السؤال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ تعزیہ کے بارے میں یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ "مروجہ تعزیہ داری حرام ہے"، تو سوال یہ ہے کہ تعزیہ کی جائز صورت کون سی ہے؟
سائل: حاجی خان عطاری، وراہی، ضلع پٹن، گجرات
الجواب بعون الملک الوہاب:
تعزیہ داری کی جو صورت آج کل رائج ہے، یعنی تعزیہ بنانا، اسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک کا نمونہ سمجھنا، اس کے سامنے نیاز و فاتحہ دینا، تعظیماً کھڑا ہونا، سلام کرنا، جلوس نکالنا، ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، تعزیہ کو دفن یا پانی میں بہانا اور اسے مذہبی شعار سمجھنا، یہ سب امور ناجائز و حرام اور بدعتِ سیئہ ہیں۔
رہا یہ سوال کہ "جائز تعزیہ" کیا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں نہ تعزیہ بنانے کا کوئی حکم ہے، نہ اس کی کوئی مسنون یا مستحب صورت ثابت ہے۔ لہٰذا جب علماءِ اہل سنت بعض کتب کے حوالے سے "مروجہ تعزیہ داری" کی قید لگاتے ہیں تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو ناجائز رسوم و بدعات آج رائج ہیں ان کی نفی کی جائے، نہ یہ کہ تعزیہ داری کی کوئی شرعی و مسنون صورت ثابت کی جائے۔
اصل یہ ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی یاد منانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کے فضائل و مناقب بیان کیے جائیں، ان کی سیرت سے سبق حاصل کیا جائے، قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے، ایصالِ ثواب کیا جائے، صدقہ و خیرات کی جائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی جائے۔
لہٰذا تعزیہ داری کی کوئی ایسی مخصوص "جائز صورت" شریعت میں ثابت نہیں جسے دینی عمل یا ثواب کا کام سمجھ کر اختیار کیا جائے، بلکہ مروجہ تعزیہ داری اور اس سے وابستہ رسومات سے بچنا ضروری ہے۔
البتہ صرف امام عالی مقام کے روضہ کی اصل تصویر گھر میں رکھ سکتے ہیں جیسے کہ کعبہ اور سبز گنبد کی ہوتی
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء گلزارِ طیبہ
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب
بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com