وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499)
لہٰذا شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد میں ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور نیاز کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن تعزیہ کو سامنے رکھ کر یا اس کی طرف متوجہ ہو کر فاتحہ پڑھنا شرعی طریقہ نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی غلط رسموں سے بچے اور اپنی عبادت و نیاز کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور شہدائے کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے انجام دے۔
*تشریح* :
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے نام پر قرآن خوانی، فاتحہ اور ایصالِ ثواب کرنا نیکی کا کام ہے، مگر دین میں وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو شریعت کے مطابق ہو۔ بعض لوگ لاعلمی یا ماحول کے اثر سے تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھ لیتے ہیں، حالانکہ اصل مقصود شہداءِ کرام کو ثواب پہنچانا ہے، نہ کہ تعزیہ کے سامنے مخصوص انداز اختیار کرنا۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر کوئی شخص جہالت یا لاعلمی کی وجہ سے ایسا کرتا ہو تو فوراً اس پر فسق و فجور کا حکم لگا دینا یا اسے بُرا بھلا کہنا مناسب نہیں۔ شریعت ہمیں حکمت، نرمی اور محبت کے ساتھ اصلاح کا درس دیتی ہے۔ ایسے شخص کو دلائل کے ساتھ پیار بھرے انداز میں سمجھایا جائے تاکہ وہ خوش دلی سے صحیح مسئلہ قبول کر لے۔
آج ہمارے معاشرے کو سختی، جھگڑے اور فتوے بازی سے زیادہ خیرخواہی، محبت اور حسنِ اخلاق کی ضرورت ہے۔ جو شخص غلطی کرے، اس کی اصلاح کی جائے، تحقیر نہ کی جائے۔ کیونکہ بہت سے لوگ جان بوجھ کر نہیں بلکہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے غلطی کرتے ہیں۔
خلاصۂ کلام: تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا غلط طریقہ اور جہالت ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے ایسا کرے تو اسے محبت اور نرمی کے ساتھ سمجھایا جائے، بلاوجہ فوراً فاسق قرار دینا درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com