الجواب وباللہ التوفیق
📌 سوال:
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ “فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ رضویہ میں ڈھول بجانے کو جائز لکھا ہے”، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا کیا جواب ہوگا؟
📌 جواب:
اولاً یہ بات واضح رہے کہ فقہی کتب کی طرف غلط نسبت کرنا یا عبارت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا علمی خیانت ہے۔
Fatawa Alamgiri اور Fatawa Rizvia میں اصل حکم یہ ہے کہ:
- آلاتِ لہو و لعب کا استعمال اصولاً ناجائز ہے
- صرف بعض فقہاء نے نکاح کے اعلان میں دف کی محدود اجازت ذکر کی ہے
- اس اجازت کو عام ڈھول یا موسیقی پر قیاس کرنا درست نہیں
📌 قرآن کریم کی دلیل:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾
(سورۃ لقمان: 6)
مفسرین کے نزدیک “لہو الحدیث” میں گانا بجانا اور لہو و لعب شامل ہے۔
📌 حدیث مبارکہ:
نبی کریم ﷺ (Prophet Muhammad) نے فرمایا:
میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور لہو و لعب کے آلات کو حلال سمجھیں گے۔
(مفہوم حدیث، صحیح بخاری)
📌 اصل شرعی اصول:
فقہ کا قاعدہ ہے:
“آلاتِ لہو میں اصل حکم حرمت ہے، سوائے اس کے جس کی خاص دلیل ہو”
📌 نتیجہ:
- فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ رضویہ میں ڈھول کا مطلق جواز نہیں
- جو اجازت ہے وہ صرف محدود اور خاص صورت (نکاح میں دف) تک ہے
- قرآن و حدیث میں لہو و لعب سے اجتناب کی اصل تعلیم موجود ہے
- لہٰذا عام ڈھول بجانے کو جائز کہنا درست فہم نہیں
📌 خلاصہ:
یہ کہنا کہ فقہی کتابوں میں ڈھول بجانے کا عام جواز ہے، یہ عبارت کی غلط تعبیر اور ناقص استدلال ہے، جبکہ شریعت میں اصل حکم ممانعت اور صرف محدود استثناء ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com