سوال: اگر کوئی امام صاحب کمیٹی یا لوگوں کے ڈر سے، یا اپنے ذاتی فائدے کے لیے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہوں، تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ الجواب: اسلام میں جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ﴾ ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا اور بہت جھوٹا ہو۔ (سورۂ غافر: 28) اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) لہٰذا اگر کوئی امام صاحب اپنے ذاتی مفاد، کمیٹی یا لوگوں کے خوف سے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں، تو وہ سخت گناہ گار ہیں۔ اگر وہ علانیہ اس گناہ پر قائم ہیں تو فاسقِ معلن شمار ہوں گے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "تمہارے اور فاسق کے درمیان کوئی احترام نہیں۔" (ادب المفرد، حدیث: 1018) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاسقِ معلن کے پیچھے نماز مک...