نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شرعی حکم کی مخالفت

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾
ترجمہ:
"اور رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ لے لو، اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔"
📖 سورۃ الحشر، آیت: 7
اس آیت سے اہلِ سنت کے علماء حضور ﷺ کی سنت، احادیث اور آپ کے احکام کی اتباع پر استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جو حکم دیں اسے قبول کرنا اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جانا واجب ہے۔
اما بعد! بے شک سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام وہ ہیں جو (دین میں) نئے نکالے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
📖 Sahih Muslim، کتاب الجمعۃ، حدیث: 867
اسی طرح ایک روایت میں ہے:
«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»
ترجمہ:
"ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میرے حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے دور کیا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو دور کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکاروں گا: آؤ! آؤ!
تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) تبدیلی کر لی تھی۔
پس میں فرماؤں گا: دوری ہو، دوری ہو!”صحیح بخاری، حدیث: 6582، صحیح مسلم، حدیث: 2290)
بدّلوا بعدک” سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین میں تبدیلی، بدعت یا سنت کی مخالفت اختیار کی۔
علماء نے لکھا ہے کہ یہ حکم عام ہے، ہر اس شخص کے لیے جو نبی ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر دین میں نئی چیزیں داخل کرے۔
جو کام علماء منع کرتے ہیں اس سے رکنا ضروری ہے ورنہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شریعت کی مخالفت کرے گا اس کا انجام کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾
(النساء: 59)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔
➡️ اس آیت میں واضح ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی شریعت سے انحراف ہے۔
2) رسول ﷺ کے فیصلے کے خلاف جانا ایمان نہیں
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾
(النساء: 65)
ترجمہ:
تیرے رب کی قسم! وہ مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں میں آپ ﷺ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔
3) اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ کرنا کفر، ظلم یا فسق ہے
﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾
(المائدہ: 44)
ترجمہ:
جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہی کافر ہیں۔
احادیث مبارکہ
1) دین میں نئی بات (بدعت) مردود ہے
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
(صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)
ترجمہ:
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز داخل کی جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
2) سنت کی مخالفت سے بچنے کی تاکید
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ»
(ابوداؤد: 4607، ترمذی: 2676)
ترجمہ:
میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔
📌 خلاصہ
قرآن و حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ:
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت فرض ہے
شریعت کی مخالفت ایمان کے کمزور ہونے یا خطرے کی علامت ہے
دین میں نئی ایجاد (بدعت) کو قبول نہیں کیا گیا
شریعت کی مخالفت کی اقسام (اہلِ سنت کے مطابق)
1) اعتقادی مخالفت (کفر تک پہنچنے والی)
یہ وہ صورت ہے جب کوئی شخص:
اللہ کے حکم کو حق نہ سمجھے
حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرے
دین کے کسی قطعی حکم کا انکار کرے
📖 دلیل:
﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ﴾ (المائدہ: 5)
➡️ اس صورت میں حکم کفر تک جا سکتا ہے۔
2) عملی مخالفت (گناہ کبیرہ)
یہ وہ صورت ہے جب:
حکم کو مانتا ہے مگر عمل نہیں کرتا
نماز، روزہ، حرام کاموں میں کوتاہی کرتا ہے
📖 حدیث:
نبی ﷺ نے فرمایا:
“زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا”
(صحیح بخاری: 2475)
➡️ مطلب ایمان کمزور ہوتا ہے، مگر اصل ایمان ختم نہیں ہوتا (اگر انکار نہ ہو)۔
3) بدعت (دین میں نئی ایجاد)
یہ بہت اہم قسم ہے۔
📖 حدیث:
«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»
(صحیح مسلم: 867)
ترجمہ: ہر بدعت گمراہی ہے۔
📖 دوسری حدیث:
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
(بخاری، مسلم)
➡️ یعنی دین میں ایسی چیز داخل کرنا جو دین کا حصہ نہ ہو، وہ مردود ہے۔
📌 بدعت کی اقسام (اہلِ سنت کی تحقیق)
1) بدعتِ حسنہ (لغوی معنی میں)
وہ نئے کام جو دین کے اصولوں کے خلاف نہ ہوں
جیسے: دینی کتابوں کی طباعت، مدارس کا نظام، اذان کا منظم نظام
📌 مثال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح باجماعت کے لیے فرمایا:
“نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ” (بخاری)
➡️ یہاں “بدعت” لغوی معنی میں ہے، شرعی بدعت نہیں۔2) بدعتِ سیئہ (حرام بدعت)
دین میں نئی عبادت ایجاد کرنا
عقیدہ یا عمل کو شریعت سے بڑھانا یا گھٹانا
جیسے مخصوص دنوں کی غیر ثابت شدہ عبادات
📖 حدیث:
“جس نے ہمارے دین میں نئی چیز نکالی وہ مردود ہے”
📌 خلاصہ
✔ شریعت کی مخالفت تین درجے رکھتی ہے:
عقیدے میں مخالفت → کفر
عمل میں مخالفت → گناہ
دین میں نئی ایجاد → بدعت (اکثر گمراہی)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...