نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اولیاء اللہ سے استعانت

مصنف کی گزارش


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید المرسلین، أما بعد!

اس مختصر رسالے کو تحریر کرنے کا مقصد کسی سے مناظرہ کرنا یا اختلاف کو ہوا دینا نہیں، بلکہ صحیح عقیدۂ اہلِ سنت کو قرآن و سنت اور ائمۂ اہلِ سنت کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کرنا ہے، تاکہ مسلمان مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے شرعی آداب، حدود اور اولیاء اللہ سے استعانت کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں۔

آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے مسلمانوں کی ہے جو مزارات پر حاضر تو ہوتی ہے، مگر شرعی طریقۂ زیارت، ایصالِ ثواب، دعا، وسیلہ اور نذر و نیاز کے احکام سے ناواقف ہے۔ اسی ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ ایسے اعمال میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہیں، مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا، ان کا طواف کرنا، صاحبِ مزار کے نام کی نذر ماننا یا ایسے الفاظ کہنا جن سے غلط عقیدے کا شبہ پیدا ہو۔

دوسری طرف بعض بد مذہب گروہ انہی غلط اعمال کو بنیاد بنا کر پورے اہلِ سنت پر "قبر پرست" ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں، حالانکہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہرگز یہ نہیں۔ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، حقیقی نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اولیاء اللہ اس کے مقرب بندے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے، ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے ائمہ، خطباء اور مقررین نے اولیاء اللہ کی شان، فضائل اور کرامات کو تو خوب بیان کیا، لیکن ان سے متعلق شرعی حدود اور آداب کو اسی اہتمام کے ساتھ عام نہیں کیا۔ نتیجتاً عوام میں بہت سی غلط رسمیں اور غیر شرعی اعمال رائج ہو گئے، جنہیں بعد میں مخالفین نے اہلِ سنت کے خلاف پروپیگنڈے کا ذریعہ بنا لیا۔

اگر وقتاً فوقتاً قرآن و حدیث اور فقہائے امت کی روشنی میں لوگوں کو یہ بتایا جاتا کہ زیارتِ قبور سنت ہے، ایصالِ ثواب جائز ہے، وسیلہ مشروع ہے، لیکن سجدہ، طواف، غیر اللہ کے نام کی نذر اور ہر وہ عمل جو عبادت کے مشابہ ہو، ناجائز اور حرام ہے، تو آج یہ صورتِ حال پیدا نہ ہوتی۔

اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یہ رسالہ مرتب کیا گیا ہے، تاکہ اہلِ سنت کا صحیح اور متوازن عقیدہ عام ہو، غلط فہمیاں دور ہوں، اور مسلمان محبتِ اولیاء کے ساتھ ساتھ شریعت کی مقرر کردہ حدود کی بھی پابندی کریں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس معمولی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے حق کی پہچان کا ذریعہ بنائے، اور ہمیں قرآن و سنت اور مسلکِ اہلِ سنت پر استقامت عطا فرمائے۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

✍️ مفتی ابو احمد ایم۔ جے۔ اکبری
دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت)
اولیاء اللہ سے مدد مانگنا ؟
حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں (سواری پر) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اے لڑکے! میں تمہیں چند (اہم) باتیں سکھاتا ہوں: تم اللہ (کے احکام) کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے (مددگار) پاؤ گے۔ جب تم کچھ مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، اور جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد چاہو۔ اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ اگر تمام امت (لوگ) مل کر بھی تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے، تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور اگر وہ سب مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمہیں اس سے زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے (تقدیر کے صفحات) خشک ہو چکے ہیں"،(جامع ترمذی 2516)
حدیثِ مبارکہ کی تفصیلی شرحامام ابن رجب الحنبلیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ایمان اور عقیدے کے ایسے عظیم اصولوں پر مشتمل ہے کہ انسان کو ہر حال میں اسی کا محتاج رہنا چاہیے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:1۔ "تم اللہ کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا"مطلب: اللہ کی حفاظت کرنے سے مراد اللہ کے احکامات پر عمل کرنا، اس کی حدود کو نہ توڑنا اور حرام کردہ چیزوں سے بچنا ہے۔بدلہ: جب بندہ اللہ کے دین کی حفاظت کرتا ہے، تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے جان، مال، عزت اور ایمان کی حفاظت فرماتا ہے۔2۔ "اللہ کا خیال رکھو، اسے اپنے سامنے پاؤ گے"مطلب: انسان جب تنہائی اور محفل ہر جگہ اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے قریب ہو جاتا ہے۔بدلہ: جب انسان پر کوئی مشکل یا پریشانی آتی ہے، تو اللہ غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔3۔ "جب مانگو تو اللہ سے مانگو، مدد چاہو تو اللہ سے چاہو"توحید کا اصل مغز: یہ جملہ بندے کا تعلق براہِ راست خالق سے جوڑتا ہے۔ انسان کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لیے صرف اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔مخلوق سے بے نیازی: انسانوں کے سامنے عاجزی کرنے کے بجائے کائنات کے مالک کے سامنے جھکنا ہی حقیقی عزت ہے۔ (یاد رہے کہ دنیاوی اسباب کے تحت کسی سے جائز مدد لینا منع نہیں، لیکن دل کا بھروسہ اور حقیقی مسبب الاسباب صرف اللہ کو ماننا ضروری ہے)۔4۔ "اگر تمام امت مل کر فائدہ یا نقصان پہنچانا چاہے..."توکل کی انتہا: یہ جملہ انسان کو دنیا کے ہر خوف اور لالچ سے آزاد کر دیتا ہے۔فائدہ: جب انسان کو یقین ہو جائے کہ کوئی افسر، حاکم، دشمن یا دوست اللہ کی مرضی کے بغیر اسے ایک ذرے کا نہ فائدہ دے سکتا ہے نہ نقصان، تو وہ مخلوق کے ڈر اور چاپلوسی سے نکل کر صرف اللہ کی رضا کا طالب بن جاتا ہے۔5۔ "قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے"تقدیر پر یقین: کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ سب کچھ لکھ چکا ہے۔ جو کچھ ہونا ہے وہ طے شدہ ہے۔ اس لیے ماضی کے نقصانات پر پچھتانے (کاش ایسا ہو جاتا) اور مستقبل کے خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے بندے کو موجودہ وقت میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ علامہ سید محمود آلوسی فرماتے ہیں اسی حدیث کی وجہ سے حضرت ابن عباس نے استعانت (مدد) میں عموم کا قول اختیار کیا ہے سو جس شخص نے اپنے اہم معاملات بلکہ دوسرے غیر اہم معاملات میں بھی غیر اللہ سے مدد چاہی تو اس نے ایک عبث عمل کیا اللہ تعالیٰ سے کیوں نہ مدد طلب کی جاتی حالانکہ وہ غنی کبیر ہے اور دوسروں سے کیسے مدد طلب کی جائے گی جبکہ سب اس کے محتاج ہیں اور محتاج کا محتاج سے مدد طلب کرنا ناپختہ رایے ہے اور عقل کی کج روی اور میں نے کتنے لوگوں کو دیکھا جنہوں نے غیر اللہ سے عزت اور دولت طلب کی اور وہ ذلیل اور فقیر ہوئے سوا اللہ کے اور کوئی اس لایق نہیں کہ اس سے مدد طلب کی جائے ( روح المعانی ج 1 صفحہ 91 کے حوالے سے تبیان القرآن اؤل صفحہ 185) 
علامہ مرغابی فرماتے ہیں جو شخص اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے أولاد کی طلب کے لیے اولیاء اللہ کے مزارات پر جا کر ان سے مدد مانگنا ہے وہ گمراہ ہو گیا ( تفسیر مرغابی)  اس کے جواب میں علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک یہ فتویٰ درست نہیں کہ زمانہ جاہلیت میں کفار بتوں کو مستحق عبادت قرار دیتے تھے اسی عقیدے کے ساتھ مدد مانگتے تھے لیکن مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مستحق عبادت قرار نہیں دیتا ہو اور نہ اولیاء اللہ کو متصرف بالذات سمجھتا نہ ان تصرف میں مستقل سمجھتا ہو بلکہ یہ سمجھتا ہو کہ اولیاء اللہ اللہ کی دی ہوئی قدرت اور اس کی اجازت سے اس کاینات میں تصرف کرتے ہیں اور اسی عقیدے کے ساتھ ان سے مدد طلب کرے جایز ہے تاہم ہمارے نزدیک شریعت کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا چاہیے اولیاء اللہ بھی اللہ کے محتاج ہے تو سلامت روی اسی میں ہے کہ ہر حاجت اللہ تعالیٰ سے طلب کی جائے ہر ضرورت میں اس کے آگے دست سوال دراز کیا جائے ہم نے عن پڑھ عوام کو اولیاء اللہ کے مزارات پر بار ہا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے' منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتے اسی طرح ان کو مزارات پر صاحب مزار کی نزر اور منت مانگتے ہوئے دیکھا ہے' حالانکہ نزر بھی عبادت ہے اور غیر اللہ کی نزر مانگنا جایز نہیں (تبیان القرآن اؤل 186)
::::==============
📖 سورۃ یونس، آیات: 22-23 (اردو ترجمہ)

آیت 22:

> هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ



ترجمہ: وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انہیں موافق ہوا کے ساتھ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں، پھر ان پر ایک تیز آندھی آ جاتی ہے اور ہر طرف سے موجیں ان پر چڑھ آتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ (ہلاکت میں) گھر گئے ہیں، تو اس وقت وہ خالص اللہ ہی کو پکارتے ہیں، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے کہ: اگر تو ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہو جائیں گے۔


---

آیت 23:

> فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ



ترجمہ: پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو وہ فوراً زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمہاری سرکشی کا وبال تمہاری اپنی جانوں پر ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کا چند روزہ فائدہ ہے، پھر تمہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، اس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔

📖 (سورۃ یونس، آیات: 22-23)
امام رازی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں ان کافروں نے انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام کی صورتوں کے بت بنا لیے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ جب ان بتوں کی عبادت کریں گے تو وہ بت اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے اور اس زمانے میں اس کی نظیر یہ ہے کہ بہت لوگ اولیاء اللہ کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ جب وہ ان قبروں کی تعظیم کریں گے تو وہ اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے (تبیان القرآن بہ حوالہ تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 556) قبروں کو سجدہ کرنا قبر کا طواف کرنا اور حصول منفعت کے لیے صاحب قبر کی نزر ماننا قبر کے سامنے جھکنا یہ تمام امور حرام ہے (تبیان القرآن اؤل صفحہ 187) 
شامی میں ہے جان لو کہ وہ نزر جو جو اکثر لوگوں کی جانب سے اموات کے لیے واقع ہوتی ہے اور جو درہم شمع اور تیل وغیرہ اولیاء کرام کی قبروں کے لیے لے جایا جاتا ہے تاکہ ان اولیاء کرام کا قرب حاصل کیا جائے یہ بالاجماع باطل اور حرام ہے جب تک وہ ان چیزوں کے بارے میں فقرا پر خرچ کرنے کا قصد نہ کیا جائے لوگ اس بارے میں آزمایش میں مبتلا ہو گئے ہیں ( علامہ سید  محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی فرماتے ہیں 
یہ کہی وجہ سے باطل ہے ان میں سے یہ ہے 1 یہ مخلوق کے لیے نزر ہے اور مخلوق کے لیے نزر جایز نہیں کیونکہ یہ عبادت ہے اور عبادت مخلوق کے لیے نہیں ہوتی 2 یہ جس کے لیے نزر مانی گئی وہ مردہ ہے اور میت مالک نہیں ہو سکتی 3 اگر یہ گمان کرے کہ میت اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ امور میں تصرف کرتی ہے جبکہ یہ اعتقاد کفر ہے مگر جب یہ کہے کہ اے اللہ میں نے تیری نزر مانی ہے اگر تونے میرا مریض ٹھیک کر دیا یا تونے میرے غایب کو لوٹا دیا تو میں ان فقرا کو کھانا کھلاؤں گا جو امام شافعی کے دروازے پر ہوتے ہیں (تو یہ جائز ہے)  کہ نذر اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اور شیخ کا ذکر یہ محض نزر کے صرف کرنے کے محل کے طور پر ہوگا وہاں ان کی خانقاہ میں مستحق رہائیش پزیر ہیں ان پر خرچ کی جائے تو اس اعتبار سے یہ عمل جایز ہے (فتاویٰ شامی جلد چہارم صفحہ 180)
==========================
اولیاء اللہ سے استعانت کا صحیح طریقہ

(تبیان القرآن کی روشنی میں آسان تشریح)

اولیاء اللہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔ ان سے محبت کرنا، ان کی تعظیم کرنا اور ان کے مزارات کی زیارت کرنا شریعت میں جائز بلکہ باعثِ ثواب ہے، کیونکہ زیارتِ قبور سنت ہے۔ تاہم ہر مسلمان کو یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ حقیقی حاجت روا، مشکل کشا اور نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

اس لیے اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضر ہونے کا صحیح اور شرعی طریقہ یہ ہے کہ:

1. زیارت کی نیت سے جائیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کی ترغیب دی ہے۔


2. قرآنِ کریم کی تلاوت، درود شریف اور دیگر نیک اعمال کا ثواب اولیاء اللہ کو ایصال کریں، کیونکہ ایصالِ ثواب میت کے لیے باعثِ نفع ہے۔


3. ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے امت کو اہلِ قبور کے لیے دعا کرنے کی تعلیم دی ہے۔


4. اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت انبیاء و اولیاء کے وسیلے سے دعا کریں، کیونکہ وسیلہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ میں اپنے اور سابقہ انبیاء علیہم السلام کے وسیلے سے دعا فرمائی۔


5. اگر اولیاء اللہ سے کوئی عرض کرنی ہو تو یہ عرض کی جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری مغفرت، حاجت روائی اور خیر کے لیے دعا فرمائیں۔ اس کی اصل نابینا صحابی والی مشہور حدیث سے ثابت ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں دعا اور وسیلہ سکھایا۔



خلاصۂ کلام

اولیاء اللہ کا احترام، ان کی زیارت، ایصالِ ثواب اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا جائز ہے، لیکن عبادت کی کوئی بھی قسم—جیسے سجدہ، نذر، طواف یا مستقل مؤثر سمجھ کر پکارنا—صرف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ مسلمان کا عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ اولیاء اللہ بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج بندے ہیں، اور ہر حاجت پوری کرنے والا حقیقت میں صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

📚 ماخوذ از: تبیان القرآن، جلد 1
وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيقُ وَإِلَيْهِ الِاسْتِعَانَةُ
ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...