السلام علیکم حضرت صاحب *خدا عزوجل کی رحمت پر جھوٹی امیدیں باندھ کر گناہوں میں ملوث رہنے والوں کے لئے شریعت کیا فرماتی ہے؟* ابراہیم خان، راجستھان، انڈیا الجواب: اللہ عزوجل کی رحمت سے امید رکھنا ایمان والوں کی صفت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسا کرکے گناہوں پر اصرار کرتے رہنا اور توبہ سے غفلت برتنا شرعاً درست نہیں، بلکہ یہ دھوکے اور نادانی کی بات ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَغُرَّنَّكُم بِاللّٰهِ الْغَرُورُ ترجمہ: اور ہرگز تمہیں اللہ کے بارے میں بڑا دھوکے باز دھوکے میں نہ ڈالے۔ (سورۃ لقمان، آیت: 33) دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے: نَبِّئْ عِبَادِيْ أَنِّيْ أَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ وَأَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيْمُ ترجمہ: میرے بندوں کو خبر دے دو کہ بے شک میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں، اور یہ کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ الحجر، آیت: 49-50) ان آیات سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے اور اس کے عذاب سے بے خوف بھی نہیں ہونا چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:...