکروہ ہے کیونکہ کہ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں عمامہ یا ٹوپی کے ساتھ سر ڈھانپنے کا حکم دیتے تھے الخ *کشف الغمتہ 1 صفحہ 87* لہٰذا ٹوپی پہنا مسنون ہے اصل مقصد سر کا ڈھکنا ہے اور اس ٹوپی سے بھی مقصد پورا ہو جاتا ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 12 ستمبر 2020 بروز ہفتہ
نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔ *سائل: محمد علی باڑمیر* . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں 1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com