نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بدمذہبوں سے خرید وفروخت

السؤال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا مرغی (چکن) کے کاروبار میں ایک بدمذہب شخص کے ساتھ لین دین ہے۔ اس معاملہ میں کبھی نقد خرید و فروخت ہوتی ہے اور کبھی ادھار کا معاملہ بھی ہوتا ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ بدمذہب شخص کے ساتھ اس طرح کا تجارتی معاملہ کرنا، اس سے مال خریدنا یا اسے مال فروخت کرنا، نیز نقد اور ادھار دونوں طرح کے معاملات کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی معتبر کتابوں کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

السائل: عبدالغنی
گاؤں: مالیہ میانہ

الجواب وباللہ التوفیق

اصل حکم یہ ہے کہ بدمذہب شخص کے ساتھ خرید و فروخت اور دیگر مالی معاملات فی نفسہٖ جائز ہیں، بشرطیکہ معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اس میں سود، دھوکہ، خیانت یا کسی حرام کام پر تعاون نہ پایا جائے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

"رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔"

📚 صحیح البخاری، کتاب الرہن، باب رھن السلاح، حدیث: 2513
📚 صحیح مسلم، کتاب المساقاة، باب الرهن وجوازه في الحضر، حدیث: 1603

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے بھی جائز تجارتی معاملات کیے جا سکتے ہیں، لہٰذا بدمذہب مسلمان کے ساتھ بھی اصلِ تجارت جائز ہوگی، جب تک اس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو۔

امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"دنیوی معاملت جس سے دین پر ضرر نہ ہو، سوا مرتدین کے کسی سے ممنوع نہیں۔"

📚 فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 331، رضا فاؤنڈیشن، لاہور

اس عبارت سے واضح ہوا کہ محض بدمذہب ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ دنیوی معاملات ناجائز نہیں ہوتے، البتہ مرتد کا حکم الگ ہے۔

البتہ اگر اس بدمذہب کے ساتھ کاروبار کرنے سے اس کے باطل مذہب کی ترویج، اس کی مالی تقویت جس کے ذریعے وہ گمراہی پھیلائے، یا مسلمانوں کے عقائد پر منفی اثر پڑنے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں احتیاط لازم ہے، بلکہ حتی الامکان ایسے معاملات سے اجتناب کیا جائے اور اہلِ سنت کے ساتھ کاروبار کو ترجیح دی جائے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں صرف بدمذہب ہونے کی وجہ سے اس سے نقد یا ادھار خرید و فروخت کرنا ناجائز نہیں، بشرطیکہ معاملہ شریعت کے مطابق ہو، اس میں کسی حرام کام پر تعاون نہ ہو، دین کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، اور وہ شخص مرتد نہ ہو۔

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب

کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم. جے. اکبری
دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...