جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینے کا حکم الجواب وباللہ التوفیق جمعہ کے دن خطیب صاحب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد جو اذان دی جاتی ہے، اس کا جواب مقتدی حضرات نہ دیں، بلکہ خاموش رہیں، یہی اولیٰ ہے۔ البتہ خطیب صاحب اذان کا جواب دے سکتے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: سوال: جمعہ کے روز جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کو آجائے اور اذان کہی جائے تو کلماتِ اذان کا جواب دینا اور بعد ازاں دعائے اذان پڑھنی چاہیے یا نہیں؟ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نامِ پاک پر اذان میں انگوٹھا چومنا یا خطبہ میں آن حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پر انگوٹھا چومنا چاہیے یا نہیں؟ جواب: اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دعا میں امام و صاحبین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اختلاف ہے، بچنا اولیٰ اور کریں تو حرج نہیں۔ یوں ہی اذانِ خطبہ میں نامِ پاک پر انگوٹھے چومنا، اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 8، صفحہ 468، رضا فاؤنڈیشن) فتاویٰ رضویہ کی مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ جمعہ کے خطبے کی اذان کا جواب دینے اور اس کے بعد دعا پڑھنے میں اختلاف ہے۔ لہٰذا مقتدی حضرات کے لیے خاموش رہنا اولیٰ ہے، البتہ جواب دینے...