نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شاہ است حسین کا حکم

السلام علیکم حضرت صاحب
اس شعر کا کیا مطلب ہے اور اس کا مسجد پر لکھنا کیسا؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق 
ترجمہ ملاحظہ ہو

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

ترجمہ: شاہ بھی حسین ہیں، بادشاہ بھی حسین ہیں۔

دین است حسین، دین پناہ است حسین

ترجمہ: دین بھی حسین ہیں، دین کو پناہ دینے والے بھی حسین ہیں۔

سرداد نہ داد دست در دست یزید

ترجمہ: سر دے دیا مگر یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دیا۔

حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین

ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ لا الٰہ کی بنیاد ہی حسین ہیں۔

اور رہی بات پڑھنے کی تو اس کا پڑھنا بالکل درست ہے۔ مسجد میں لگانا بھی کوئی حرج نہیں 
البتہ آخری اشعار پر اعتراض ہو سکتا ہے  اس کی ہم یہ تاویل کرتے ہیں 
امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے کلمۂ توحید (لا إلہ إلا اللہ) اور دینِ اسلام کی حفاظت فرمائی، اس لیے شاعر نے مبالغہ کے انداز میں آپ کو 'بنائے لا الٰہ' کہا ہے۔"
یعنی:
حفاظتِ دین کے اعتبار سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا کردار اتنا عظیم ہے کہ شاعر نے انہیں کلمۂ توحید کی عمارت کا محافظ اور ستون قرار دیا ہے۔
جیسے قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو:
﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ﴾
فرمایا گیا، حالانکہ کعبہ کے بانی حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں، مگر تعمیر و خدمت کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کی گئی۔
اسی طرح یہاں بھی حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجاز، مبالغہ اور دین کی نصرت و حفاظت کا بیان مراد ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کلمۂ توحید یا دین اسلام کی اصل بنیاد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں تو یہ معنی درست نہیں، کیونکہ دین کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی وحی اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں۔
لہٰذا اس شعر کی صحیح تاویل یہی ہے کہ:
"امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان قربان کرکے کلمۂ لا إلہ إلا اللہ کی سربلندی اور دین اسلام کی حفاظت فرمائی۔"
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...