نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

ہندوستان کے بینکوں سے سود کا شرعی حکم

हिंदी अनुवाद आखिर में है  عنوان: ہندوستانی بینکوں سے ملنے والی سودی رقم کا شرعی حکم الجواب وباللہ التوفیق ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک (دارالحرب) میں بسنے والے مسلمان، جب بینکوں میں پیسہ رکھتے ہیں تو اس پر انہیں جو اضافی رقم ملتی ہے، وہ شرعاً سود ہے۔ اگرچہ بعض علماء نے حدیث "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب" کی بنیاد پر اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، لیکن تحقیق اور عصر حاضر کے مالیاتی نظام کو سامنے رکھتے ہوئے اس رائے سے رجوع کرنا ہی زیادہ محتاط اور حق کے قریب ہے۔ --- دلائل و توضیحات: 1. حدیث: لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب یہ روایت بعض فقہاء نے ذکر کی ہے، اور اس کے مطابق بعض احناف نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں حربی (یعنی کافر غیر ذمی) سے سودی معاملہ کرے تو وہ شرعاً سود نہیں کہلاتا۔ لیکن: یہ حدیث ضعیف و مرسل ہے، اس کی سند میں اضطراب ہے، جسے محدثین نے دلیل کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ یہ فتویٰ فقہاءِ احناف کے ایک جزوی قول پر مبنی ہے، جو سیاق و سباق کے لحاظ سے خاص حالات پر مبنی تھا، نہ کہ عمومی اجازت۔ 2. عصر حاضر کا بینکاری نظام آج کے بینک انفرادی...

دارالافتاء گلزار طیبہ کا تعارف

दारुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तैय्यबा का तार्रुफ़ 🌺 "जहाँ इल्म, तहक़ीक़ और अदब का मरकज़ हो" बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम दारुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तैय्यबा एक ऐसा रौशन मरकज़ है जहाँ से उम्मत-ए-मुसलिमा को शरई रहनुमाई, इफ्ता का मज़बूत निज़ाम और इल्मी रौशनी हासिल होती है। इसकी बुनियाद तौहीद, सुन्नत और इल्म की बुलंदी पर रखी गई है। इस दारुलइफ्ता की ख़ुसूसियात: 1. इल्मी तहक़ीक़: हर जवाब कुरआन, हदीस और फिक्ह-ए-हनाफी की रौशनी में तहक़ीक़ और दलाइल के साथ पेश किया जाता है। 2. अदबी लहजा: फतवे सिर्फ हुक्म नहीं बताते, बल्के अंदाज़ इतना दिलनशीं होता है कि पढ़ने वाला उसे समझ भी ले और अपनाने को जी चाहे। 3. हर सवाल को एहमियत: चाहे सवाल आम हो या ख़ास — पूछने वाले की नीयत, ज़रूरत और समझ का पूरा ख़याल रखा जाता है। 4. किताबों की दौलत: दारुलइफ्ता की लाइब्रेरी में एक हज़ार से ज़्यादा मुस्तनद किताबें मौजूद हैं — ये सब मुफ़्ती साहब की मेहनत, सब्र और इल्मी लगन का नतीजा है। 5. मुफ़्ती अबू अहमद एम.जे. अकबरी साहब: जिन्होंने चंद किताबों से शुरुआत की। हसद करने वालों ने रुकावटें पैदा कीं, मगर उन्होंने ना थकना सीखा, न...

دیوبندی سے نکاح ہر دیوبندی کافر نہیں

فتویٰ نمبر: 057/1446 تاریخ: 05 شوال 1446ھ / 05 مئی 2025ء سوال: کیا دیوبندی لڑکا یا لڑکی کا سنی (اہلِ سنت و جماعت) لڑکی یا لڑکے کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ نیز اگر دیوبندی کا نکاح سنی امام نے پڑھا دیا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح و مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ سائل: مولانا شاداب صاحب، مقیم: ٹاکودی چانڑسماں، ضلع پاٹن، گجرات (بھارت) الجواب وباللّٰہ التوفیق دیوبندی اکابر کی بعض تحریروں میں ایسے کفریہ اور گستاخانہ عبارات موجود ہیں جن کی بنا پر فتویٰ حسام الحرمین میں ان پر حکمِ کفر و ارتداد لگایا گیا ہے، مثلاً: تحذیر الناس صفحہ 3، 14، 28 براہینِ قاطعہ صفحہ 51 حفیظ الایمان صفحہ 8 ان عبارات کے قائلین اور ان کے عقائد کو حق سمجھ کر ماننے والے کافر و مرتد ہیں، اور مرتد کا نکاح نہ کسی مسلمان سے جائز ہے، نہ کسی کافر سے۔ چنانچہ: فتاویٰ برکاتیہ صفحہ 324 میں ہے: "مرتد کا نکاح مرتدہ، مسلمہ اور کافرہ سے جائز نہیں۔" البتہ واضح رہے کہ: ہر دیوبندی مردت نہیں ہوتا اور جب تک کسی فردِ معین سے کفریہ عقائد کا اقرار ثابت نہ ہو، تب تک اس پر حکمِ کفر نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن ...

حق گوہ عالم کے ساتھ اللہ

القرآن - سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 51 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ ۞ ترجمہ: ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی قیامت کو بھی)

آپ سے پہلے بھی تکذیب کیے گۓ

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 34 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰٓى اَتٰٮهُمۡ نَصۡرُنَا‌ ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ‌ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِى الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞ ترجمہ: اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

عالم کو پینٹ شرٹ پہننا کیسا

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلے میں   صورتحال یہ ہے کہ ایک مسجد کا امام ہے پاںچ وقت  امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے اور نماز کے علاوہ کسی مجبوری کے تحت دن میں کسی محدود وقت کے لیے پینٹ  شرٹ  یا کوٹ , کیپ  پہن سکتا ہے یا نہیں وقت مذکورہ کے بعد باقی وقت میں  اسلامی لباس زیب تن کر لیتا ہے اس کے بارے میں کیا  شریعت کا کیا حکم ہے ؟ الجواب و باللہ توفیق پیمٹ شرٹ پہننا فی زمانہ لوگوں میں عام ہو گیا ہے یہ اب کسی کی مشاہبت نہیں رہا لہاذا جائز ہے مگر ایک عالم کو اس سے بچنا چاہے کہ لوگوں میں عالم کو اس طرح کا لباس پہننا عجیب لگتا ہے اور لوگ تعجب کریں گے لباس مستحب کے متعلق قرآن مجید میں لباس کو زینت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 26 واضح رہنمائی کرتی ہے:یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا ۚ وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ۚ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَترجمہ: اے آدم کے بیٹو! ہم نے تم پر لبا...