نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام حسین کے بال سفید ہو گئے تھے

*(میدان کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے بال سفید ہو گۓ تھے روایت کی تحقیق)*

کچھ روز پہلے ایک خطیب صاحب نے ایک روایت بیان کی تھی جس میں وہ فرما رہے تھے امام عالی مقام کے بال میدان کربلا میں سفید ہو گۓ تھے، تب اس بات کو لیکر کافی تبصرہ چل رہا تھا سوشل میڈیا پر،
 مزید ایک کلپ ڈاکٹر طاہر صاحب کی جس میں وہ یہی روایت بیان فرما رہے تھے میری نظر سے گزری ڈاکٹر طاہر صاحب نے ابن عساکر کا حوالہ دیا مگر جلد نمبر صفحہ نمبر کچھ نہیں بتایا صرف یہ کہتے ہوئے نکل گئے ابن عساکر نے روایت کی ہے، ہمیں لگا چونکہ ڈاکٹر صاحب خطاب فرما رہے تھے، ہو سکتا ہے جلد صفحہ یاد نہ رہا ہو پھر ہم نے ڈاکٹر طاہر صاحب کی کتاب ذبح عظیم ذبح اسماعیل سے ذبح حسین تک میں دیکھا کہ مصنف جب کوئی بات لکھتا ہے تو ذمہداری و مضبوط حوالوں کے ساتھ لکھتا ہے شاید اس کتاب میں مضبوط حوالوں کے ساتھ لکھا گیا ہو ڈاکٹر صاحب نے صفحہ 124 پر یہی روایات لکھی ہے مگر ڈاکٹر صاحب نے وہاں بھی کوئی حوالہ نقل نہیں فرمایا اور ڈاکٹر صاحب یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ راوی کہتا ہے امام عالی مقام کی عمر 56 برس پانچ ماہ پانچ دن تھی مگر سر انور اور ریش مبارک کا ایک بال بھی سفید نہ تھا، جب امام عالی مقام حضرت علی اکبر کا لاشہ اپنے بازوں میں سمیٹ کر پلٹے تو سر انور کے سارے بال اور ریش سفید ہو چکی تھی، قارئین کرام ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں جب کوئی روایت نقل کی ہے تو اس کا حوالہ اس کے نیچے دیا ہے مگر اس روایت کو نقل کر کے صرف یہ فرماتے ہوئے نکل گئے روای کہتا ہے، پھر ہم نے ابن عساکر کی تاریخ دمشق دیکھی 14 جلد میں کربلا کا واقع اور امام عالی مقام کے فضائل بیان کیے ہیں ہم نے صفحہ 110 سے 260 تک دیکھا پر وہاں بھی یہ روایات نظر نہیں آئی نظر آتی بھی کیسے در اصل یہ روایات موضوع ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں محض سنی سنائی بات پر کسی نے تاریخ دمشق کا حوالہ دے ڈالا تو کسی نے کسی کتاب کا مگر حقیقت سے اس روایت کا کوئی تعلق نہیں، یہ روایات محض غم کو زیادہ بڑھانے کے لیے وضع کی گئی ہے، اور اس طرح کی باتیں صرف قصہ کہانیوں میں بیان کی جاتی ہیں، جیسے کے کہا جاتا ہے میری اینٹونیٹ (Marie Antoinette) کے بالوں کے سفید ہونے کی کہانی تاریخی قصوں اور لوک داستانوں کا حصہ ہے، جو کہتے ہیں کہ 1793 میں جب انہیں فرانسیسی انقلاب کے دوران سزائے موت (guillotine) کا سامنا کرنا پڑا، تو شدید صدمے اور خوف کی وجہ سے ان کے بال مبینہ طور پر ایک رات میں سفید ہوگئے۔ یہ کہانی تاریخی طور پر مبالغہ آمیز  ہے، کیونکہ بالوں کا فوری سفید ہونا (منٹوں/گھنٹوں میں) سائنسی طور پر ممکن نہیں، کیونکہ بالوں کا رنگ میلانن کی کمی سے بدلتا ہے، جو ایک تدریجی عمل ہے۔
لہٰذا، میری اینٹونیٹ کے بالوں کے سفید ہونے کی وجہ کو تاریخی طور پر سزائے موت کے خوف اور شدید ذہنی صدمے سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اس کی سچائی مشکوک ہے اور یہ زیادہ تر ایک افسانوی قصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح امام عالی مقام کے بال سفید ہونے کو صدمے و غم  کی وجہ سے جوڑا جاتا ہے کہ منٹوں یا گھنٹوں میں بال سفید ہو گۓ یہ محض ایک افسانوی بات ہے بالوں کا سفید فوری طور پر ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ بالوں کا رنگ میلانن کی کمی سے بدلتا ہے جو کے ایک تدریجی عمل ہے، 

 امام عالی مقام کے بال کربلا میں سفید ہوۓ تھے یہ محض جھوٹ و کذب بیانی ہے بلکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے امام عالی مقام کے بال کافی پہلے سفید ہو گۓ تھے اور آپ خضاب لگایا کرتے تھے اب ہم ان روایات و آثار کو پیش کرتے ہیں جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ امام عالی مقام کے سفید بال آپ کی زندگی میں کافی پہلے ہو گئے تھے جس وجہ آپ خضاب لگایا کرتے تھے،

عن قیس مولی خباب قال، دخلت علی الحسن و الحسین و ھما یخضبان بالسواد 

حضرت خباب کے غلام قیس فرماتے ہیں،
 میں نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا دونوں سیاہ خضاب لگاتے تھے 

(مصنف ابن ابی شیبة حدیث 25504)

عن انس ان الحسین بن علی رضی اللہ عنہما کان یخضب بالوسمة،

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 
حسین بن علی رضی اللہ عنہما وسمہ کا خضاب لگاتے تھے،
(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2712)

عن عیزار بن حریث قال رایت الحسن و الحسین رضی اللہ عنہما یخضبان بالحناء والکتم

حضرت حریث فرماتے ہیں میں نے امام حسن امام حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا دونوں حناء اور کتم لگاتے تھے 

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2714)

عن قیس مولی خباب قال رایت الحسن و الحسین رضی اللہ عنہما یخضبان بالسواد 

حضرت خباب کے غلام قیس فرماتے ہیں میں نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا دونوں سیاہ خضاب لگاتے تھے 

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2715)

عن العیزار بن حریث قال٫ رایت الحسین بن علی یخضب بالسواد ،

حضرت عیزار بن حریث فرماتے ہیں، 
میں نے حسین بن علی کو دیکھا آپ سیاہ خضاب لگاتے تھے۔

(معجم الکبیر للطبرانی حدیث 2719)

عن عبد الرحمن بن بزرج قال رایت الحسن و الحسین رضی اللہ عنہما ابنی فاطمة رضی اللہ عنہا یخضبان بالسواد و کان الحسین یدع العنفقة،

حضرت عبد الرحمن بن بزرج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نور نظروں کو دیکھا دونوں نور نظر سیاہ خضاب لگاتے تھے حضرت امام حسین ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان والے بال چھوڑتے تھے،

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2720)

عن الشعبی قال دخلت علی الحسین بن علی رضی اللہ عنہ وقد خضب بالسواد 

حضرت امام  شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
میں حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ نے سیاہ خضاب لگایا ہوا تھا

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2721)

عن جعفر عن ابیه ان الحسین بن علی کان یخضب بالسواد 
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سیاہ خضاب لگایا کرتے تھے 
 
(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2722)

عن سعید المقبری قال رایت الحسین بن علی یخضب بالسواد،

حضرت سعید مقبری فرماتے ہیں 
میں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ سیاہ خضاب لگاتے تھے 

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2723)

عن زھری عن علی بن الحسین ان الحسین بن علی رضی اللہ عنہ کان یخضب بالسواد 

حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سیاہ خضاب لگاتے تھے 

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2724)

عن عمر بن عطاء ابی الخوار و عبیداللہ بن ابی یزید قالا راینا الحسین بن علی یخضب بالوسمة

حضرت عمر بن عطاء بن خوار اور عبیداللہ بن یزید دونوں فرماتے ہیں ہم نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ وسمہ کا خضاب لگاتے تھے 

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2725)

و عن سفیان بن عینة قال سالت عبیداللہ بن ابی یزید رایت الحسین بن علی قال نعم ریته جالسا فی حوض زمزم قلت ھل رایت صبغ قال لا، الا انی رایته راسه ولیحته سوداء الا ھذا الموضع  یعنی عنفقة، و اسفل من ذلک بیاض و ذکر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم شاب ذلک الموضع منہ وکان یتشبه  به

حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں ، کہ میں نے عبد ابو یزید سے پوچھا آپ نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ؟ عبید نے کہا جی ہاں میں نے زمزم کے حوض میں بیٹھے ہوئے دیکھا، میں نے کہا آپ نے انہیں خضاب لگاتے ہوئے دیکھا ؟ عبید اللہ نے کہا نہیں سوائے اس کے میں نے دیکھا آپ کی داڑھی مبارک اس جگہ گردن تک سیاہ تھی اس سے نیچے سفید تھی اور ذکر کیا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جگہ سے بال سفید تھے آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 2832)

ان روایات سے روزے روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے امام عالی مقام کے بال مبارک بہت پہلے سفید ہو گۓ تھے جس وجہ سے آپ خضاب لگایا کرتے تھے، 
بلکہ امام عالی مقام جب کربلا پہنچتے ہیں تو اس وقت بھی آپ کے بالوں پر خضاب لگا ہوا تھا، صحیح بخاری میں روایت ہے،

حدثني محمد بن الحسين بن إبراهيم، قال: حدثني حسين بن محمد، حدثنا جرير، عن محمد، عن انس بن مالك رضي الله عنه، اتي عبيد الله بن زياد، براس الحسين عليه السلام فجعل في طست فجعل ينكت، وقال: في حسنه شيئا، فقال انس:" كان اشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم وكان مخضوبا بالوسمة".
مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا (کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے وسمة‏ کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔ 

[صحيح البخاری حدیث: 3748)

ان سب روایات سے معلوم ہوا یہ جو کہا جاتا ہے کہ کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے بال سفید ہو گۓ تھے یہ محض جھوٹ کذب بیانی ہے غم صدمے جس سے خوب زیادہ ظاہر ہو اس وجہ سے اس روایت کو گھڑا گیا ہے ایسی روایات بیان کرنا ناجائز ہے ، بالوں کا سفید ہونا میلانن کی کمی سے ہوتا ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ کم ہوتا رہتا ہے جس وجہ سے بال سفید ہونے لگتے ہیں منٹوں یا گھنٹوں میں یا فوری طور پر بالوں کا سفید ہونا ممکن نہیں یہ ایک تدریجی عمل ہے،

(واضح ہو مجمع الزوائد میں بھی علامہ حیثمی نے ان روایات کو جمع کیا ہے)

 اشکال اور اس کا مختصر جواب 

اشکال، کالا خضاب لگانا جائز نہیں ہے تو پھر امام عالی مقام کیوں لگاتے تھے ؟

الجواب امام عالی مقام اور دیگر صحابہ کالا خضاب لگاتے تھے ان حضرات کے پاس اس کی تاویل و توجیہ اور جواز کی دلیل تھی جس وجہ سے ان حضرات نے کالا خضاب لگایا، 

اشکال۔ پھر ہمیں کالا خضاب لگانا کیوں ناجائز ہے ؟

الجواب، کالا خضاب لگانا بعض صحابہ کا عمل ہے اور کالا خضاب لگانے کی ممانعت حدیثوں میں آئی ہے آثار و اقوال صحابہ اور حدیث میں جب تعارض ہو تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ حدیث کو مقدم کر کے حدیث پر عمل کیا کرتے ہیں پس یہی وجہ ہے کالا خضاب لگانا جائز نہیں 

واللہ اعلم باالصواب 

فقیر محمد دانش حنفی 
ہلدوانی نینی تال 
+919917420179

21/7/2025

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...