کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
زید سید ہے۔ جمعہ کے دن مسجد میں آیا، اس وقت امام صاحب خطبہ دے رہے تھے۔ نمازِ جمعہ ادا ہونے کے بعد زید نے لوگوں سے کہا: "اس امام کو نکال دو، اس نے میرا ادب نہیں کیا۔ میری موجودگی میں اسے نماز پڑھانے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا ضروری تھا۔"
واضح رہے کہ زید سید ضرور ہے مگر عالم نہیں، جبکہ مسجد کے امام صاحب عالمِ دین، مفتی اور مسجد کے مقرر امام ہیں۔
ایسی صورت میں زید کا یہ کہنا کہ امام کو اس سے اجازت لینا ضروری تھا، شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور کیا صرف سید ہونے کی وجہ سے مقرر امام پر اس کی اجازت لینا لازم ہے؟
سائل: احمد رضا خان، ٹونٹی، گجرات
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعہ سوال میں مذکورہ تفصیل کے مطابق ہے کہ زید سید ہے، مگر عالمِ دین نہیں، جبکہ مسجد کا امام باقاعدہ مقرر، عالم اور مفتی ہے، تو زید کا یہ کہنا کہ:
"اس امام کو نکال دو، اس نے میرا ادب نہیں کیا، میری موجودگی میں اسے نماز پڑھانے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا ضروری تھا۔"
شرعاً یہ دعویٰ درست نہیں، بلکہ بے اصل اور تکبر پر مبنی ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں صرف سید ہونے کی وجہ سے کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ مسجد کا مقرر امام اس سے اجازت لے کر نماز پڑھائے۔ اسلام نے عزت و فضیلت کا معیار نسب نہیں بلکہ تقویٰ، علم اور شرعی استحقاق کو قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
(سورۂ حجرات: 13)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ...»
"لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ جاننے والا ہو۔"
📚 صحیح مسلم، حدیث: 673
اور اسی حدیث میں فرمایا:
«لَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ...»
"کوئی شخص دوسرے شخص کے اختیار اور اس کی مقررہ جگہ میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرے۔"
📚 صحیح مسلم، حدیث: 673
کوئی انسان وہاں دوسرے انسان کی امامت نہ کرے جہاں اس ( دوسرے ) کا اختیار ہو اور اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ بیٹھے ۔‘‘ ( صحیح مسلم رقم الحدیث 673 اسلام 360)
اس حدیث سے فقہائے کرام نے استدلال فرمایا ہے کہ مسجد کا مقرر امام دوسروں کی نسبت امامت کا زیادہ حق دار ہے۔ لہٰذا کوئی مہمان، خواہ سید ہو یا بڑا عالم، مقرر امام کی اجازت کے بغیر امامت نہیں کرا سکتا، بلکہ مقرر امام ہی امامت کا مستحق ہے۔
فقہائے احناف فرماتے ہیں:
الإمام الراتب أحق بالإمامة من غيره.
"مقرر امام دوسروں کی نسبت امامت کا زیادہ حق دار ہے۔"
📚 رد المحتار، الدر المختار، بدائع الصنائع، الفتاویٰ الہندیۃ
نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»
"جس شخص کو اس کا عمل پیچھے رکھ دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔"
📚 صحیح مسلم، حدیث: 2699
لہٰذا ساداتِ کرام کی تعظیم و محبت اہلِ سنت کے عقائد میں شامل ہے، مگر اس تعظیم کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ایسے اختیارات دے دیے جائیں جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔ صرف سید ہونے کی بنا پر امام سے اجازت طلب کرنا لازم قرار دینا یا اجازت نہ لینے پر اسے معزول کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز اور بے بنیاد ہے۔
لہٰذا دریافت کردہ صورت میں زید کا اعتراض شرعاً مردود ہے، اور مسجد کے مقرر امام نے زید سے اجازت لیے بغیر نماز پڑھائی تو اس میں کوئی گناہ یا خلافِ شرع بات نہیں۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم. جے. اکبری
دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com