سوال: کیا "حب الوطن من الإيمان" (وطن کی محبت ایمان ہے) حدیثِ پاک ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں اپنے وطن اور جائے اقامت سے محبت اور انسیت فطری تقاضا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے محبت فرمایا کرتے تھے، لیکن وطن کی محبت کا ایمان کی علامت ہونا کسی مستند روایت سے ثابت نہیں، اور نہ ہی اس طرح کی کوئی حدیث حضور نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے۔ لہٰذا مطلقاً یہ جملہ کہنا کہ "وطن کی محبت ایمان ہے" اور اسے بطورِ حدیث بیان کرنا درست نہیں۔
البتہ ایک معنی کے اعتبار سے وطن کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دینا درست ہے، اور وہ یہ کہ وطن سے مراد جنت یا مدینہ منورہ لیا جائے۔ چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
"صوفیاء جو فرماتے ہیں کہ حب الوطن من الایمان، یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے، وہاں وطن سے مراد جنت ہے، یعنی اصلی وطن، یا مدینہ منورہ کہ وہ مومن کا روحانی وطن ہے۔"
(مراٰۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 438، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)
اسی طرح امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:
"حب الوطن من الایمان" نہ حدیث سے ثابت ہے اور نہ ہرگز اس کے یہ معنی ہیں۔ امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جزء میں، امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ میں، اور امام جلال الدین سیوطی نے الدرر المنتثرة میں بالاتفاق اس روایت کے بارے میں فرمایا:
"لم أقف علیہ" (میں اس روایت پر مطلع نہ ہو سکا)۔
پھر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں ان بندوں کی مدح فرمائی ہے جو اللہ و رسول ﷺ کی محبت میں اپنا وطن چھوڑ دیتے ہیں اور ہجرت اختیار کرتے ہیں، اور ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو محض وطن کی محبت کی وجہ سے ہجرت سے باز رہے۔ لہٰذا وہ وطن جس کی محبت ایمان سے ہے، دراصل انسان کا اصلی وطن ہے جہاں سے وہ آیا اور جہاں اسے واپس جانا ہے۔
(ملخص از فتاویٰ رضویہ، جلد 15، صفحہ 296-297)
خلاصۂ کلام:
"حب الوطن من الایمان" حدیثِ نبوی ﷺ نہیں ہے، لہٰذا اسے حدیث کہہ کر بیان کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر وطن سے مراد جنت یا مدینہ منورہ لیا جائے تو اس معنی کے اعتبار سے یہ بات درست ہو سکتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com