اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، أَمَّا بَعْدُ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ (سورۂ الحجرات: 49، آیت: 6) اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ایک نہایت اہم اصول عطا فرمایا ہے کہ اگر کوئی فاسق کسی شخص یا جماعت کے متعلق کوئی خبر لائے تو صرف اس کی بات سن کر فیصلہ نہ کیا جائے، بلکہ اس کی اچھی طرح تحقیق کی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص فسق و نافرمانی میں مبتلا ہو، وہ جھوٹ یا غلط بیانی سے بھی محفوظ نہیں رہتا۔ اگر تحقیق کے بغیر اس کی بات پر یقین کر لیا جائے تو ممکن ہے کسی بے گناہ مسلمان کی عزت، جان یا مال کو نقصان پہنچ جائے، اور بعد میں حقیقت سامنے آنے پر سخت شرمندگی اور ندامت اٹھانی پڑے۔ جیسا کہ آپ سب نے پچھلے چند دنوں سے دیکھا اور سنا کہ ہماری مسجد سے وابستہ ایک فاسقِ معلن نے میرے متعلق مسلمانوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی کہ: "یہ مفتی س...