بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اہلسنت والجماعت کا فرد ہے مگر جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ جو مسجد میں صلوات و سلام پڑھا جاتا ہے اس میں کبھی بھی کھڑا نہیں رہتا یعنی سنت و نوافل پڑھ کر چلا جاتا ہے اور سلامی کا انکار بھی نہیں کرتا لھاذا اب زید کے بارے میں شرعی حکم کیا لگے گا بینو تاجرو ساءل علی بخش اکبری
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں جب زید صحیح العقیدہ سنی ہے اور صلاتہ و سلام کے وقت حاضر نہیں رہتا ہے تو اس پر کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا اس دور میں جو سلام پڑھا جاتا وہ بدعت حسنہ ہے کوئی فرض یا واجب نہیں بلکہ مسجد میں بلند آواز سے پڑھنا منع ہے جبکہ کچھ لوگوں کی نماز ابھی باقی ہو تو لوگوں کی نمازوں میں خلل ہو تو اس کے متعلق حضرت فقہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے فرماتے ہیں منع کرنا فقط جائز نہیں بلکہ واجب ہے *فتاوی برکاتہ صفحہ 309* لہٰذا زید پر کوئی اعتراض کرنا فضول ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 14 ستمبر بروز پیر
حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com