نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بدمذہب سے نکاح

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب

سوال: کیا صحیح العقیدہ سنی لڑکا، دیوبندی، وہابی، اہلِ حدیث یا دیگر بدمذہب فرقے کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے؟ اگر نکاح کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے نکاح میں شریک ہونے والوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب:

صحیح العقیدہ اہلِ سنت و جماعت پر لازم ہے کہ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرے اور نکاح جیسے اہم معاملہ میں بھی صحیح العقیدہ اہلِ سنت ہی کو اختیار کرے۔

اگر کوئی لڑکی ایسے عقائد رکھتی ہو جن کی وجہ سے وہ شرعاً اسلام سے خارج ہو، تو اس سے مسلمان کا نکاح باطل ہے، منعقد ہی نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾

"اور کافر عورتوں کے نکاح کو اپنے قبضہ میں نہ رکھو۔"

(سورۂ ممتحنہ: 10)

اور اگر وہ اسلام سے خارج نہ ہو لیکن گمراہ، بدعتی اور بدمذہب ہو، تو اس سے نکاح کرنا سخت ناجائز، مکروہِ تحریمی اور دین و ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"بدمذہب تمام لوگوں اور تمام جانوروں سے بدتر ہیں۔"

(فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 129)

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»

"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اور تعلق قائم کر رہا ہے۔"

(سنن ابوداؤد، حدیث: 4833)

اور اہلِ بدعت سے دور رہنے کے متعلق متعدد آثار و روایات منقول ہیں، جن کی بنا پر فقہائے اہلِ سنت نے بدمذہبوں سے میل جول، قلبی محبت اور رشتہ داری سے اجتناب کی تاکید فرمائی ہے۔

لہٰذا ایسے نکاح سے بچنا واجب ہے۔ اگر کسی خاص صورت میں لڑکی کے عقائد ایسے ہوں جن کی بنا پر وہ شرعاً اسلام سے خارج ہو، تو اس سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

رہا ایسے نکاح میں شرکت کرنے والوں کا حکم، تو اگر وہ جانتے ہوں کہ یہ نکاح شرعاً ناجائز یا باطل ہے، پھر بھی اس کی تائید، تشہیر یا خوشی کے لیے شریک ہوں، تو وہ بھی گناہگار ہوں گے۔ البتہ اصلاح، نصیحت یا کسی معتبر شرعی عذر کی وجہ سے موجود ہونا اس حکم میں داخل نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی
خادم، دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...