*(ناد علی شیعوں کی من گھڑت روایت ہے)*
ناد علی بڑی ہی مشہور و معروف دعا ہے جس کا اہل شیعہ اور بعض صوفیائے کرام میں خوب ورد و وظائف کیا جاتا ہے۔ اوراد و وظائف کی کتب میں اس کی خوب فضیلت بیان کی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کی سند کو بڑی مضبوط قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ سند مضبوط ہونا تو دور کی بات ہے، سرے سے اس کی کوئی معتبر سند ہی موجود نہیں۔
ناد علی کو تقریباً نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان جنگ بدر کے واقعے کے تحت گھڑا گیا ہے، اسی وجہ سے ابتدائی محدثین جیسے امام ابن حجر عسقلانی، علامہ ابن عبد البر، امام ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثین کے اقوال میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ہزار ہجری اور اس کے بعد کے بعض محدثین نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ یہ شیعوں کی گھڑی ہوئی روایت ہے۔ ابن حجر عسقلانی، امام ذہبی، ابن عبد البر اور دیگر ابتدائی اور متقدم محدثین جو 800 ہجری سے پہلے کے ہیں، کے اقوال میں ناد علی کا ذکر نہ ملنے کی وجہ یہی ہے کہ یہ روایت نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان کے عرصے میں گھڑی گئی تھی۔ اس سے پہلے یہ روایت موجود ہی نہیں تھی، اس لیے ان جلیل القدر علماء نے اس کا کہیں حوالہ یا رد نہیں کیا۔ جب یہ روایت بعد میں شائع ہوئی تو اس وقت کے علماء جیسے ملا علی قاری، عجلونی وغیرہ نے اسے واضح طور پر مفتریاتِ شیعہ قرار دیا۔
درحقیقت ناد علی شیعہ کی من گھڑت روایات میں سے ایک ہے۔ شیعہ کی مختلف کتب میں یہ روایت موجود ہے کہ جنگ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب زخمی ہوئے تو آپ علیہ السلام نے یہ ندا پڑھی تھی۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ اور کذب ہے۔ احادیث کی کتب میں ایسی کوئی روایت کہیں موجود نہیں۔
شیعوں کا امام ملا باقر مجلسی بحار الانوار میں روایت لکھتے ہیں،
وَيُقَالُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ فِي هَذَا الْيَوْمِ: نَادِ عَلِيًّا مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ كُلُّ غَمٍّ وَهَمٍّ سَيَنْجَلِي بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ
ترجمہ، علی کو پکارو، جو عجائبات کے مظہر ہیں، تم انہیں اپنی مصیبتوں میں مددگار پاؤ گے۔ ہر غم اور ہر فکر آپ کی ولایت کے سبب دور ہو جائے گی، اے علی، اے علی، اے علی
( بحار الانوار جلد 20 صفحہ 73)
مذکورہ روایت کے متعلق علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں،
وَكَذَا مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ حَدِيثُ نَادِ عَلِيًّا مُظْهِرَ الْعَجَائِبَ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ،
اور اسی طرح شیعہ کی نہایت قبیح من گھڑت روایات میں سے ایک یہ حدیث ہے، نادِ علیًا مظہر العجائب،
(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة، صفحہ 368، حدیث نمبر 596)
علامہ عجلونی نے بھی اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔ انہوں نے علامہ علی قاری رحمہ اللہ کی عبارت کو کشف الخفاء میں نقل کیا ہے،
كَذَا مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ حَدِيثُ نَادِ عَلِيًّا مُظْهِرَ الْعَجَائِبَ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ،
(کشف الخفاء، جلد 2، تحت حدیث 369)
اس ظاہر ہو جاتا ہے یہ روایت منگھڑت ہے شیعوں کی بنائ ہوئ ہے، اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے اسے شیعہ کی افترا پردازیاں قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں، اور مشکلات میں اللہ کی طرف رجوع کریں، اور ہر سنی سنائی بات یا لکھی لکھائی بات کو عمل میں لانے سے پہلے اس کی خوب اچھی طرح سے کسی قابل مفتی صاحب سے معلومات حاصل کر لیں اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
از: فقیر محمد دانش حنفی
ہلدوانی، نینی تال
+91 99174 20179
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com