الجواب وباللہ التوفیق
جس شعر میں اللہ تعالیٰ کے لیے "شیدا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہو، اس کا پڑھنا جائز نہیں؛ کیونکہ "شیدا" کے لغوی معانی ہیں: آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق۔ یہ تمام معانی اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں، اور اللہ عزوجل ان تمام نقائص سے پاک اور منزہ ہے۔
لہٰذا ایسا شعر پڑھنے، پڑھانے یا عام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
فتاویٰ شارح بخاری میں ہے:
"(اللہ تعالیٰ) کو شیدائے محمد کہنا بھی جائز نہیں کہ اس میں معنیِ سوء کا احتمال ہے۔ شیدا کا معنی آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے منزہ ہے۔" (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 141، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء گلزار طیبہ
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب
بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com