السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت بعض لوگ کنٹیگ ٹوپی پہن کر نماز پڑھتے ہیں کیا ان کی نماز درست ہے وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ غلام مصطفی سیڑوا باڑمیر راجستھان
_________*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* _____
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* نماز کی حالت میں ستر عورت فرض ہے اور مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک *کتب فقہ* معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص بغیر ٹوپی کے نماز پڑھ لیں تو بھی نماز ہو جاتی ہے البتہ مکروہ ہے کیونکہ کہ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں عمامہ یا ٹوپی کے ساتھ سر ڈھانپنے کا حکم دیتے تھے الخ *کشف الغمتہ 1 صفحہ 87* لہٰذا ٹوپی پہنا مسنون ہے اصل مقصد سر کا ڈھکنا ہے اور اس ٹوپی سے بھی مقصد پورا ہو جاتا ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 12 ستمبر 2020 بروز ہفتہ
حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com