نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

औलिया से मदद मांगने

✍️ लेखक की ओर से बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम अल्हम्दुलिल्लाहि रब्बिल आलमीन, वस्सलातु वस्सलामु अला सय्यिदिल मुर्सलीन, अम्मा बाद! इस छोटे से रिसाले को लिखने का मक़सद किसी से बहस करना या इख़्तिलाफ़ फैलाना नहीं है, बल्कि अहल-ए-सुन्नत के सही अक़ीदे को क़ुरआन, हदीस और अइम्मा-ए-अहल-ए-सुन्नत की तालीमात की रौशनी में वाज़ेह करना है, ताकि मुसलमान औलिया-ए-अल्लाह के मज़ारात पर हाज़िरी का सही मक़सद, उसके शरई आदाब और औलिया-ए-अल्लाह से इस्तिआनत (मदद तलब करने) के सही तरीक़े को समझ सकें। आज हमारे समाज में मुसलमानों की एक बड़ी तादाद मज़ारात पर हाज़िरी तो देती है, लेकिन ज़ियारत का शरई तरीक़ा, ईसाल-ए-सवाब, दुआ, वसीला और नज़र-ओ-नियाज़ के अहकाम से नावाक़िफ़ है। इसी नावाक़िफ़ी की वजह से कुछ लोग ऐसे आमाल में पड़ जाते हैं जो शरीअत के ख़िलाफ़ हैं, जैसे क़ब्र को सज्दा करना, क़ब्र का तवाफ़ करना, साहिब-ए-क़ब्र के नाम की नज़र मानना, या ऐसे अल्फ़ाज़ कहना जिनसे ग़लत अक़ीदे का शुब्हा पैदा हो। दूसरी तरफ़ कुछ बदमज़हब फ़िर्क़े इन्हीं ग़लत आमाल को बहाना बनाकर पूरे अहल-ए-सुन्नत पर "क़ब्र-परस्त" होने का इल्ज़ाम लगाते ...

اولیاء اللہ سے استعانت

مصنف کی گزارش بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید المرسلین، أما بعد! اس مختصر رسالے کو تحریر کرنے کا مقصد کسی سے مناظرہ کرنا یا اختلاف کو ہوا دینا نہیں، بلکہ صحیح عقیدۂ اہلِ سنت کو قرآن و سنت اور ائمۂ اہلِ سنت کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کرنا ہے، تاکہ مسلمان مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے شرعی آداب، حدود اور اولیاء اللہ سے استعانت کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے مسلمانوں کی ہے جو مزارات پر حاضر تو ہوتی ہے، مگر شرعی طریقۂ زیارت، ایصالِ ثواب، دعا، وسیلہ اور نذر و نیاز کے احکام سے ناواقف ہے۔ اسی ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ ایسے اعمال میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہیں، مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا، ان کا طواف کرنا، صاحبِ مزار کے نام کی نذر ماننا یا ایسے الفاظ کہنا جن سے غلط عقیدے کا شبہ پیدا ہو۔ دوسری طرف بعض بد مذہب گروہ انہی غلط اعمال کو بنیاد بنا کر پورے اہلِ سنت پر "قبر پرست" ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں، حالانکہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہرگز یہ نہیں۔ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، حقیقی ن...

کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے سے

کھڑے ہو کر پاجامہ پہننے سے لاعلاج بیماری آتی ہے؟ ایک تحقیقی جائزہ ✍️ دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت) مرتب: مفتی ابو احمد ایم. جے. اکبری الجواب وباللہ التوفیق بعض لوگوں میں ایک روایت بہت مشہور ہے کہ: "جو شخص کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے گا، وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوگا جس کی کوئی دوا نہیں۔" یہ بات عوام میں اس قدر مشہور ہو چکی ہے کہ بہت سے لوگ اسے حدیثِ رسول ﷺ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس روایت کی حقیقت علامہ دانش حنفی برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔ حدیث کی کسی معتبر اور معروف کتاب میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ اگرچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بعض تصانیف میں اس کا ذکر کیا ہے، لیکن اس کی کوئی معتبر سند بیان نہیں کی، اور بعد کے لوگوں نے بلا تحقیق ایک دوسرے سے نقل کرتے ہوئے اسے مشہور کر دیا، یہاں تک کہ عوام نے اسے حدیث سمجھ لیا۔ محدثین کا اصول علمائے حدیث نے واضح فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات اس وقت تک منسوب نہیں کی جا سکتی جب تک وہ صحیح یا قابلِ قبول سند سے ثابت نہ ہو۔ امام عبداللہ بن مبارک...

قرآن وحدیث کے سامنے کسی کا قول

🌹 اہلِ علم، طلبہ اور عام مسلمانوں سے ایک  اہم گزارش 🌹 زیرِ نظر رسالہ "قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں اپنے دینی پیشواؤں کو ترجیح دینے کی مذمت" ایک نہایت اہم اور فکر انگیز تحریر ہے، جس میں قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ، آثارِ صحابہ اور اکابرِ امت کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دین میں اصل حجت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔ یہ رسالہ اندھی عقیدت، بے جا تعصب اور شخصیت پرستی کے نقصانات کو بیان کرتا ہے اور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ائمہ و علماء کا ادب اپنی جگہ، لیکن قرآن و سنت سب سے مقدم ہیں۔ لہٰذا ہر طالبِ علم، امام، خطیب، عالمِ دین اور ہر سنجیدہ مسلمان سے گزارش ہے کہ اس رسالے کا ضرور مطالعہ فرمائیں، اپنے اہل و احباب تک پہنچائیں اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کریں، تاکہ ہم قرآن و سنت کی صحیح سمجھ حاصل کر سکیں اور اعتدال و انصاف کے راستے پر گامزن رہیں۔ مطالعہ کیجیے، غور کیجیے اور دوسروں تک بھی پہنچائیے، کیونکہ علم جتنا پھیلے گا، گمراہی کے اندھیرے اتنے ہی کم ہوں گے۔ ✍️ مفتی ابو احمد ایم۔ جے۔ اکبری  دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت) ٠) قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں اپنے دین کے  پ...

मूसाफा

मुसाफ़हा और दस्तबोसी : हक़ीक़त, फ़ज़ीलत और हमारी ज़िम्मेदारी क़ुरआन व हदीस की रौशनी में एक तफ़्सीली मज़मून अल्लाह तआला ने इस्लाम को मोहब्बत, भाईचारे और आपसी रिश्तों को मज़बूत करने वाला दीन बनाया है। मुसलमानों के दिलों को जोड़ने, नफ़रतों को मिटाने और आपसी मोहब्बत को बढ़ाने के लिए शरीअत ने कई तरीक़े बताए हैं। उन्हीं में से एक मुसाफ़हा (हाथ मिलाना) और दूसरा दस्तबोसी (हाथ चूमना) है। लेकिन अफ़सोस कि आज इन दोनों मसाइल में ग़लत फ़हमियाँ पैदा हो गई हैं। कुछ लोग दस्तबोसी को ऐसा ज़रूरी समझ बैठे हैं कि जो व्यक्ति दस्तबोसी न करे, उसे बे-अदब और गुस्ताख़ तक कह दिया जाता है, जबकि शरीअत का हुक्म इससे अलग है। मुसाफ़हा की फ़ज़ीलत 1- गुनाहों की माफ़ी हज़रत बराअ बिन आज़िब रज़ियल्लाहु अन्हु से रिवायत है कि रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया: "जब दो मुसलमान आपस में मुलाक़ात करें और मुसाफ़हा करें, तो उनके अलग होने से पहले उनके गुनाह माफ़ कर दिए जाते हैं।" 📚 (सुनन अबू दाऊद, हदीस: 5212, सुनन तिर्मिज़ी, हदीस: 2727) 2- दिलों की सफ़ाई और मग़फ़िरत रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया: "जो मुसलमान अपने भाई से इस हाल में मु...

مصافحہ اور دست بوسی

مصافحہ اور دست بوسی: حقیقت، فضیلت اور ہماری ذمہ داری قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تفصیلی مضمون اللہ تعالیٰ نے اسلام کو محبت، بھائی چارے اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے والا دین بنایا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو مٹانے اور آپس میں محبت بڑھانے کے لیے شریعت نے کئی طریقے بتائے ہیں۔ انہی میں سے ایک مصافحہ (ہاتھ ملانا) اور دوسرا دست بوسی (ہاتھ چومنا) ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ان دونوں مسائل میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ کچھ لوگ دست بوسی کو ایسا ضروری سمجھ بیٹھے ہیں کہ جو شخص دست بوسی نہ کرے، اسے بے ادب اور گستاخ تک کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ شریعت کا حکم اس سے مختلف ہے۔ مصافحہ کی فضیلت 1- گناہوں کی معافی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" 📚 (سنن ابی داؤد، حدیث: 5212، سنن ترمذی، حدیث: 2727) 2- دلوں کی صفائی اور مغفرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان اپنے بھائی سے اس حال میں مصافحہ کرے کہ ان دونوں میں سے کسی کے دل میں دوسرے کے ...

طبری شیعہ تھا

*طبری نے حضرت امیر معاویہ پر لعنت کیوں بھیجی* السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ امام طبری نے حضرت امیر معاویہ پر لعنت ہو لکھا ہے اس بارے میں رہنمائی فرمائے ،،، مصباح الدین و علیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ  الجواب ھو الھادی الی الصواب ابن جریر طبری شیعہ سنی کے درمیان متنازع شخصیت ہے، طبری کا جھکاؤ شیعہ کی طرف تھا طبری کا بھانجا خود اپنے ان اشعار میں فخریہ انداز میں ذکر کرتا ہے با مل مولدی و بنو جریر فاخو الی و یحکی المرء خالہ فھا انا رافضی عن کلا لہ (الکنی والا لقاب جلد اول) ترجمہ مقام مل میری جاۓ پیدائش ہے, اور جریر کے بیٹے میرے ماموں ہے، اور آدمی اپنے ماموں کے مشابہ ہوتا ہے،ہاں ہاں میں جدی پشتی شیعہ ہوں اور میرے سوا شیعہ کہلانے والا جدی پشتی نہیں بلکہ دور کا شیعہ ہے اس شعر میں خود اقرار کیا یے ابن جریر طبری شیعہ ہے اس لیے جو بات طبری کی عقائد اہلسنت کے موافق ہوں گی ،  اس کو تو ہم قبول کرسکتے ہیں، لیکن اگر طبری کی کوئی بات عقائد اہلسنت کے خلاف ہوگی اس کو ہم قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا جس روایت کے تعلق سے آپنے سوال کیا یے،...