سجدے میں ہر پاؤں کی کم از کم تین انگلیوں کے پیٹ کا زمین پر لگنا واجب بتایا جاتا ہے۔ کیا اس مخصوص حکم پر کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟ اگر نہیں تو فقہائے احناف نے تین انگلیوں کی تعیین کس شرعی بنیاد پر کی؟
الجواب وباللہ توفیق
اس خاص مسئلے میں اصل حدیثی بنیاد کیا ہے؟
اصل حدیثی بنیاد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سجدہ پاؤں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا:
“أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ...”
اور ایک صحیح روایت میں سجدے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ رخ رکھتے تھے۔
صحیح بخاری میں صفتِ نماز کے ضمن میں یہ مضمون موجود ہے۔ اسی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کو زمین پر رکھنا اور قبلہ رخ کرنا سنتِ نبوی ہے۔
لیکن تین انگلیوں کی تعداد کا تعین اسی حدیث کے الفاظ میں نہیں ہے۔
یہ مقدار فقہائے احناف کی فقہی تعیین ہے، جسے سجدے کے تحقق، اطرافِ اصابع، عرف اور نماز کے عملی طریقے سے متعلق فقہی اصولوں کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔
لہٰذا سائل کے سوال کا صاف اور غیر جانب دار جواب یہ ہے:
① سات اعضاء پر سجدہ کرنے کی اصل صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
② سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کا زمین پر ہونا بھی حدیث سے ثابت ہے۔
③ پاؤں کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ رخ کرنا بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
④ لیکن ہر پاؤں کی کم از کم تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنے کی مخصوص تعداد کسی صحیح مرفوع حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں۔
⑤ تین انگلیوں کی تعیین فقہی استنباط اور حنفی فقہی تفصیل ہے، نہ کہ حدیث کے عین الفاظ۔
⑥ تین انگلیوں کو ہر حال میں “سجدے کی صحت کی شرط” سمجھنا درست نہیں؛ حنفی فقہ میں اصلِ سجدہ کے تحقق کی مقدار اس سے کم بھی بیان ہوئی ہے۔
لہٰذا سائل کا یہ سوال بجا ہے کہ “تین انگلیوں کی تعیین والی حدیث کہاں ہے؟”
اس کا جواب یہی ہے کہ اس مخصوص تعیین کی کوئی صحیح مرفوع حدیث پیش نہیں کی جا سکتی؛ اس کی بنیاد فقہی *استنباط* ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ہمارے زمانہ میں یہ مشہور ہے کہ سجدہ میں کم از کم ایک انگلی کا پیٹ لگانا بایں طور کہ انگلی کا پیٹ قبلہ کی طرف ہو فرض ہے اور اگر سجدہ میں کسی انگلی کا پیٹ زمین پر نہیں لگا تو نماز فاسد ہو جائے گی یہ قول بھی بلا دلیل اور باطل ہے کیونکہ جب پیروں کا رکھنا ہی فرض نہیں ہے تو کسی انگلی کا پیٹ لگانا فرض کیسے ہوگا؟ اور اس کی بنیاد در مختار کی ایک عبارت ہے جس کو ہم پیش کرتے ہیں
علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی لکھتے ہیں سجدہ میں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کر کے رکھنا خواہ ایک انگلی ہو یہ فرض ہے ورنہ نماز جائز نہ ہوگی ( رَدُّ الْمُحْتَارِ عَلَى الدُّرِّ الْمُخْتَارِ جلد اول صفحہ۔ ۔326)۔ علامہ شامی فرماتے ہیں انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرنے کی شرط میں صریح نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح کی گئی ہے انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرنا سنت ہے اس کا ترک کرنا مکروہ (فتاویٰ شامی اول کتاب الصلاۃ) علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے میں نے بہت تفصیل اور تحقیق کی ہے کہ سجدہ میں دونوں یا کسی ایک پیر کا رکھنا فرض نہیں ہے نہ واجب ہے اور نہ کسی ایک انگلی کے پیٹ کا لگانا سجدہ میں فرض ہے یا واجب ہے اور سجدہ میں نمازی کے دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے زمین پر پر ہوں اور اس کے دونوں یا ایک پیر زمین سے اٹھ جائے یا اس کی کسی بھی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ لگے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ یہ عمل سنت کے خلاف ہے اور صرف مکروہ تنزیہی ہے ہمارے زمانہ میں بعض لوگ نماز میں لوگوں کی انگلیاں دیکھتے رہتے ہیں اور اگر کسی امام کی نماز میں کویی انگلی زمین سے نہ لگے تو اس امام کے خلاف فتوں کا طوفان اٹھا لیتے ہیں اور اس غریب کو مسجد سے نکال کر دم لیتے ہیں کیونکہ عام اردو کتابوں میں مشایخ احناف نے اسی طرح لکھا ہے لیکن ان کا یہ قول صریح قرآن وحدیث اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد اور ان کے بعد شیخ الاسلام سرخی علامہ شامی اور دیگر محققین کی تصریح کے خلاف ہے کیونکہ سجدہ کی حقیقت صرف پیشانی یا ناک کو زمین پر رکھنا ہے البتہ ہاتھوں کے ساتھ گھٹنوں یا پیروں میں کسی ایک کا کالا علی التعین زمین پر رکھنا واجب ہے کیونکہ فرض کا مقدمہ فرض ہوتا ہے اور چونکہ یہ فرض ظنی ہے اس لیے یہ حکمنا واجب ہے شرح صحیح مسلم جلد اول کتاب الصلاۃ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دارالافتاء گلزار طیبہ
تحقیق سینٹر
ابو احمد ایم۔ جے۔ اکبری نوری قادری حنفی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com