نسبندی کروانے والی عورت کا حکم؟
- نومبر 22, 2021
نسبندی کروانے والی عورت کا حکم دارالافتا۶ فیضان مدینہ: : السلام علیکم سوال نس بندی کروانے والی عورت کے بارے میں علماء کی کیا راءے ہے کیا اس کو مسلمانوںکے قبرستان میں دفن کر سکتے ہیں اور نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں کیا اس کے ہاتھ سے صدقات خیرات قبول ہوتی ہے یا نہیں مع حوالہ کے جواب۔ کا منتظر ہوں رہنماءی فرماکر شکریہ کا موقع دیں ساءل احقر محمد عبد اللہ صدیقی باڑ میر راجستھان *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* نسبندی (مشتمل طور پر نسبندی یا بچہ دانی) نکلوانے کو علماء اہل سنت ناجائز و حرام قرار دیتے ہے ۔۔صورت مسوئلہ میں جس خاتون نے نسبندی کروائی ہے اس کی وجہ معلوم کئے بغیر کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا ہمارا موقف یہ ہے ضرورت سخت ہو اور جان یا صحت کا خطرہ ہو تو ایسی سخت مجبوری میں اجازت کی گنجائش ہے بہر حال بغیر سخت ضرورت کے نسبندی کروانا ناجائز ہے لہٰذا خاتون مذکورہ کو توبہ کا حکم دیا جائے گا جب وہ توبہ کر لیں تو پھر اس پر کوئی گناہ کا اثر باقی نہیں رہتا *قال اللہ تعالٰی*اور جنھوں نے برائیاں کی اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمھارا رب بخشنے والا مہربان ہے *قرآن مجید* *سورتہ 7 آیت 153* لہٰذا توبہ کے بعد اس کا ہر نیک عمل قبول ہے *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی* تاریخ 23 /08/2020 *دارالافتاء فیضان مدینہ* دارالافتاء فیضان مدینہ: السلام علیکم حضرت حوالہ کا انتظار رہیگا اور قرآن پاک کی آیت ہے جسکا مفہوم اور مطلب یہی ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کو بھوک کے ڈر کی وجہ سے قتل نہ کرو تو کیا یہ حکم اس عورت پر نہیں لگےگا کہ قرآن کی آیت کا انکار یا ناماننا لازمنہیں آءیگا کیونکہ یہ جو نسبندی کرواءی گءی ہے اس میں شوھر بیوی دونوں شامل ہیں اور انکو پتا بھی ہے کہ یہ کام (نسبندی) کرنا شریعت کے خلاف ہے اور ھمارے دھرم میں منع ہے تو اب ان دونوں کے کے لیے کیا حکم ہے عند الشرع احقر محمد عبد اللہ صدیقی باڑمیر راجستھان _____ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* _________ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* آپ نے جس آیت کا مفہوم بیان کیا ہے وہ آیت یہ ہے *اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی بیشک انکو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے* *قرآن مجید سورتہ 17 آیت 31* اس آیت کا شان نزول اہل عرب اپنی چھوٹی بچیوں کو زندہ گاڈ دیتے تھے الخ ان کے لیے یہ آیت نازل ہوئی تھی، اس آیت کا حکم اس خاتون پر لگانا سخت نادانی ہے بیشک نسبندی کروانا ناجائز ہے مگر اس نے کوئی بچے کا قتل نہیں کیا ہے ہاں اگر 4 ماہ کا حمل اگر گرایا ہوتا تو ضرور وہ اس آیت کے تحت سخت گنہگار ہوتی اس پر اس آیت کریمہ سے کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا کوئی بھی مسلمان قرآن کی آیات کا انکار نہیں کر سکتا ہاں وہ نافرمانی کرکے گنہگار ضرور ہوگا جب تک کوئی کام حرام کو حلال سمجھ کر نہ کرے تو وہ گنہگار ضرور ہے مگر اسلام سے خارج نہیں ہوتا کتنے لوگ ہیں جو نماز کو فرض جاننے ہوئے بھی نہیں پڑھتے ہیں تو کیا ان پر نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے کفر کا فتوی لگے گا ہرگز نہیں بلکہ ایسا شخص مستحق عذاب ہے اسی طرح اس خاتون نے نسبندی کروائی جو ناجائز ہے مگر اب اس کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ وہ توبہ کر لیں اس خاتون کا گناہ اتنا بڑا نہیں کہ توبہ سے بھی معاف نہ ہوسکے *قال اللہ تعالٰی* بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے الخ *قرآن مجید سورتہ 4 آیت 48* اس میں شرک کی معافی نہیں ہے مگر شرک سے بھی سچے دل سے توبہ کر لیں تو وہ بھی معاف ہو جاتا ہے *قال اللہ تعالٰی* اے میرے بندو جو (گناہ کرکے ) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا بیشک وہی بہت بخشنے والا مہربان ہے حد رحم فرمانے والا ہے *قرآن مجید سورتہ 39 آیت 53* لہٰذا اس خاتون اور اس کے شوہر کو توبہ کا حکم دیا جاتا ہے *قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم* گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو *سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 4250* *واللہ اعلم و رسولہ* العارض فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی تاریخ *24 اگست 2020 بروز پیر* دارالافتاء فیضان مدینہ:

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com