عرضِ مصنف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
یہ مختصر رسالہ ’’عصمتِ انبیاء علیہم السلام‘‘ کے موضوع پر ایک تحقیقی کاوش ہے۔ اس کی ترتیب و تحریر میں بالخصوص تفاسیرِ معتبرہ اور کتبِ حدیث و عقائد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ دورانِ تحقیق بعض ایسی روایات، واقعات اور تفسیری عبارات سامنے آئیں جن میں انبیائے کرام علیہم السلام، بالخصوص سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف ایسے الفاظ یا امور کی نسبت کی گئی ہے جن کی صحیح تحقیق اور درست مفہوم کا بیان ضروری ہے۔
اسی مقصد کے پیشِ نظر اس رسالے میں بعض تفاسیر میں مذکور واقعات کی تحقیقی وضاحت، عصمتِ انبیاء علیہم السلام کے اصولی دلائل، اور حضور اکرم ﷺ کی طرف لفظ ’’ذنب‘‘ کی نسبت کی علمی و تحقیقی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اہلِ حق کے عقیدۂ عصمتِ انبیاء علیہم السلام کی صحیح ترجمانی ہو اور ان عبارات کے متعلق پیدا ہونے والے شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ’’تبیان القرآن‘‘، شرح صحیح مسلم، حضرت قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’الشفا‘‘، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ اور دیگر اکابر و محققین کی کتب سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔ مقصد کسی بزرگ عالمِ دین کی تنقیص یا کسی معتبر کتاب پر اعتراض کرنا نہیں، بلکہ اہلِ سنت کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں عبارات و روایات کی صحیح مراد متعین کرنا اور مسئلہ کو تحقیق کے ساتھ پیش کرنا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ یہ رسالہ ایک تحقیقی کوشش ہے۔ ممکن ہے دورانِ کتابت یا ٹائپنگ کے وقت کہیں املائی، طباعتی یا حوالہ درج کرنے میں سہو رہ گیا ہو۔ اگر اہلِ علم کو کسی مقام پر کوئی علمی یا کتابتی غلطی نظر آئے تو اسے مصنف کی طرف سے ضد یا حتمی دعویٰ نہ سمجھا جائے، بلکہ اصلاح اور نشاندہی کو علمی امانت سمجھتے ہوئے قبول کیا جائے گا۔ اہلِ علم سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر کہیں کوئی قابلِ اصلاح مقام نظر آئے تو دلیل اور حوالہ کے ساتھ آگاہ فرمائیں، تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی اصلاح کی جا سکے۔
اللہ تعالیٰ اس ادنیٰ کوشش کو شرفِ قبول عطا فرمائے، حق کو حق سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں میں انبیائے کرام علیہم السلام، بالخصوص تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و محبت کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔
وما توفیقی إلا باللہ، علیہ توکلت وإلیہ أنیب۔
خادم دارالافتاء گلزار طیبہ
تحقیق سینٹر
ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی
ایصالِ ثواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یہ رسالہ ’’عصمتِ انبیاء علیہم السلام‘‘ کے ثواب کو بطورِ ایصالِ ثواب اپنے مرحوم والدین اور اپنے مرحوم فرزند محمد رضا کی ارواحِ طیبہ کو پیش کرتا ہوں۔
اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ ثَوَابَ هٰذَا الْعَمَلِ الْمُتَوَاضِعِ إِلَىٰ أَرْوَاحِ وَالِدَيَّ الْمَرْحُومَيْنِ وَإِلَىٰ رُوحِ ابْنِي مُحَمَّدٍ رِضَا، وَاجْعَلْهُ لَهُمْ نُورًا وَرَحْمَةً وَمَغْفِرَةً، وَارْفَعْ دَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ، وَنَوِّرْ قُبُورَهُمْ، وَاجْعَلْ هٰذَا الْعَمَلَ صَدَقَةً جَارِيَةً لَهُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ۔
اے اللہ! اس عاجزانہ علمی کاوش کا ثواب میرے مرحوم والدین اور میرے مرحوم فرزند محمد رضا کی ارواحِ طیبہ کو عطا فرما، اسے ان کے لیے نور، رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بنا، ان کے درجاتِ جنت بلند فرما، ان کی قبور کو نور سے منور فرما اور اس عمل کو ان کے لیے قیامت تک اجر و ثواب کا ذریعہ بنا۔
یا اللہ! اپنے محبوبِ مکرم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے ہمارے اس ایصالِ ثواب کو شرفِ قبول عطا فرما۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
بسم اللہ الرحمن الرحیم امت کا اس پر اجماع ہے کہ انبیاء کرام جہنم سے محفوظ اور مامون ہیں اور ان کا مقام جنت خلد ہے انبیاء کرام فرشتوں سے افضل ہیں اور فرشتوں سے گناہ صادر نہیں ہوتے تو انبیاء کرام سے بطریق اولی صادر نہیں ہونگے فرشتوں سے افضلیت کی یہ ہے کہ فرشتے عالمین میں داخل ہیں اور اور اللہ تعالی نے انبیاء کرام کو تمام عالمین پر فضیلت دی ہے اللہ تعلی فرماتا ہے
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ ( آل عمران ۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان
بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو سارے جہان سے۔
اگر انبیاء کرام ! معصیت کریں تو ہم پر معصیت کرنا واجب ہوگی کونکہ ان کی اتباع واجب ہے اور دوسرے دلایل سے ہم پر معصیت کرنا حرام ہے سو لازم آے گا کہ ہم پر معصیت کرنا واجب بہی اور حرام بھی ہو اور یہ اجتماع ضدین ہے انبیاء کرام کی عصمت پر جو اعتراضات کئے جاتے ہے ان کا اجمالی جواب یہ ہے کہ کچھ روایات میں انبیاء کرام کی طرف بعض ایسے واقعات منسوب ہیں جو عصمت کے خلاف ہیں یہ تمام واقعات اخبار احاد سے مروی ہیں اور یہ روایات ضعیف اور ساقط الاعتبار ہے اور قرآن مجید کی بعض آیات میں جو انبیاء کرام کی طرف عصیان غوایت اور ذنب کی نسبت ہے وہ سہہ نسان ( ترک اولی یا اجتہادی خطا پر محمول *) ہے اور انبیاء کرام کا توبہ اور استغفار کرنا ان کی کمال توضع انکساری اور امثال امر ہے اب ہم انبیاء کرام کی عصمت پر کئے جانے والے اعتراضات کے تفصیلی جوابات شیخ التفسیر حضرت علامہ غلام رسول سیعدی کی شرح صحیح مسلم کے حوالے سے عرض کرتے ہے حضرت آدم علیہ السلام کی عصمت پر اعتراض کا جواب
ُحضر آدم علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید میں ہے
وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ (121
طاہ ) آدم نے اپنے رب کی معصیت کی تو وہ (سکونت جنت کی راہ سے ) بے راہ ہوگئے اس آیت میں حضرت آدم کی معصیت کا ثبوت ہے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت آدم کی طرف ظاہر اور صورتہ معصیت کا اسناد کیا گیا ہے کیونکہ حضرت آدم نے بھول کر شجرممنوعہ کھایا تھا اور گناہ تب ہوتا ہے جب قصد اور ارادہ سے عمدن معصیت کا ارتکاب کیا جائے مثلان اگر کوئی روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو نہ گناہ ہے نہ اس سے روزہ ٹوٹتا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے بھول کر شجرممنوعہ کھانے پر یہ آیت دلیل ہے لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ (115۔ طاہ)
ترجمۂ کنز الایمان
اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا ۔،،،
اس جواب پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی مزکور زیل آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت آدم نے بھول کر نہیں بلکہ قصد اور ارادہ سے شجر ممنوعہ کھایا تھا وہ آیت یہ ہے ،
سورۃ الاعراف، آیات 20 تا 22 کا متعلقہ حصہ
﴿20﴾
وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ
ترجمہ:
اور اس نے کہا: تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے صرف اس لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔
﴿21﴾
وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ
ترجمہ:
اور اس نے دونوں سے قسم کھا کر کہا: بے شک میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں۔
﴿22﴾
فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا
ترجمہ:
پھر اس نے دھوکے سے ان دونوں کو پھسلا دیا، پھر جب ان دونوں نے اس درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرم کی چیزیں ان پر ظاہر ہوگئیں۔
علامہ غلام رسول سعیدی فرماتے ہے اس آیت میں یہ مزکور نہیں ہے کہ حضرت آدم نے شیطان کے اس قول کی تصدیق کی اور اس کے بعد اس درخت سے کھا لیا ، اور حضرت آدم سے شیطان کے اس قول کی تصدیق کیونکہ متصور ہو سکتی ہے کیونکہ اگر شیطان کے اس قول کی تصدیق کرتے تو یہ شجر ممنوعہ کھانا بڑا گناہ تھا کیونکہ شیطان نے انھیں اللہ سے بد گمان ہونے کے لیے کہا اور اللہ کا حکم نہ ماننے کی دعوت دی اور اپنی خیر خواہی کا یقین دلایا ، اگر حضرت آدم علیہ السلام ان امور کی تصدیق کر دیتے تو یہ بڑا شدید گناہ تھا حضرت آدم علیہ السلام کو ابلیس کے سجدہ نہ کرنے اور اس کے بغض و حسد کا علم تھا اور اللہ تعلی یہ فرما چکا ہے
وَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰ (سورۃ طٰہٰ — آیت 117)
ترجمہ:
اور ہم نے فرمایا: اے آدم! بے شک یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے، پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ ۔۔۔۔۔ اللہ تعالی کے مقابلہ میں حضرت آدم علیہ السلام شیطان کی خیر خواہی کی تصدیق نہیں کرسکتے تھے دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم بھول گئے کہ یہ نہی تحریم ہے اور انھوں نے یہ گمان کیا کہ یہ نہی تنزیہ ہے سو انھوں نے اپنے اجتہاد سے شجرممنوعہ عمدا کھا لیا اور یہ ان کی اجتہادی خطا تھی اجتہادی خطا گناہ نہیں ہے بلکہ اس پر اجر ملتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کا توبہ اور استغفار کرنا ان کی توضع اور انکساری ہے اور ان کو جنت سے زمین کی طرف آنے کا حکم دینا سزا نہیں ہے بلکہ یہ ان کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہے کیونکہ ان کو زمین پر خلافت الاہی کے لیے پیدا کیا گیا تھا یہ خیال کیا جائے کہ اس معرکہ میں شیطان کامیاب ہو گیا کیونکہ شیطان حضرت آدم کے جنت میں عارضی قیام کو بھی برداشت نہیں کر سکا اور اب وہ دنیا میں آکر اور فرائض نبوت پورے کر کے دائمی قیام کے لیے جنت جائیں گے نیز وہ ان کے تنہا وجود کو برداشت نہیں کر سکا اور دنیا میں آنے کے بعد حضرت آدم اپنی بے شمار ذریت کے ساتھ جنت میں جائیں گے اور شیطان لعنتی ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا اس لیے حضرت آدم کا دنیا میں آنا بہت بڑی کامیابی کا پیش خیمہ تھا اور شیطان کی ناکامی اور نا مرادی کا مقدمہ تھا سو اس معرکہ میں حضرت آدم علیہ السلام کامیاب ہوئے اور شیطان خائب و خاسر ہوا قرآن مجید میں ہے
ُ
فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيْمَاۤ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (سورۃ الأعراف — آیت 190)
ترجمہ:
پھر جب اللہ نے انہیں صحیح سالم اولاد عطا فرمائی تو دونوں نے اس عطا میں اللہ کے شریک ٹھہرا دیے۔ پس اللہ پاک ہے ان کے شرک سے۔،،،
کہا جاتا ہے کہ یہ ضمیریں حضرت آدم اور حواء کی طرف رائج ہیں حالنکہ اگر یہ مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ نبی نے شرک کیا ہو اور یہ خلاف اجماع ہے اس لئے اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ ضمیریں حضرت آدم اور حضرت حواء کی طرف نہیں ملقا مرد اور عورت کی طرف رائج ہیں اور یہی قرآن مجید سے ظاہر ہے اگر اس جگہ مرد اور عورت سے حضرت آدم اور حضرت حواء مراد ہو تو یہاں اولاد مزوف ہے یعنی ان کی اولاد نے اس میں اللہ کا شریک بنایا ،(شرح صحیح مسلم جلد ۷ کاتب القدر ) حضرت نوح علیہ السلام پر اعتراض کا جواب >> حضرت نوح کے متعلق یہ ثبہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت نوح نے کہا تھا فقال رب ان ابنی من اھلی (سورتہ ھود ۴۸) نوح نے عرض کیا اے میرے رب بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے
اللہ تعالی نے فرمایا > یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح (ھود ۴۶) اے نوح وہ آپ کے اہل سے نہیں ، بیشک اس کے برے کام ہیں اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے حضرت نوح کی تکزیب کر دی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تکزیب نہیں ہے بلکہ حضرت نوح کو اس پر تنبیہ کرنا تھا کہ اللہ تعالی نے جو ان کے اہل کے متعلق وعدہ کیا تھا وہ اہل صالح کے متعلق تھا }} حضرت ابراھیم علیہ السلام پر اعتراض کا جواب حضرت ابراھیم علیہ السلام پر یہ اعتراض ہے کہ انھوں نے تین جھوٹ بولے تھے ھاذا ربی بل فعل کبیرھم انی سقیم اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراھیم کا چاند ، سورج ، وغیرہ کو ھاذا ربی کہنا برتقدیر فرض تھا جیسے کسی چیز پر بطلان کا حکم لگانے کے لیے اس کو فرض کیا جاتا ہے یا یہاں یہ استفہام محزوف ہے یعنی ھاذا ربی ۔؟ کیا یہ میرا رب ہے ؟ جو یہ فرمایا تھا بل فعل کبیرھم ، خود بتوں کو توڑ کر فرمایا بلکہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے یہ بطور تعریض اور استہزا فرمایا تاکہ کفار خود اعتراف کریں کہ یہ بڑا بت تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا یہ ان بتوں کو کیسے توڑ سکتا ہے اور یہ جو فرمایا تھا انی سقیم میں بیامر ہوں ، اس سے مراد یہ تھی کہ میں قوم کی بت پرستی کی وجہ سے غم و غصہ میں مبتلا ہوں (۔ شرح صحیح مسلم )
حضرت موسی علیہ السلام پر اعتراض کا جواب
حضرت موسی علیہ السلام نے قبطی کے ایک گونسہ مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا قرآن مجید میں ،موسی نے اس کے مکاؔ مارا تو اس کا کام تمام کر دیا یہ کام شیطان کی طرف سے سرزد ہوا بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا موسی نے عرض کی کیا اے میرے رب بیشک میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے معاف فرما دے تو اللہ نے انھیں معاف فرما دیا (قصص ۱۵ ،۱۶) حضرت موسی علیہ السلام نے قبطی کو قتل کرنے کے قصد سے گھونسا نہیں مارا بلکہ تادیبا ایک گھونسا مار دیا اور وہ قضاء الاہی سے ہلاک ہو گیا آپ کا فعل گناہ نہیں تھا اس پر آپ کا اللہ تعلی سے معافی چاہنا آپ کے عجیز و انکساری کا کمال ہے انبیاء علیہ السلام سے نسانا اور خطا بھی کویئ ایسا کام ہو جائے جس کا عمدا کرنا گناہ ہو تو وہ اللہ تعالی سے استغفار کرتے رہتے ہیں حضرت موسی علیہ السلام نے جو تورات کی الواح گرادی تھی تو وہ شدت غضب اور دہشت کی وجہ سے آپ کے ہارھوں سے ساقط ہو گیئیں اور حضرت ہارون علیہ السلام کو سر پکڑ کر کھنچھنا ان کو ایزائ پہنچانے کے قصد سے نہیں کیا تھا بلکہ وہ ان کو قریب کرنا چاہتے تھے ان میں سے کوئی کام بھی گناہ نہیں تھا (سعیدی) حضرت داؤد علیہ السلام پر اعتراض ؟
سورہ ص، میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق چند آیات میں ان کے شان نزول میں بعض اسرائیلی راویات میں ایسے امور مزکور ہیں جو منصب نبوت کے خلاف ہیں ہم پہلے وہ آیات بیان کریں گے اس کے بعد ان آیات کا صحیح محمل بیان کریں گے اور آخر میں اسرایلی راویات بیان کریں گے اللہ تعالی فرماتا
۔۔ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِۘ-اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ (21)اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْۚ-خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ(22)اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ- لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ- فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ(23)
ترجمۂ کنز الایمان
اور کیا تمہیں اس دعوے والوں کی بھی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر داؤد کی مسجد میں آئے۔جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈرئیے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلافِ حق نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راہ بتائیے۔ بے شک یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے۔
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْؕ-وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ (24)
السجدۃ (10)
ترجمۂ کنز الایمان
داؤد نے فرمایا بے شک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے اور بے شک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور وہ بہت تھوڑے ہیں اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا اور رجوع لایا۔
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَؕ-وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ(25)
ترجمۂ کنز الایمان
تو ہم نے اسے یہ معاف فرمادیا اور بے شک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ (سورہ ص) ان آیات کے آخر میں ذکر ہے کہ داؤد نے گمان کیا کہ ہم نے ان کی آزمائش کی ہے تو انھوں نے اپنے رب سے استغفار کیا ،حضرت داؤد علیہ السلام نے کس آزمائش کا گمان کیا تھا اور کس چیز پر اسغفار کیا ؟ اس کے متعلق علامہ ابوالحیان اندیسی لکھتے ہے قرآن کی ان ظاہر آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جو دن محض عبادت کے لیے مقرر کیا تھا حضرت داؤد نے ایک دن عام لوگوں سے خطاب کیا کے لیے ایک دن مقدمات کے فیصلہ کے لئے ایک دن اہلوعیال کے لئے اور ایک دن محض اللہ تعالی کی عبادت کے لیے مقرر کیا تھا اور جس میں وہ مقدمات کا فیصلہ نہیں کرتے تھے اس دن اچانک چند انسان حجرے کی دیوار پھاند کر آگئے حضرت داؤد علیہ السلام گھبرا گئے اور یہ گمان کیا کہ لوگ لوٹ مار کے لیے آئے ہیں کوینکہ اس وقت حضرت داؤد حجرے میں بلکل تنہا تھے اور جب ان پر واضح ہوا کہ یہ لوگ ایک جھگڑے کا فیصلہ کرانے آئے ہیں اور ان میں سے دو انسانوں نے آگے بعھ کر اپنا مقدمہ پیش کیا جیسا کہ تفصیل سے ان آیات میں مزکور ہے تب حضرت داؤد پر منکشف ہوا کہ ان لوگوں کا آنا کسی لوٹ مار کے لیے نہیں تھا بلکہ وہ صرف فیصلہ کرانے آئے تھے اور حضرت داؤد نے یہ گمان کیا کر لیا تھا کہ یہ لوٹ مار کے لیے آئے ہیں اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے ان کی آزمایش ہے اور جب ان کے گمان کے مطابق واقعہ پیش نہیں آیا تو ان کو اس گمان پر ندامت ہویئی اور انھوں نے اللہ تعالی سے معافی چاہی اور اللہ تعالی نے ان کو معاف کر دیا اور ان کی تعریف وتحسین فرمائی ہر چند کہ داؤد کا یہ گمان عین تقاضا فطرت تھا اور یہ گناہ نہیں تھا لیکن چونکہ انبیاء علیہ السلام کا مقام بہت بلند ہوتا ہے اس لئے وہ ہر آن اللہ تعالی سے ڑرتے رہتے ہیں اور معمولی سی بات پر بھی اللہ تعالی سے استغفار کرتے ہیں اور ہم کو قطعی طور پر معلوم ہے کہ انبیاء کرام معصوم ہیں اور ان سے کسی قسم کا کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا اور اگر ہم بلفرض ان سے گناہوں کا صدور وقوع مان لیں تو تمام شریعتیں باطل ہو جائیں گی ان کی کسی بات پر اعتماد نہیں رہے گا اور جس چیز کو وہ وحی الاہی کہتے ہیں اس پر ایمان لانے کا کوئی داعیہ نہیں رہے گا قرآن مجید میں صرف یہ ذکر ہے کہ حضرت داؤد نے یہ گمان کیا کہ ہم نے ان کی آزمایش کی ہے اور اپنے رب سے استغفار کیا سو ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن مجید میں مذکور ہے اور اس کو نہیں مانتے جو قصہ گوہ راویوں نے بیان کیا ہے جس میں منصب رسالت کی تنقیص ہے علامہ سید آلوسی لکھتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی قوم کے مسلمانوں میں سے اوریا نام کے ایک شخص کی بیوی کو دیکھ لیا بعض روایات میں ہے کہ وہ ان کا وزیر تھا حضرت داؤد کا دل اس عورت کی طرف مائل ہوا اس کا نام ام سلیمان تھا حضرت داؤد نے اس شخص سے کہا اس عورت کو طلاق دے دو وزیر کو ان کی بات رد کرنے سے حیاء آئی اس نے طلاق دے دی اور آپ نے اس سے شادی کر لی یہ امر ان کی شریعت میں جائز تھا اور اس پر عموما عمل ہوتا تھا اور اس کو مروؔت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا تھا حتیؔ کہ جس شخص کو کسی بیوی اچھی لگتی وہ اس کے شوہر سے طلاق کے لیے کہتا اور اس سے شادی کر لیتا لیکن چونکہ حضرت داؤد علیہ السلام کا مرتبہ اور مقام بہت بلند تھا اس لیے ان آیات میں ان کو اس فرضی مقدمہ سے یہ تنبیہ کی گئی کہ عام لوگ جو کام کرتے ہیں حضرت داؤد کو اس سے پرہیز کرنا چاہے جب کہ ان کے نکاح میں بکثرت ازواج ہیں تو ان کو اس شخص سے طلاق کا سوال نہیں کرنا چاہے جس کے نکاح میں صرف ایک بیوی ہے بلکہ ان پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنے میلان طبعی کو مغلوب کرتے اور اس آزمایش کے موقع پر صبر سے کام لیتے بعض روایات میں ہے کہ اوریا نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا تھا نکاح کا پیغام دیا تھا حضرت داؤد نے اس کے پیغام کے اپر اپنا پیغام دیا بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ کو اوریا کے پیغام دینے کا علم نہیں تھا بعض روایات میں ہے کہ ان کی شریعت میں یہ مقرر تھا کہ جب کوئی شخص مر جائے تو اس کی بیوی کے رشتہ دار اس کے ساتھ نکاح کے زیادہ حقدار ہوتے الاؔ وہ اس عورت کو ناپسند کریں اور یا جنگ میں قتل ہو گیا ہو تو ، حضرت داؤد نے اس عورت کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا اور اس عورت کے رشتہ دار حضرت داؤد کی جلالت کی وجہ سے اس پیغام کو مسترد نہ کرسکے اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں جو زیدہ بعید ہیں لیکن یہ تمام اقوال اور روایات حضرت داؤد عیلہ السلام کے مرتبہ اور مقام سے بہت فروتر ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی اعتماد کے لائق نہیں ہے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت علی رضئ اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص حضرت داؤد عیلہ السلام کے متعلق ان قصوں کو بیان کرے گا میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے ماروں گا اور انیاء کرام پر تہمت لگانے والے کی یہی حد ہے حضرت علی نے اپنے اجتہاد سے یہ حد مقرر کی جو آزاد مسلمان پر تہمت لگانے کی دگنی حد ہے اور یہ مستحسن ہے (البتہ زین عراقی نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے ) (روح المعانی ج ۲۳ صفہ ۱۲۵) حضرت سلیمان علیہ السلام پر اعتراض کا جواب حضرت سلیمان علیہ السلام پر متعد اعتراضات کئے گئے ہے ایک یئ اعتراض ہے کہ قرآن مجید میں ہے۔ ُ=
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ (31)فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْۚ-حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِﭨ(۔ص 32)
جبکہ اس پر پیش کئے گئے تیسرے پہر کو کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سُم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائیے تو ہوا ہوجائیں ۔تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔ پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس آیت کے تحت یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑو کے معائنہ میں اس قدر زیادہ مشغول رہے کہ سورج غروب ہو گیا اور نماز عصر کا وقت جاتا رہا ، اس ان کو ملال ہوا اور ان گھوڑوں کو قتل کر نے کا حکم دیا حافظ نے لکھا ہے کہ امام طبرانی نے یہ روایت اوسط میں حضرت ابی بن کعب سے روایت کی ہے اس کی سند میں سیعد بن بشیر ہے جس کو ابن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے (مجمع الزوائد ج ۷ ص ۹۹) علامہ غلام رسول سعیدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے یہ روایت صحیح نہیں ہے قرآن مجید میں سورج کے چھپنے کا ذکر ہے نہ کہ گھوڑوں کو قتل کرنے کا حتیؔ تورات با لحجاب کا معنی یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے معائنہ کے لیے ان گھوڑوں کو دوڑانے کا حکم دیا حتیؔ کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے پھر ان کو واپس بلایا اور محبت سے ان کی گردن اور پنڈلیوں پرہاتھ پھیرنے لگے فطفق مسحا کا معنی تلوار سے کرنا نہیں ہے ہرچند کہ آلات جہاد میں اشتفال کی وجہ سے بلا قصد نماز قضا ، ہوجانا گناہ نہیں ہے لیکن یہ بات ثابت نہیں ہے اور گھوڑوں کو قتل کرنا مال کو ضائع کرنا ہے جو مقام نبوت سے بعید ہے حضرت سلیمان علیہ السلام کا گھوڑوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنا بھی اس سبب سے تھا کہ وہ آلہ جہاد ہیں اگر اللہ تعالی آلات جہاد کو مہیا کرنے کا حکم نہ دیتا تو وہ اس سے محبت نہ کرتے یہ محبت بھی اللہ کی وجہ سے تھی (شرح صحیح مسلم ج ۷) دوسرا اعتراض قرآن مجید کی اس آیت کے تحت ہے ولقد فتنا سلیمان وا لقینا علی کو سیہ جسد ا ثم اناب (ص ۳۴) اور بے شک ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا ، پھر انھوں نے ہماری طرف رجوع کیا ،،، علامہ آلوسی لکھتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جس ابتلاء کا اس آیت میں ذکر ہے اس میں زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک دن کہا آج رات میں ستر ازواج کے پاس جاؤں گا اور ہر عورت سے ایک ایسا لڑکا پیدا ہوگا جو گھوڑے پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا اور (بھولے سے ) انشاء اللہ نہ کہا تو ان میں سے صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اس سے ایک بچہ پیدا ہوا تو دائی نے وہ ناتمام بچہ لا کر کرسی پر ڈال دیا ، اس آیت میں اسی جسم کے کرسی پر ڈالنے کا ذکر ہے حضرت سلیمان علیہ السلام کا انشاء اللہ نہ کہنا گناہ نہیں ہے زیادہ سے زیادہ ترک اولی ہے اور یہ روایت
زیادہ سے زیادہ ترک اولی ہے اور یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اور اس آیت کی یہی تفسیہ صحیح ہے امامیہ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابو عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جنہوں اور شیاطین نے کہا اگر یہ بیٹا زندہ رہا تو ہم پر اس کی وجہ سے آفات نازل ہوں گی جو اس کے باپ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان سے خوف لاحق ہوا اور آپ نے اس بچے کے اور اس کی دائیہ کو بادل میں چھپادیا پھر ایک دن اچانک وہ بچہ کرسی پر مردہ پڑا ہوا تھا اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو تنبیہ کی گئی کہ ایحتیاطی تدابیر تقدیر کو نہیں ٹال سکتی نیز انبیاء علیہ السلام کی شان کے لائق یہ ہے کہ وہ اسباب کو ترک کر کے توکل کریں ، تاہم یہ بھی گناہ نہیں ہے اور زیادہ سے زیادہ ترک اولی ہے نیز یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آزمایش کے بعد آپ کے لیے ہوا مسخر کی گئی تھی اس لیے بادل میں چھپانے کا واقعہ اس سے پہلے کس طرح ہو سکتا ہے ۔ ؟ امام نسائی اور امام ابن جریر امام بن حاتم اور امام سیوطی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بیت الخلاء جانے
گے تو انھوں نے اپنی انگوٹھی اپنی بیوی جردہ کو دے دی شیطان نے حضرت سلیمان کی صورت میں آکر ان سے کہا لاؤ میری انگوٹھی دو جرادہ نے اس کو انگوٹھی دے دی ، جب اس نے وہ انگوٹھی پہن لی تو تمام انسان جن اور شیاطین اس کے مطیع ہوگئے حضرت سلیمان نے جب آکر جرادہ سے انگوٹھی مانگی تو انھوں نے کہا میں تو وہ انگوٹھی سلیمان کو دے چکی ہوں آپ نے کہا میں سلیمان ہوں انھوں نے کہا تم جھوٹے ہو تم سلیمان نہیں ہو حضرت سلیمان جس کے پاس بھی گئے اس نے آپ کی تکزیب کی حتیؔ کہ بچوں نے پتھر مارے جب حضرت سلیمان نے یہ ماجرہ دیکھا ت سمجھ لیا کہ یہ اللہ کا امر ہے ادھرشیطان نے لوگوں پر حکومت کرنا شروع کر دی اور جب اللہ تعالی نے حضرت سلیمان کو ان کا ملک واپس کرنا چاہا تو لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف شکوک پیدا کر دئیے پھر لوگوں نے حضرت سلیمان کی ازواج سے پوچھا کیا تم سلیمان سے کوئی اجنبیت محسوس کرتی ہو ؟ انھوں نے کہا ہاں وہ حیض کی حالت میں بھی ہم سے مقاربت کرتے ہیں حالنکہ پہلے ایسا نہیں کرتے تھے جب شیطان نے یہ جانا کہ اب اس کا بھانڑا پھوٹنے والا ہے تو اس نے شیاطین کو حکم دیا کہ جادو کو کتابوں میں
لکھ دو ان کو حضرت سلیمان کی کرسی کے نیچے دفن کر دیا پھر شیاطین نے لوگوں کے سامنے کرسی کے نیچھے سے ان کتابوں کو نکالا اور کہا سلیمان اس جادو کے بل پر حکومت کرتے تھے سو لوگوں نے حضرت سلیمان کا انکار کر دیا اور کافر ہو گئے شیاطین نے اس انگوٹھی کو سمندر میں پھینک دیا اور ایک مچھلی نے اس کو نگل لیا ، ادھر حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک آدمی نے مچھلیاں خریدی جن میں وہ مچھلی بھی تھی اس نے حضرت سلیمان سے کہا وہ مچھلیاں اٹھا کر ان کے گھر لے جائے اور اجرت میں وہ مچھلی دے دی حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس مچھلی کو چاک کیا تو اس میں سے وہ انگوٹھی نکلی حضرت سلیمان نے انگوٹھی پہن لیا اور تمام شیاطین اور انسان جنات آپ کے مطیع ہو گئے اور دوبارہ آپ کی سلطنت قائم ہوگئی اور شیطان سمندر کے کسی جزیرے میں بھاگ گیا حضرت سلیمان نے اس کی تلاش کرائی اور بالاخر اس کو باندھ کر لایا گیا حضرت سلیمان نے اس کو ایک صندوق میں بند کرا کے سمندر میں پھینکوا دیا ، علامہ ابوالحیان اور دیگر محقیقن نے کہا ہے کہ یہ مقالہ یہدوں اور زندیقوں کا وضع کردہ ہے اور من گھڑت ہے کسی صاحب عقل کو اس پر اعتماد نہیں کرنا چاہے شیطان کے لئے نبی کی صورت میں متمثل ہونا حتیؔ کہ لوگوں پر اس کا معاملہ ملبتس ہو جائے کسی طرح ممکین نہیں ہے قاضی عیاض رحمت اللہ علیہ فرماتے ہے انبیاء علیہ السلام کو اس سے معصوم بنایا ہے کہ شیطان انبیاء کی شکل و صورت میں منتشکل ہو سکے لہاذا مورخین نے یہ لکھا ہے وہ غلط ہے (شفاء شریف جلد دوم صفحہ ۲۸۴) اور اگر یہ ممکین ہو تو کسی نبی کی رسالت پر اعتماد نہیں رہے گا اور اس روایت میں سب سے قبیع بات یہ ہے کہ نبی کی ازواج پر بھی اس شیطان کا معاملہ ملتبس ہوگیا اور وہ ان کے حیض کے ایاؔم میں بھی ان سے وطی کرتا رہا نعوذ باللہ من ذالک اللہ اکبر یہ بتہان عظیم ہے اور اس روایت کی حضرت ابن عباس کی طرف نسبت صحیح نہیں ہے ( شرح صحیح مسلم ) حضرت یونس علیہ السلام پر اعتراض کا جواب
قرآن مجید میں ہے ، اورذوالنورین کو یاد کیجے جب وہ (قوم پر ) غضب ناک ہو کر نکلے انھوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر ہرگز تنگی نہ کریں گے (انیباء ۸۷) اس آیت کے اعتبار سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت یونس اللہ سے ناراض ہو کر چلے گئے اور۔ یہ گمان کیا کہ اللہ ان کو نہ پکڑؔ سکے گا معاذ اللہ علامہ تفتازانی لکھتے ہیں حضرت یونس اپنی قوم کے معاند کفار پر غضب ناک ہوئے تھے نہ کہ معاذ اللہ اللہ تعالی پر اور ان لن نقدر کا معنی ہے ان لن فضیق علیہ یعنی انھوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر جانے پر اللہ ان پر گرفت اور تنگی نہیں کرے گا اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ انھوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ کو ان پر قدرت نہیں ہوگی معاذ اللہ ان کو اللہ تعالی کی قدرت پر شک نہیں تھا ان کا بلا اجازت جانا گناہ نہیں تھا ایک خلاف اولی کام تھا اور حضرت یونس نے جو اس کنت من الظالمین میں ظلم سے تعبیر کیا یہ ان کی توضیع اور انکساری ہے ( شرح المقاصد ج ۳ ص ۱۹۷) قرآن مجید میں ہے ولا تکن کصاحب الحوت (قلم ۴۸) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جانا ، یعنی جس طرح حضرت یونس نے کفار پر صبر نہیں کیا تھا آپ بھی اس طرح نہ کریں علامہ ابن منظور لکھتے ہیں جس شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ حضرت یونس علیہ السلام نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تعالی آپ کو پکڑ نہیں سکے گا وہ کافر ہے کیونکہ جو شخص اللہ کے متعلق عدم قدرت کا گمان رکھے وہ مومن نہیں ہے اور حضرت یونس علیہ السلام رسول ہیں ان کا یہ گمان کرنا ممکین نہیں ہے اللہ کی عدم قدرت کا گمان کیا وہ کافر ہے گمان شک ہے اور اللہ کی قدرت میں شک کفر ہے اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو اس کی مثل سے معصوم رکھا ہے اور اس آیت کا یہ معنی وہی شخص کرے گا جو کلام عرب اور اس کی لغات سے جاہل ہو (شرح صحیح مسلم ) حضرت مسی۱اور الموت
حضرت عزرایل علیہ السلام موسی علیہ السلام کے پاس صورت انسانی میں تشریف لائے اور اپنا مقصد ان الفاظ میں بیان کیا کہ میں آپ کی جان لینے آیا ہوں غضب موسوی کو یہ سنتے کی تاب کہاں ملکل الموت کے ایک طمانچہ مارا جس کی وجہ سے ان کی آنکھ حلقہ چشم سے باہر آگئی اس واقعہ میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں آتی اور حضرت موسی علیہ السلام نے کی ذات پر ظلم و تعدی کا کوئی الزام نہیں لگتا کیونکہ جناب ملک الموت انسانی شکل میں آئے اور آپ کی جان لینے کا اظہار فرمایا لہاذا جناب موسی علیہ السلام نے اپنی مدافعت میں ایسا کیا اور بات ظاہر کہ ایسے موقع پر ہر شخص ایسا ہی کرتا ہے اس کے علاوہ اگر یاں یہ اعتراض کیا جائے کہ جناب موسی علیہ السلام نے اس وقت حضرت عزرایل کو پہچانا کیوں نہیں تو یہ بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں بہت سے موقع پر ایسا ہوتا ہے کہ توجہ نہ ہونے کی وجہ سے بادی النظر میں کوئی شخص کسی کو نہیں پہچانتا ہے لہاذا جناب موسی علیہ السلام کا طمانچہ مارنا خالصا مدفعات نہ تھا لیکن جب دوبارہ اپنے انداز میں تشریف لائے اور انھیں حکم ربی سے مطلع کیا تو آپ نے امر ربی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا علمائے متقدمین و متاخرین نے اس حدیث کے سلسلے میں بہت سے جواب دئے ہے مجھے ان جوابات میں سے سب سے بہتر جواب امام عبد اللہ بازروی کا معلوم ہوتا ہے انھوں نے ملک الموت کو طمانچہ مارنے اور ان کی آنکھ پھوڑنے کی تاویل کی ہے کہ جناب موسی علیہ السلام ملک الموت سے حجت و دلیل میں غالب آئے اور انھوں نے ان کی دلیل کی آنکھ پھوڑ دی یعنی اس کو بے رونق کر دیا اور یہ بات لغت اور محاوروہ میں مستعمل ہے ( شفاء شریف جلد دوم صفحہ ۲۹۲) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مغفرت ذنب کی تحقیق
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مغفرت ذنب کی توجیہات - علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
ہم نے الفتح : ٢ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : تاکہ اللہ آپ کے لئے معاف فرما دے آپ کے اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی سب کام۔ اس ترجمہ میں ہم نے ذنب کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف برقرار رکھی ہے اور اس کا معنی بہ ظاہر خلاف اولی کیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی کا صدور خود احادیث سے ثابت ہے۔ خلاف اولی اور مکروہ تنزیہی کے ثبوت میں اعلی حجرت مجدد ملت امام رضا خان قادر قدس سرہ، العزیز کی بہ کثرت تصریحات ہیں، جن میں سے بعض تصریحات کی میں پیش کر رہا ہوں۔ فاقول وباللہ التوفیق -
بہ ظاہر کی قید اس لئے لگائی ہے کہ حقیقت میں آپ کا کوئی کام خلاف اولی یا مکروہ تنزیہی نہیں ہے۔ بعض اوقات آپ نے کسی کام سے منع فرمایا پھر خود اس کام کو کیا تاکہ امت کو یہ معلوم ہوجائے کہ آپ کا اس کام سے منع کرنا تحریم کے لء نہیں تھا بلکہ تنزیہہ کے لئے تھا۔ -
مثلا آپ نے فصدلگانے (رگ کار کر خون چوس کر نکالنا) کی اجرت دینے سے منع فرمایا اور حضرت ابو طیبہ نے آپکو فصدلگائی تو آپ نے ان کو دو صاع (آٹھ کلوگرام) طعام دینے کا حکم دیا۔ (جامع ترمذی ص ٢٠٤، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)-
اگر آپ ابو طیبہ کو فصدلگانے کی اجارت نہ دیتے تو ہم کو یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجرت دینا جائز ہے اور ممانعت تنزیہہ کے لئے ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہتیے کہ فصد کی اجرت دینا ہمارے لئے مکروہ تنزیہی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں نہیں ہے اور اسمیں آپ کا اجرو ثواب فرض کا اجروثواب ہے۔ اس نکتہ کے پیش نظر اس کو بہ ظاہر خلاف اولی لکھا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات آپ نے کسی کام کا افضل اور اولی طریقہ بتایا اور پھر اس کے خلاف کیا، یہ بھی اسی طرح بہ ظاہر خلاف اولی ہے، حقیقت میں خلاف اولی نہیں ہے۔ مثلا آپ نے فرمایا : سفیدی پھیلنے کے بعد فجر کی نماز پڑھنے سے زیادہ اجر ہوتا ہے اور آپ نے خود منہ اندھیرے بھی فجر کی نماز پڑھی ہے۔ (جامع ترمذی ص ٤٩، مطبوعہ نور محمد کارخانہ اگر آپ کسی کام سے منع فرما کر یہ بتلا دیتے کہ اس کا خلاف بھی جائز ہے اور خود اس کام کو نہ کرتے، تب بھی مسئلہ تو معلوم ہوجاتا لیکن اس کام میں آپ کی اقتداء کا شرف حاصل نہ ہوتا، بہرحال قرآن مجید اور احادیث میں جہاں آپ کی طرف مغفرت ذنوب کی نسبت کی گئی ہے، وہاں ذنوب سے مراد بہ ظاہر خلاف اولی یا بہ ظاہر مکرو تنزیہی کام ہیں اور مغفرت سے مراد آپ کے درجات کی بلندی اور قرب خاص سے نوازنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر پانی نہ پئے پس جو شخص بھول جائے وہ قے کردے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢٤) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زمزم سے پانی پلایا تو آپ نے کھڑے ہو کر پیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٢٢ )-
علامہ نووی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ کھرے ہو کر پانی پینا مکروہ تنزیہی ہے اور آپ کا کھڑے ہو کر پانی پینا بیان جواز کے لئے ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٩ ص ٥٥٣٥، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)-
علامہ ابو العباس قرطبی مالکی متوفی ٦٥٦ ھ نے لکھا ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل جواز کو بیان کرنا ہے اور نبی تنزیہہ کا تقاضا کرتی ہے پس اولی یہ ہے کہ ہرحال میں اس کو ترک کیا جائے۔ (المفہم ج ٥ ص ٢٨٥، دار ابن کثیر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)-
حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے لکھا ہے : یہ نہی تنزیہہ کے لئے ہے اور حدیث صحیح میں ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے اور یہ بیان جواز کے لئے ہے۔ (الدیباج ج ٢ ص ٨٠٣، ادارۃ القرآن، کراچی، ١٤١٢ ھ)-
حافظ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ اور ملاعلیی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ نے بھی اسی طرح لھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٩ س ٤٠٠، دار الکتب العلمیہ، بیروت ١٤٢١ ھ، مرقاۃ المفاتیج ج ٨ س ٩٤، مکتبہ حقانیہ پشاور)-
اسی طرح وضو میں افضل، اعضاء وضو کو تین تین بار دھونا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعضاء وضو کو ایک ایک ابار اور دو دو بار بھی دھویا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الوضو، باب : ا، تعلیقا)-
اور ظاہر ہے کہ اعضاء وضو کو ایک ایک بار یا دو دوبارہ دھونا خلاف افضل اور خلاف اولی ہے، اسی طرح افضل اور اولی چل کر طواف کرنا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر بھی طواف کیا ہے اور یہ بھی خلاف اولی ہے۔ -حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر بھی طواف کیا اور جب آپ رکن تک پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٦١٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٨٢٥، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٩٥٥، سنن بیہقی ج ٥ س ٨٤، شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٨٠٩)-
علامہ بدر الدین عینی حنفی نے لکھا ہے : امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر کسی نے رش کی وجہ سے سواری پر طواف کیا تو مکروہ ہے اور عذر کی وجہ سے کیا تو مکروہ نہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ رش کی وجہ سے سواری پر طواف کیا تھا یا مرض کی وجہ سے اور علامہ نووی نے لکھا ہے کہ افضل یہ ہے کہ چل کر طواف کرے، سواری پر طواف نہ کرے، الا یہ کہ اس کا کوئی عذر نہ ہو۔ (عمدۃ القاری ج ٩ س ٣٢٣، ملخصا، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ١٢١ ھ)-
حضرت انس فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فصد لی تو حضور نے اس کے لئے ایک صاع کھجوروں کا حکم دیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٧٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٢٧٨)-
مفتی احمد یار خاں متوفی ١٣٩١ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :-
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فصد کی اجرت جائز ہے، جہاں ممانعت آئی ہے، وہاں تنزیہی کراہت مراد ہے، وہ فرمان عالی کراہت کے بیان کے لئے ہے اور یہ عمل شریف بیان جواز کے لئے ہے، لہذا احادیث متعارض نہیں۔ (مراۃ المناجیح ج ٤ ص ٢٣٣۔ ٢٣٢، نعیمی کتب خانہ، گجرات)-
ان تمام احادیث اور عبارات علماء سے یہ ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خلاف اولی یا مکروہ تنزیہی کاموں کا صدور ہوا اور یہ بیان جواز کے لئے تھا۔ -
اعلی حضرت عظیم البرکت قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں :-
یہ بھی ہمارے اختیار کردہ قول کراہت تحریفہ کی صراحت کرتا ہے، کیونکہ مکروہ تنزیہی میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، وہ صرف خلاف اولی ہے۔ نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا اور نبی قصدا گناہ کرنے سے معصوم ہوتا ہے اور گناہ میں مبتلا کرنے والی چیز کا ارتکاب جائز نہیں ہوتا تو بیان جواز کے کیا معنی ؟ (فتاوی رضویہ ج ٩ ص ٤٥٠۔ ٣٤٩، رضا فائونڈیشن، لاہو
اس عبارت میں یہ تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مکروہ تنزیہی اور خلاف اولی کا صدور ہوا۔ نیز اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں : (ام المومنین صدیقہ (رض) سے رویا ت ہے) کہ ایک شخص نے حضور سے عرض کی اور میں سن رہی تھی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں صبح کو جب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں خود ایسا کرتا ہوں، اس نے عرض کی : حضور کی ہماری کیا برابری ؟ حضور کو تو اللہ عزوجل نے ہمیشہ کے لئے پوری معافی عطا فرمادی ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٤ ص ٦١٦۔ ٦١٥، مکتبہ رضویہ، کراچی، ١٤١٠ ھ)-
اعلی حضرت کے والد ماجد امام المتکلمین مولانا شاہ نقی علی خان متوفی ١٢٩٧ ھ نے سورة الم نشرح کی تفسیر لکھی ہے جس کو ” انوار جمال مصطفی “ کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس کے متعلق اعلی حضرت لکھتے ہیں : ازاں جملہ الکلام الاوضح فی تفسیر سورة الم نشرح کہ مجلد کبیر ہے علوم کثیرہ پر مشتمل۔ (انوار جمال مصطفی ص ٨، شبیر برادرز، لاہور)-
اس کتاب میں الفتح : ٢ کے ترجمہ میں مولانا شاہ نقی علی خان تحریر فرمات ہیں : تا معاف کرے اللہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ۔ (انوار جمال مصطفی ص ٧١، شبیر برادرز، لاہور )-
نیز مولانا شاہ نقی علی خان ایک حدیث کے ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں :-
مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں : آپ نے اس قدر عبادت کی کہ پائے مبارک سوج گئے، لوگوں نے کہا : آپ تکلیف اس قدر کیوں اٹھاتے ہیں کہ خدا نے آپ کی اگلی اور پچھلی خطا معاف کی ؟ فرمایا : ” افلا اکون عبدا شکورا “۔ (سرور القلوب بذکر المحبوب ص ٢٣٤، شبیر بردارز، لاہور)-
ہمارے اس ترجمہ کی اصل وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے صحابہ کرام نے مغفرت ذنب کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نسبت کو برقرار رکھا۔ -
اس حدیث کی صحت کے لئے یہ کافی ہے کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ، العزیز نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ دیکھئے ! اعلی حضرت فرماتے ہیں :-
خود قرآن عظیم و احادیث صحیحہ، صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اس کا ناسخ موجود ہے، جب آیت کریمہ ”……“ (الفتح : ٢) اتری یعنی تاکہ اللہ بخش دے تمہارے واسطے سے سب اگلے پچھلے گناہ، صحابہ نے عرض کی :”……“ آپ کو مبارک ہو، خدا کی قسم ! اللہ عزوجل نے یہ تو صاف صاف فرمادیا کہ حضور کے ساتھ کیا کرے گا، اب رہا یہ کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس پر یہ آیت اتری :”……“ تاکہ داخل کرے اللہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ رہیں گے ان میں اور مٹا دے ان سے ان کے گناہ اور یہ اللہ کے ہاں بری مراد پانا ہے۔ یہ آیت اور ان کی امثال بےنظیر اور یہ حدیث جلیل شہیر ایسوں کو کیوں سمجھائی دیتیں۔ (انباء المصطفی ص ٩۔ ٨، نوری کتب خانہ، لاہور)-اعلی حضرت کے نزدیک یہ حدیث اس درجہ قوی ہے کہ آپ اسے الاحقاف : ٩ کے لئے ناسخ قرار دیتے ہیں۔ -
اسی طرح صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ نے بھی الاحقاف : ٩ کی تفسیر میں اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ نے ” نور العرفان “ میں الاحقاف : ٩ کی تفسیر اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور اس کو الاحقاف : ٩ کے لئے ناسخ قرار دیا ہے۔ -
ایک طرف تو اعلی حضرت سے لے کر مفتی احمد یار خان تک ہمارے سب علماء نے اس کو انتہائی درجہ کی صحیح حدیث فرمایا ہے، دوسری طرف بعض علماء نے اس حدیث کی سند کو ناقابل اعتبار، ناقابل استدلال اور ضعیف کہا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ روایت انتہائی نحیف و نزار ہے۔ ہم نے ” تبیان القرآن “ ج ٦ ص ٣٤٣۔ ٣٣٧ میں ان کے اعتراض کے متعدد جواب لکھ کر یہ واضح کردیا ہے کہ اعلی حضرت کا اس حدیث کو صحیح اور الاحقاف : ٩ کے لئے ناسخ فرمانا درست ہے اور حدیث کو رد کرنے سے ہمارے ترجمہ کے برحق ہونے پر جو گرد پڑی تھی، الحمد اللہ ! وہ گرد دور ہوگئی اور الاحقاف : ٩ کی تفسیر میں بھی اس حدیث کی صحت پر بہت دلائل لکھے ہیں۔ ہمارے اس ترجمہ کی اصل وہ احادیث بھی ہیں جن سے اعلی حضرت امام احمد رضا نے ” انباء الحئی “ میں استدلال فرمایا ہے۔ اعلی حضرت قدس سرہ، تحریر فرماتے ہیں :-
……(انباء الحئی ص ٣٨٨)-
امام ابو دائود نے اپنی کتاب الناسخ میں (وما ادری ما یفعل بی ولا بکم) کی تفسیر میں حضرت عکرمہ (رض) سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کو الفتح : ٢ نے منسوخ کردیا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا : یا نبی اللہ ! آپ کو مبارک ہو ہم نے اب جان لیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا، سو ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ تو اللہ تعالی نے سورة احزاب کی یہ آیت نازل فرمائی : (……) اور یہ آیت نازل
فرمائی : (……) پس اللہ تعالی نے بیان کردیا کہ آپ کے ساتھ اور ان کے ساتھ کیا جائے گا۔ -
” انباء المصطفی “ اور ” انباء الحی “ ان دونوں کتابوں میں اعلی حضرت کی عبارات سے یہ بات وضاحت سے ثابت ہوگئی کہ الاحقاف : ٩، الفتح : ٢ سے منسوخ ہے۔ -
بعض لوگوں نے اعلی حضرت کی مستدل بہ حدیث کی اس لئے ضعیف کہا تھا کہ عکرمہ کی روایات مرسل ہے، انہوں نے اپنا ذریعہ علم نہیں بیان کیا، اس اعتراف اولا جواب یہ ہے کہ حدیث مرسل احناف اور مالکیہ کے نزدیک مطلقا مقبول ہوتی ہے اور ثانیا جواب یہ ہے کہ عکرمہ کی یہ حدیث مرسل نہیں، متصل ہے، حضرت ابن عباس (رض) سے متصلا مروی ہے اور ہمارے نزدیک اس حدیث کی صحت کے لئے یہ امر کافی ہے کہ اس سے اعلی حضرت (رض) نے استدلال فرمایا ہے۔ -
نیز اعلی حضرت نے اپنے موقف پر استدلال کرتے ہوئے انباء الئی میں ان احادیث کو بھی ذکر فرمایا ہے :-
………-
ترجمہ : امام بخاری اور امام مسلم اور محدثین کی ایک جماعت نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت یہ آیت نازل کی گئی (……) جب آپ حدیبیہ سے لوٹے تو آپ نے فرمایا : بیشک مجھ پر ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے روئے زمین پر موجود تمام چیزوں سے محبوب ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت صحابہ کے سامنے تلاوت فرمائی، صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کو مبارک ہو، بیشک اللہ تعالی نے آپ کے لئے بیان فرما دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا، تو ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : (……) یہاں تک کہ (…) تک پہنچے۔ -امام ابن جریر، امام ابن منذر، امام ابن ابی حاتم اور امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس (رض) تالی عنہما سے روایت کیا ہے :……تو اللہ تعالی نے اس کے بعد نازل کیا : ……اور ……تو اللہ سبحانہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلع فرما دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمام مومنین کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ -
اعلی حضرت امام ابو دائود کی ” کتاب الناسخ “ سے عکرمہ از ابن عباس والی روایت کو تحریر فرمانے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں :-
……(انباء الحی ص ٣٧٧)-
اعلی حضرت قدس سرہ العزیز کے حوالہ کے مطابق امام ابن جریر کی سند درج ذیل ہے :-
”……“ (جامع البیان لابن جریر جزء ٢٦ ص ٩٢۔ رقم الحدیث : ٢٤٣٤٦، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)-
ان تمام احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مغفرت ذنب کی نسبت ہے اور یہ احادیث ہمارے ترجمہ کی اصل ہیں۔ -
اور امام ابن جریر کی ثقاہت کے متعلق مخالفین اعلی حضرت نے لکھا ہے :-
امام ابو جعفر طبری کی تفسیر بعد کی تمام تفاسیر میں سب سے زیادہ جلیل و عظیم ترین تفسیر ہے۔ نیز اس تفسیر کو تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر ابن ماجہ، تفسیر، حاکم، تفسیر ابن مردویہ، تفسیر ابو الشیخ ابن حبان اور تفسیر ابن منذر پر فوقیت حاصل ہے۔ (الاتقان فی علوم القرآن ج ٢ س ٥٠ )-
ہمارے لئے اس حدیث کے صحیح ہونے کے لئے یہ امر کافی تھا کہ اعلی حضرت نے اس حدیث کو الاحقاف : ٩ کے لئے ناسخ قرار دیا۔ واضح رہے کہ اعلی حضرت نے ” انباء الحی “ ص ٣٨٨ میں از عکرمہ از ابن عباس والی روایت کو تین مرتبہ ذکر کیا ہے، دو مرتبہ امام ابن جریر کے حوالے سے اور ایک مرتبہ امام ابو دائود کی ” اب الناسخ “ کے حوالے سے۔ سو واضح ہوگیا کہ گفتگو از عکرمہ ازابن عباس کی حدیث میں ہو رہی ہے، جس کی بنیاد پر اعلی حضرت نے الاحقاف : ٩ کو منسوخ قرار دیا ہے۔ -
نسخ کی تحقیق -
اعلی حضرت امام احمد رضا قادری (رض) نے الاحقاف : ٩ کو ان حادیث سے منسوخ قرار دیا ہے اس پر بعض مخالفین اعلی حضرت نے یہ کہا ہے کہ اس نسخ سے مراد نسخ لغوی ہے، نسخ اصطلاحی نہیں ہے، سو ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ نسخ لغوی اور نسخ اصطلاحی میں کوئی تخالف نہیں ہے، اس لئے ہم نسخ لغوی کا معنی اور نسخ اصلاحی کی تعریف ذکر کر رہے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ ان دونوں میں کوئی تخالف نہیں ہے۔ -
نسخ کا لغوی معنی -
علامہ مجد الدین محمد یعقوب فیروزآبادی متوفی ٨١٧ ھ نسخ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :-
……(القاموس المحیظ ٢٦١، موسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٥ ھ)-
کسی چیز کو منسوخ کردیا یعنی اس کو زائل کردیا اور تبدیل کردیا اور اس کو باطل کردیا اور دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کردیا۔ -
امام محمد بن ابی بکر حنفی متوفی ٦٦٠ ھ لکھتے ہیں :-
……(مختار الصحاح ص ٣٧٨، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)-
دھوپ نے سائے کو منسوخ کردیا یعنی زائل کردیا۔ -
علامہ جمال الدین محمد بن مکرم مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :-
……(لسان العرب ج ١٤ ص ٢٤٣، مطبوہ دار صادر، بیروت، ٢٠٠٣ ئ)-
ایک چیز کو باطل کرکے دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کرتا نسخ ہے۔ -
نسخ کی اصطلاحی تعریفات -
امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں : ناسخ وہ دلیل شرعی ہے کہ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ناسخ سے پہلے جو حکم کسی دلیل شرعی سے ثابت تھا وہ حکم اب نہیں ہے اور نسخ کی یہ دلیل پہلے حکم کی دلیل سے متاخر ہوتی ہے اور اگر یہ ناسخ نہ ہوتا تو وہی حکم ثابت رہتا۔ (تفسیر ج ١ ص ٤٣٣)-
علامہ تفتا زانی لکھتے ہیں : نسخ یہ ہے کہ ایک دلیل شرعی کے بعد ایک اور دلیل شرعی آئے جو پہلی دلیل شرعی کے حکم کے خلاف کو واجب کرے۔ (توضیح تلویحج ٢ ص ٣١)-
الاحقاف : ٩ کے الفتح : ٢ سے منسوخ ہونے پر اعتراض اور اعلی حضرت قدس سرہ کا جواب -
………-
ترجمہ : ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے جو فرمایا ہے کہ الاحقاف : ٩ سورة فتح اور احزاب سے منسوخ ہے، اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے، اگر یہ بات مان لی جائے کہ الاحقاف : ٩، الفتح اور الاحزاب سے موخر ہیں اور اس کے لئے ناسخ ہیں تو نسخ تو احکام میں ہوتا ہے، اخبار میں نہیں ہوتا ؟ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ متقدمین کی اصطلاح سے غفلت ہے، کیونکہ وہ بسا اوقات نسبت فعلیہ کی تغیر پر بھی نسخ کا اطلاقع کردیتے ہیں اور یہ اس لیے کہ نسخ مدت حکم کا بیان ہے اور اسی سے اس نسبت کی مدت کی انتہاء معلوم ہوجاتی ہے۔ اور خود یہی ناقل اس رسالہ کے ص ٤٥ میں کہہ چکے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ” امی “ ایسا وصف بیان فرمایا ہے کہ جس کو کبھی بھی اس نے منسوخ نہیں کیا۔ -
اس کے بعد فرماتے ہیں :) معترض نے اپنے اعتراض کے جواب میں یہ جو اشارہ کیا ہے کہ اگر یہ بات مان لی جائے کہ الفتح اور الاحزاب، الاحقاف : ٩ سے مؤخر ہیں، (گویا کہ یہاں ناسخ کا موخر ہونا واضح نہیں ہے) تو معترض اس بات کو بھول گیا کہ الاحقاف کا مکی ہونا اتفاقی ہے اور اس سے آیت : ٩ مستثنی نہیں ہے اور سورة فتح اور سورة احزاب کا مدنی ہونا بدیہات سے ہے۔ علاوہ ازیں آیات کے تقدم اور تاخر کا علم صحابہ کرام (رض) کے بیان سے ہوتا ہے۔ اگر معترض کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) (الفتح اور احزا ب کے) مؤخر ہونے کی تصریح کرچکے ہیں تو وہ ان پر اعتراض کرنے کو پسند نہ کرتا۔ (ترجمہ ملحضاء انباء الحی، ص ٣٨٩)-
اعلی حضرت کی اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ نسخ لغوی اور نسخ اصلاحی میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ اعلی حضرت نے نسخ کی تعریف میں وہی عبارت ذکر کی ہے جو نسخ اصلاحی کی تعریف میں ہے اور علامہ خفا جی اور علامہ آلوسی نے جو لکھا ہے کہ نسخ سے مراد مطلق تغییر ہے یعنی نسخ کے ذریعہ یہ معلوم ہوگیا کہ منسوخ کے حکم کی مدت ختم ہوگئی اور اب اس پر عمل نہیں ہوگا، بلکہ اب ناسخ کے حکم پر عمل ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علامہ خفا جی، علامہ آلوسی اور اعلی حضرت کی مراد یہ ہے کہ نسخ اصطلاحی احکام میں جاری ہوتا ہے اور نسخ لغوی جو مطلق تغییر ہے وہ اس سے عام ہے۔ نیز اس آیت میں نسخ کو نسخ اصطلاحی پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس آیت کے آغاز میں ” قل “ کا لفظ ہے اور نسخ ” قل “ کی طرف راجع ہے۔ -
اعلی حضرت کی عبارت پر خلاف تحقیق ہونے کا الزام اور اس کا جواب -
مخالفین اعلی حضرت نے کہا ہے :-
یہ بھی واضح رہے کہ اعلی حضرت نے اپنے رسالہ ” انباء المصطفی “ میں گنگوہی کے اعتراض کا جواب مناظر انہ انداز میں دیا ہے :”……“ اور جمع اقوال کرتے ہوئے نسخ کا قول ذکر فرمایا ہے۔ یہ ان کا مختار نہیں ہے اور یہ بات خود مولانا سعید کو بھی تسلیم ہے، وہ لکھتے ہیں : کیونکہ مفسرین کی عادت ہے کہ وہ کسی مسئلہ میں تمام اقوال جمع کردیتے ہیں، خواہ صحیح ہوں یا غلط۔ (شرح صحیح مسلم ج ٧ س ٣٢١ )-
گویا مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ اعلی حضرت نے مناظر انہ انداز میں مخالف کا منہ بند کرنے کے لئے ایک سطحی اور خلاف تحقیق بات کہی ہے اور یہی ان کی عادت ہے۔ پھر اس مفہوم کو ” شرح صحیح مسلم “ کی یہ عبارت نقل کرکے مزید مؤکد کیا ہے کہ ” مفسرین کی عادت ہے کہ وہ کسی مسئلہ میں تمام اقوال جمع کردیتے ہیں خواہ صحیح ہوں یا غلط “۔ گویا اعلی حضرت کا نسخ کا جواب دینا غلط ہے۔ -الاحقاف : ٩ کے نسخ پر مولانا اویسی کی تحقیق -
قرآن مجید میں ہے :-
……(الاحقاف : ٩)-
آپ کہیے کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں، اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ -
مولانا فیض احمد اویسی اس آیت پر پیدا ہونے والے اشکال کے جواب میں لکھتے ہیں :-
اس آیت کے نزول پر کفار بہت خوش ہوئے یا آج وہابی، دیوبندی خوش ہیں، چناچہ ” تفسیر خازن “ میں اسی آیت کے ماتحت ہے :-
جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزی کی قسم ہمارا اورحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تو یکساں حال ہے، ان کو ہم پر کوئی زیادتی اور بزرگی نہیں، اگر وہ قرآن کو اپنی طرف سے گھڑ کر نہ کہتے ہوتے تو ان کو بھیجنے والا خدا انہیں بتادیتا کہ ان سے کیا معاملہ کرے گا، تو رب نے یہ آیت اتاری :”……“ پس صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو مبارک ہو آپ نے تو جان لیا جو آپ کے ساتھ ہوگا، ہم سے کیا معاملہ کیا جاوے گا تو یہ آیت اتری ” کہ داخل فرمائے گا اللہ مسلمان مرد اور عورتوں کو جنتوں میں ، “ اور یہ آیت اتری کہ ” خوشخبری دیجئے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے “۔ یہ حضرت انس اور قتادہ و عکرمہ کا قول ہے، یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت سے پہلے کی ہے، جب کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی مغفرت کی خبر دی گئی۔ مغفرت کی خبر آپ کو حدیبیہ کے سال دی گئی تو یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ -
فائدہ : دیکھئے کفار حضور علیہ کی لاعلمی از خاتمہ پر کتنا خوش ہوئے، ایسے ہی یہ لوگ آیت دلیل کے طور پر پیش کرکے ضمنا خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اس سے سمجھ لیجئے کہ یہ کون ہوئے۔ -
سوال : اگر کوئی کہے کہ آیت ’ وما ادری “ خبر ہے اور خبر منسوخ نہیں ہوسکتی جیسے قواعد النسخ میں تم نے خود لکھا ہے ؟-
جواب : بہت سے علماء نسخ خبر جائز کہتے ہیں جیسے ”……“ سے منسوخ۔ ایسے ہی ”……“ کو ابن عباس و انس مالک (رض) نے ”……“ سے منسوخ مانا۔ مزید تفصیل و تحقیق فقیر نے کتاب ” ناسخ منسوخ “ میں لکھی ہے۔ -
یہاں گویا فرمایا گیا : ”……“ اور ”…“ امر ہے۔ نسخ کا تعلق اسی سے ہے۔ -
بعض آیات صورت میں خبر اور معنی میں امر ہیں، جیسے ”……“ (البقرہ : ١٨٣) یا ”……“ (آل عمران : ٩٧) وغیرہ۔ (غایۃ المامول فی علم الرسول ص ٣٣٢۔ ٣٣٠، مکتبہ اویسیہ رضویہ، بہاولپور)-
مولانا فیض احمد اویسی کی اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ الاحقاف : ٩، الفتح : ٢ سے اور حضرت ابن عباس اور حضرت انس کی روایت سے منسوخ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ الفتح : ٢ میں مغفرت ذنب کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے اور ان ہی دو چیزوں میں مخالفین ہم سے اختلاف کرتے ہیں اور یہ تمام مخالفین مولانا اویسی کو حجت تسلیم کرتے ہیں۔ -
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کلی کے اعلان کا آپ کی عظیم خصوصیت ہونا -
سورة فتح کی اس آیت میں اللہ تعالی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اگلی اور پچھلی کلی مغفرت کا قطعی اعلان کردیا ہے، قرآن مجید میں حضرت سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور نبی، رسول یا کسی بھی شخص کی کلی مغفرت کا اعلان نہیں کیا گیا اور آپ کے سوا کسی کی بھی کلی مغفرت قطعیت کے ساتھ ثابت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن آپ کے سوا تمام انبیاء اور مرسلین کو اپنی اپنی فکر دامن گیر ہوگی اور پہلے مرحلہ میں بجز آپ کے تمام نبی اور رسول شفاعت سے گریز کریں گے اور صرف آپ شفاعت کبری فرمائیں گے، یہ اللہ تعالی کی آپ پر عظیم نعمت ہے اور آپ کی منفرد خصوصیت ہے، لیکن آپ کی یہ خصوصیت صرف اسی وقت ہوگی جب مغفرت ذنوب کا تعلق جو اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا اس کو برقرقرار رکھا جائے اور اس کو تسلیم کیا جائے اور اگر بغیر کسی عقلی اور شرعی استحالہ کے اللہ تعالی کے کیے ہوئے تعلق کو بدل کر اگلوں اور پچھلوں کے ساتھ مغفرت ذنوب کا تعلق کیا تو پھر اس مغفرت کلی کا قطعی اعلان اگلوں اور پچھلوں کے لئے ہوگا، حضرت سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے نہیں ہوگا، اور مغفرت کلی کا قطعی اعلان آپ کی خصوصیت نہیں رہے گا اور یہ حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کلی مغفرت کے اعلان کو اپنی خصوصیت قرار دیا ہے۔ -
علامہ سیوطی لکھتے ہیں :-
………(خصائص کبری ج ص ١٨٨، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد)-
امام ابن ابی حاتم اور امام عثمان بن سعید دارمی نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور فرمایا : جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا : باہر آئیے، اور اللہ تعالی نے جو آپ کی نعمتیں عطا کی ہیں ان کو بیان فرمائیے، پھر مجھے دس ایسی نعمتوں کی بشارت دی جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں (١) اللہ تعالی نے مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا (٢) مجھے جنون کے لئے نذیر بنایا (٣) حضرت دائود کو زبور، حضرت موسی کو (تورات کی) الواح اور حضرت عیسی کو انجیل دی گئی اور حالانکہ میں امی ہوں پھر بھی الہ نے مجھے اپنے کلام سے نوازا (٤) اور میرے اگلے اور پچھلے ذنوب کی مغفرت کردی گئی۔ -
تمام مسالک کے مستند علماء نے اس مغفرت کلی کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت اور آپ کے حق میں عظیم نعمت قرار دیا ہے، حافظ ابن کثیر حنبلی لکھتے ہیں :-
اللہ تعالی کا یہ قول ”……“ آپ کی ان خصوصیات میں سے ہے جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ آپ کے علاوہ کسی اور شخص کے کسی عمل کے ثواب کے متعلق کسی حدیث صحیح میں یہ نہیں آیا کہ اس کے اگلے اور پچھلے تمام ذنوب کی مغفرت کردی گئی اور اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت عزت اور فضیلت ہے۔ -
علامہ یوسف نبہانی، علامہ جلال الدین سیوطی شافعی کے رسالہ ” القول المحرر “ سے علامہ عز الدین ابن عبد السلام کا کلام نقل کرتے ہیں :-
………(جواہر البحارج ٣ ص ٢١٤۔ ٢١٣، مصر)-
اللہ تعالی نے آپ کو یہ خبر دے دی ہے کہ آپ کے اگلے اور پچھلے ذنوب (بہ ظاہر خلاف اولی کاموں) کی مغفرت کردی گئی ہے اور یہ منقول نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے انبیاء (علیہم السلام) میں سے اور کسی کو بھی یہ خبر دی ہو، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اور کسی نبی کو یہ خبر نہیں دی کیونکہ جب حشر کے دن انبیاء سے شفاعت طلب کی جائے گی تو ہر نبی کو اپنی (ظاہری) خطاء یاد آئے گی اور وہ ”…“ کہیں گے اگر ان میں سے کسی کو بھی اپنی (ظاہری) خطاء کی مغفرت کا علم ہوتا تو وہ اس مقام پر شفاعت کا انکار نہ کرتا اور جب تمام لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شفاعت طلب کریں گے تو آپ فرمائیں گے : میں اس شفاعت کے لئے ہوں۔ -
شیخ عبد الحق محدث دہلوی حنفی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خصائص کے بیان میں لکھتے ہیں :-
………(مدارج النبوت ج ا ص ١٢٥۔ ١٢٤، سکھر)-
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جملہ خصوصیات میں سے یہ ہے کہ آپ کے تمام مقدم اور مؤخر ذنوب کی بخش دیا گیا ہے، شیخ عزالدین بن عبد السلام نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ کو دنیا میں مغفرت کی خبر دے دی گئی ہے اور اللہ تعالی نے باقی انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی کو یہ خبر نہیں دی ہے، اسی وجہ سے وہ قیامت کے دن ”…“ کہیں گے۔ (علامہ عز الدین کی عبارت ختم ہوئی، اس کے بعد شیخ محقق لکھتے ہیں :) یعنی اگرچہ تمام انبیاء مغفور ہیں اور انبیاء کو عذاب ہونا ممکن نہیں ہے، لیکن اللہ تعالی نے اس کی صراحتہ خبر نہیں دی اور کسی کو بھی اس فضیلت کی خبر نہیں دی اور مغفرت کی تصریح صرف حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے، تاکہ آپ اپنے متعلق تشویش سے فارغ ہو کر تسلی کے ساتھ امت کے گناہوں کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کی شفاعت میں کوشش کریں۔۔ نیز شیخ عبد الحق محدث دہلوی حنفی لکھتے ہیں :-
(اشعتہ اللمعات ج ا ص ٥٢٠، لکھنؤ )-
پس آں حضرت سے عرض کیا گیا کہ آپ عبادت و ریاضت میں اس قدر کوشش و تھکاوٹ کیوں اختیار کرتے ہیں حالانکہ آپ کے تمام گناہ (یعنی ترک افضل یا خلاف اولی ) بخش دئیے گئے ہیں خواہ وہ پہلے ہوں یا بعد کے ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمام گناہ بخش دئیے گئے ہیں تو کیا میں اللہ تعالی کی نعمتوں پر شکر کرنے والا نہ بنوں، خصوصا مغفرت ذنوب کی اس عظیم نعمت پر ؟-
یہ حدیث حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے اور ” مشکوۃ “ ص ١٠٩۔ ١٠٨، مطبوعہ دہلی اور ” صحیح بخاری “ ج ٢ ص ٧١٦، مطبوعہ کراچی میں مذکور ہے۔ -
عشرہ مبشرہ اور اصحاب بدر کی مغفرت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کی خصوصیت…پر معارضہ کا جواب -
مستند فقہاء اسلام کی ان عبارات سے واضح ہوگیا کہ قرآن مجید میں تمام ذنوب کی کلی مغفرت کا قطعی اعلان، یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کی عظیم نعمت اور آپ کی منفرد خصوصیت ہے، کسی عام امتی اور ماوشما کی بات چھوڑیں اور اولوالعزم انبیاء اور رسل میں سے بھی کسی کو یہ نعمت حاصل نہیں ہوئی ”اس پر بعض لوگوں نے یہ معارضہ کیا کہ کیا عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس دنیا ہی میں مغفرت کی نوید سنادی گئی ؟-
الجواب : عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مغفرت کی نہیں جنت کی نوید دی گئی ہے، اور وہ بھی خبر واحد ہے، لیکن جنت کی بشارت اور شے ہے اور مغففرت کی نوید اور چیز ہے اور یوں تو رسول اللہ و نے اہل بدر کو مغفرت کی نوید سنائی ہے، لیکن یہ نوید بہرحال خبر واحد سے ثابت ہے اور ظنی ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام ذنوب کی کلی مغفرت کا اعلان قرآن مجید میں ہے اور قطعی ہے اور اس خصوصیت میں آپ کا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہے۔ -
واضح رہے کہ دخول جنت کی نوید مغفرت کلی کو مستلزم نہیں، کیونکہ ہر مومن جنت میں جائے گا، البتہ دخول جنت کی شخصی بشارت ایمان پر خاتمہ کو مستلزم ہے اور نفس مغفرت کی نوید بھی ابتداء جنت میں دخول کو مستلزم نہیں ہے، البتہ مغفرت کلی کی بشارت ابتداء دخول جنت کو مستلزم ہے اور اس کی شخصی بشارت پر پوری کائنات میں صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہے اور یہ آپ کی منفرد فضیلت اور عظیم خصوصیت ہے۔ -
صاحب یسین کی مغفرت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کی خصوصیت پر معارضہ…کا جواب -
صاحب یسین کے متعلق قرآن مجید میں ہے :-
……(یسین : ٢٧۔ ٢٥ )-
میں تو تمہارے رب پر ایمان لاچکا ہوں تم میری بات سن لو۔ حکم ہوا : جنت میں داخل ہوجاؤ تو اس نے کہا کہ کاش ! میری قوم کو معلوم ہوتا۔ کہ میرے رب نے میری مغفرت کردی اور مجھے عزت داروں میں شامل کردیا۔ -مخالفین کہتے ہیں کہ ایک روایت میں ہے کہ صاحب یسین کو اس کی زندگی میں فرمایا : تو جنت میں داخل ہوجا اور دوسری روایت یہ ہے کہ اس کی وفات کے بعد فرمایا : تو جنت میں داخ ہوجا، بہرحال صاحب یسین کو بھی اس کی زندگی میں جنت اور مغفرت کی بشارت دے دی گئی تھی، لہذا نبی و کو جو آپ کی زندگی میں الفتح : ٢ کے ذریعہ مغفرت کی بشارت دی گئی ہے وہ آپ کی خصوصی نہ رہی، کیونکہ یہ بشارت تو صاحب یسین کو بھی حاصل ہے۔ -اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ لکھا ہے کہ سیدنا محمد و کے علاوہ کسی نبی یا کسی رسول یا کسی بھی شخص کی زندگی میں اس کی مغفرت کلی کا اعلان قطعیت سے ثابت نہیں ہے، اس کا ان تفسیری روایت سے معارضہ کرنا باطل ہے کیونک اول تو یہ روایات زیادہ سے زیادہ اخبار احاد ہیں، اس لئے قطعیت الثبوت نہیں ہیں، ثانیا : یہ دو قسم کی روایات ہے، زیادہ تر یہ ہیں کہ صاحب یسین سے ان کو وفات کے بعد کہا گیا کہ تو جنت میں داخل ہوجا اور یہی اقرب الی القیاس ہیں اور یہ ہمارے موقف کے خلاف نہیں ہیں اور بعض مجہول السند روایات میں ہے کہ ان کی زندگی میں ان سے کہا گیا۔ امام ابن اسحاق اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : اللہ تعالی نے صاحب یسین سے فرمایا : تو جنت میں داخل ہوجا، پس وہ زندہ جنت میں داخل ہوگئے، ان کو جنتی رزق دیا جاتا ہے۔ (جاع البیان : جز ٢٢ ص ١٩٣) امام رازی نے دونوں روایتیں ذکر کی ہیں، پہلے وہ روایت ذکر کی ہے جس میں ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان سے فرمایا : تو جنت میں داخل ہوجا اور دوسری روایت وہ ذکر کی ہے جس میں ہے کہ ان سے زندگی میں فرمایا : تو جنت میں داخل ہوجا۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٢٦٧، ایضا تفسیر قرطبی جز ١٥ ص ٢٠) اور جب یہ دو روایتیں ہیں تو ان کی زندگی میں ان کی مغفرت کا اعلان قطعیت الدلالۃ نہ رہا اور نہ ہی متعلق الفتح : ٢ میں قطعی الثبوت بھی ہے اور قطعی الدلالۃ بھی ہے تو صاحب یسین کی مغفرت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کلی مغفرت کی قطعیت سے کیسے معارضہ کیا جاسکتا ہے اور صاحب یسین کی مغفرت سے آپ کی کلی مغفرت کی تنقیص کیسے کی جاسکتی ہے ؟-
اصحاب حدیبیہ کی مغفرت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کی خصوصیت پر معارضہ کا جواب -
قرآن مجید میں ہے :-
……(الفتح : ٥)-
تاکہ اللہ مومنوں اور مومنات کو ان جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان کی برائیوں کو ان سے مٹا دے اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔ -
اس آیت کی بنیاد پر مخالفین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ان احادیچ کے مطابق جب الفتح : ٢ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کلی کا علان کردیا گیا تو اصحاب حدیبیہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے کیا ہوگا ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے الفتح : ٥ کی تلاوت فرمائی، یعنی مؤمنین اور مؤمنات کو اللہ تعالی دائمی جنات عطا فرمائے گا اور اصحاب حدیبیہ بھی مؤمنین اور مؤمنات میں سے ہیں، لہذا وہ بھی اس بشارت میں داخل ہیں، سو ان کی بھی مغفرت کلی اور قطعی ثابت ہوگی، پس دنیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کلی کا قطعی اعلان آپ کی خصوصیت نہیں رہا۔ مخالفین کہتے ہیں : اور اگر اس کا ثبوت اس طرح نہ ہو تو حضرات صحابہ کرام کو اس کا حق تھا کہ وہ کہتے : ہم نے مگفرت کلی و قطعی کا مطالبہ کیا تھا، نہ ہماری مغفرت ہوئی، نہ اس میں کلیت آئی، نہ اس میں قطعیت آئی، تو گویا ان کا مطالبہ پورا ہی نہ ہو ؟-الجواب : صحابہ کرام نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا، یہ صرف معترض کا مفروضہ اور صحابہ کرام پر بےجا الزام ہے، صحابہ کرام کا تو بہت بلند مقام ہے، کسی عام مسلمان کے متعلق بھی یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ یہ کہے کہ جو انعام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہے یعینہ وہی انعام اس کو بھی دیا جائے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں جو مرتبہ دیا گیا اس کو بھی جنت میں وہی مرتبہ دیا جائے، یہ بہت گم راہانہ سوچ ہے، صحابہ کرام اس تہمت سے بری ہیں۔ -
……(الفتح : ٢) تاکہ اللہ آپ کے لئے معاف فرما دے آپ کے اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی سب کام۔ -
تو صحابہ نے عرض کی : آپ کو مبارک ہو خدا کی قسم ! اللہ عزوجل نے یہ تو صاف فرمادیا کہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا، اب رہا یہ کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس پر الفتح : ٥ نازل ہوئی۔ -
صحابہ کرام نے صرف یہ جاننا چاہا تھا کہ اللہ تعالی ان کے ساتھ کیا کرے گا، یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ ان کو بھی وہی انعام عطا کیا جائے تو جو اللہ تعالی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا تھا اور ان کی بھی خصوصیت اور شخصی تعین کے ساتھ ان کی زندگی میں ان کی مغفرت کلی کا قطعی اعلان کردیا جائے اور ایسا کہنا صحابہ کرام (رض) پر صریح بہتان ہے۔ -
نیز بعض لوگوں نے کہا ہے کہ الفتح : ٢ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کا اعلان آپ کی خصوصیت نہیں ہے، کیونکہ الفتح : ٥ میں اصحاب حدیبیہ کی مغفرت کا اعلان بھی ہے۔ -
الجواب : میں کہتا ہوں کہ ان دونوں آیتوں کی حیثیتوں میں دو وجہ سے فرق ہے :-الفتح : ٢ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شخصی طور پر خطاب ہے اور الفتح : ٥ میں اصحاب حدیبیہ سے شخصی طور پر خطاب نہیں ہے، بلکہ عمومی طور پر مؤمنین اور مؤمنات کو جنت اور مغفرت کی نوید سنائی ہے، اور اس نوید میں قیامت تک کے مؤمنین اور مؤمنات داخل ہیں، اگرچہ اصحاب حدیبیہ اس نوید میں اولا داخل ہیں مگر یہ نوید ان کے ساتھ خاص نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ آیت ان ہی کے سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے خصوصیت مورد کا نہیں ہوتا۔ -
(٢) الفتح : ٢ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اگلی اور پھچلی مغفرت کا ذکر ہے اور یہی مغفرت کلی ہے اس کے برخلاف الفتح : ٥ میں مطلق مغفرت کا ذکر ہے اور مطلق مغفرت، مغفرت کلی کو مستلزم نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں جنت کی بشارت بھی ہے اور جنت کی بشارت مغفرت کلی کو مستلزم ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جنت مغفرت کو تو مستلزم ہے مغفرت کلی کو مستلزم نہیں ہے، کیونکہ کئی مسلمان حساب کی سختی، محشر میں طول قیام وغیرہ کے مرحلہ سے گزر کر جنت میں جائیں گے۔ -
بہرحال مغفرت کلی کا دنیا میں اعلان قطعی صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت ہے اور یہ آپ کی بہت بڑی فضیلت ہے اور وہ تمام علماء جن کے دلوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور عظمت ہے انہوں نے آپ کی اس فضیلت کا بہ صراحت ذکر کیا ہے، جن کے حوالے ہم اسے پہلے نقل کرچکے ہیں۔ -اعلی حضرت ان کے والد گرامی اور دیگر علماء اہل سنت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف…مغفرت ذنب کی نسبت کو برقرار رکھنا۔ -
الفتح : ٢ میں بغیر تاویل کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مغفرت ذنب کی نسبت ہے اور ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ دنیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت کلی کا قطعی اعلان آپ کی بہت بڑی فضیلت ہے اور اعلی حضرت امام اھمد رضا نے ” کنز الایمان “ کے علاوہ اپنی دوسری تصانیف میں، اور آپ کے والد گرامی نے اپنی تصانیف میں جن کی اعلی حضرت نے توثیق کی ہے اور دیگر علماء اہل سنت نے اپنی تصانیف میں اس آیت میں اور اس طرح کی احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مغفرت ذنب کی نسبت کو برقرار رکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں :-
اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ، تحریر فرماتے ہیں : (حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے) ایک شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی۔ اور میں سن رہی تھی کہ یا رسول اللہ ! میں صبح کو جنب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں خود ایسا کرتا ہوں، اس نے عرض کی : حضور کی اور ہماری کیا برابری، حضور کی تو اللہ عزوجل نے ہمیشہ کے لئے پوری معافی عطا فرمادی ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٤ ص ٢١٦۔ ٦١٥، مکتبہ رضویہ، کراچی، ١٤١٠ ھ)-
نعمائے الہیہ ہر وقت، ہر لمحہ، ہر آن، ہرحال میں متزاید ہیں۔ خصوصا خاصوں پر خصوصا ان پر جو سب خاصوں کے سردار ہیں، اور بشر کو کسی وقت کھانے پینے سونے میں مشغولی ضرور اگرچہ خاصوں کے یہ افعال بھی عبادت ہیں مگر اصل عبادت سے تو ایک درجہ کم ہیں، اس کمی کو تقصیر کو ذنب فرمایا گیا۔ (فتاوی رضویہ ج ٩ ص ٧٥، مطبوعہ دار العلوم امجدیہ، کراچی)-
اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی اپنے والد قدس سرہ کی کتاب ” احسن الوعاء و آداب الدعائ “ کی شرح ” ذیل الودعا احسن الدعا “ میں لکھتے ہیں : قال الرضایہ بھی ابو الشیخ نے روایت کی اور خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے :”……“ (محمد : ١٩) مغفرت مانگ اپنے گناہوں کی اور سب مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے۔ (احسن الوعاء ص ٢٦، مطبوعہ ضیاء الدین پبلی کیشنز، کھارادر، کراچی)-
اعلی حضرت کے والد ماجد امام المتکلمین مولانا شاہ نقی علی خان متوفی ١٢٩٧ ھ نے سورة الم نشرح کی تفسیر لکھی ہے جس کو ” انوار جمال مصطفی “ کے نام سے شائع کیا گیا، اس کے متعلق اعلی حضرت لکھتے ہیں : …… کہ مجلد کبیر ہے علوم کثیرہ پر مشتمل۔ (انوار جمال مصطفی ص ٨، شبیر برادرز، لاہور)-
اس کتاب میں الفتح : ٢ کے ترجمہ میں مولانا شاہ نقی علی خان تحریر فرماتے ہیں : تا معاف کرے اللہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ۔ (انوار جمال مصطفی ص ٧١، شبیر برادرز، لاہور)-
نیز مولانا شاہ نقی علی خان ایک حدیث کے ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں :-
مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں : آپ نے اس قدر عبادت کی کہ پائے مبارک سوج گئے، لوگوں نے کہا : آپ تکلیف اس قدر کیوں اٹھاتے ہیں کہ خدا نے آپ کو اگلی پچھلی خطا معاف کی ؟ فرمایا :”……“۔ (سردار القلوب بذکر المحبوب ص ٢٣٦، شبیر بردارز، لاہور)-
شیخ عبد الحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ ایک حدیث کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :-
……(اشعتہ اللمعات ج ٤ ص ٣٨٦، لکھنؤ )-
پھر لوگ حضرت عیسی (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے، حضرت عیسی فرمائیں گے : میں اس کام کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائو، وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے تمام گناہ (یعنی ترک افضل) بخش دئیے ہیں خواہ پہلے کے ہوں یا بعد کے۔ -
اور علامہ فضل حق خیر آبادی متوفی ١٨٦١ ھ اس حدیث کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :-
……(تحقیق الفتوی ص ٣٢١۔ ٣٢٠، لاہور )-
پھر حضرت عیسی (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، وہ فرمائیں گے : میں شفاعت (کبری ) کے لئے نہیں ہوں، تم پر لازم ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائو، وہ ایسے عبد مکرم ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے اگلے اور پچھلے ذنوب معاف کردیے ہیں۔ (ترجمہ تحقیق الفتوی ص ١٢٥، مکتبہ قادریہ، ١٣٩٩ ھ)-
مولانا غلام رسول رضوی لکھتے ہیں :-
لوگ عیسی (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، وہ کہیں گے : میں اس پوزیشن میں نہیں کہ تمہاری شفاعت کروں تم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو، اللہ تعالی نے ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردئیے ہیں۔ (تفہیم البخاری ج ١٠ ص ٤٨، الجدہ پر نٹرز)-
میرے شیخ غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ، العزیز متوفی ١٤٦٧ ھ، الفتح : ٢ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :-
تاکہ اللہ آپ کے لئے معاف فرما دے آپ کے اگلے اور پچھلے (بہ ظاہر) خلاف اولی سب کام (جو آپ کے کمال قرب کی وجہ محض صورۃ ذنب ہیں، حقیقہ حسنات الابرابر سے افضل ہیں) ۔ -
حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری متوفی ٢٩٩٨ ء نے اس آیت کے ترجمہ میں لکھا ہے :-
تاکہ دور فرمادے آپ کے لئے اللہ تعالی جو الزام آپ پر (ہجرت سے) پہلے لگائے گئے اور جو (ہجرت کے) بعد لگائے گئے۔ -
مولانا فیض احمد اویسی لکھے ہیں :-
” عفا اللہ عنک “ کی تقدیم میں لطیف اشارہ ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “ کی خوش خبری سے نوازا ‘ تو ” عفا اللہ عنک “ میں اس کی تصدیق و توثیق فرمائی، اب مطلب واضح ہوگا کہ اب محبوب اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ نے منافقین کو اجازت بخشی کر خلاف اولی کا ارتکاب فرمایا ہے جسے عوام (وہابی وغیرہ) عتاب یا غلطی سے تعبیر کرتے ہیں تو کیا ہوا، آپ تسلی فرمائیے کہ جب میں نے آپ سے پہلے وعدہ کر رکھا ہے کہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ امور اگرچہ خلاف اولی ہوں تمام بخش دئیے ہیں۔ (علم الرسول ص ٨٠، مکتبہ اویسیہ رضویہ، بہاولپور)-
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ سے دعا کی : تو میری ساری خطائیں بخش دے، تیرے سوا کوئی خطائیں نہیں بخش سکتا۔ (مشکوۃ رقم الحدیث : ٨١٣)-
مفتی احمد یار خاں متوفی ١٣٩١ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :-
خیال رہے اس قسم کی ساری دعائیں امت کی تعلیم کے لئے ہیں ورنہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گناہوں سے محفوظ ہیں اور آپ کی خطائوں کی مغفرت ہوچکی ہے جس کا اعلان قرآن شریف میں بھی ہوا جو اس قسم کی دعائیں دیکھ کر حضور کو گناہ گار مانے، وہ بےدین ہے۔ (مراۃ المناجیح ج ٢ ص ٣٤۔ ٣٣، نعیمی کتب خانہ، گجرات)-
ہم نے اس سے پہلے ” انباء المصطفی “ اور ” انباء الحئی “ کے حوالوں سے ان احادیث کو بیا کیا تھا جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مغفرت ذنب کی نسبت کی گئی ہے، اب ہم اس سلسلہ میں مزید احادیث بیان کررہے ہیں :-
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مغفرت ذنب کی نسبت کے ثبوت میں مزید احادیث -
امام بزار اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :-
……(کشف الاستار ج ٣ ص ١٤٧، بیروت)-
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، میرے تمام اگلے اور پچھلے ذنوب (بہ ظاہر خلاف اولی کاموں) کی مغفرت کردی گئی ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، میری امت کو تمام امتوں سے افضل قرار دیا گیا ہے، میرے لئے تمام روئے زمین کو مسجد اور مطہر بنادیا گیا ہے، مجھے کوثر دیا گیا ہے اور میری رعب سے مدد کی گئی ہے اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! تمہارا پیغمبر قیامت کے دن حمد کے جھنڈے کا حامل ہوگا اور آدم اور ان کے ماسوا تمام انبیاء اس جھندے کے نیچے ہوں گے۔ -
حافظ الہیثمی اس حدیث کی سند کے متعلق لکھتے ہیں :-
……(مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٦٩، بیروت) اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ -امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :-
……(دلائل النبوت ج ٦ ص ٤٨٧۔ ٤٨٦، بیروت)-
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام آسمان والوں اور تمام نبیوں پر فضیلت دی ہے، لوگوں نے کہا : اے ابن عباس ! آسمان والوں پر آپ کی فضیلت کی کیا دلیل ہے ؟ حضرت ابن عباس نے کہا :” اس لئے کہ اللہ تعالی نے آسمان والوں کے معلق فرمایا : اور فرشتوں میں سے جس نے یہ کہا کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں، تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اور ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں “۔ اور اللہ تعالی نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے فرمایا :” بیشک ہم نے آپ کو روشن فتح عطا فرمائی، تاکہ اللہ تعالی آپ کے اگلے اور پچھلے ذنب یعنی (بہ ظاہر) خلاف حضور کی انبیاء پر کیا فضیلت ہے ؟ انہوں نے کہا : کیونکہ اللہ تعالی انبیاء کے متعلق فرماتا ہے :” ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں مبعوث کیا ہے “ اور اللہ تعالی نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا :” ہم نے آپ کو قیامت تک کے تمام لوگوں کے لئے مبعوث کیا ہے “ سو آپ کو عزوجل نے تمام انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ -
اس حدیث کو امام ابو یعلی نے بھی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ (مسند ابو یعلی ج ٣ ص ١٥٣ )-
حافظ نور الدین الہیثمی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :-
……(مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٥٥۔ ٢٥٤ )-
اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں، ماسوا حکم ابن ابان کے اور وہ بھی ثقہ ہے، امام ابو یعلی نے بی اس کو اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔ -
……(دلائل النبوۃ ج ٥ ص ٤٨٧)-
”
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com