*حضرت علی ابوبکر و عمر کو ہی افضل مانتے تھے اس روایت کے80 سے زائد راوی ہیں*
ابن تیمیہ نے منہاج السنة النبویة میں لکھا ہے حضرت علی نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر ہیں اور یہ بات ان سے تواتر سے ثابت ہے اس کے 80 سے زائد راوی ہیں،
وَقَدْ رَوَى بِضْعَةٌ وَثَمَانُونَ نَفْسًا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ". رَوَاهَا الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات اسی 80 سے زائد اشخاص نے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا، اس امت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر ہیں، پھر عمر۔
(منهاج السنة النبوية جلد 7 صفحہ 284)
مسند احمد میں ہے،
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے ؟ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب بہترین شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے خیر پیدا فرما دیتا ہے،
مسند احمد حدیث 922
از فقیر محمد دانش حنفی
ہلدوانی نینی تال
+919917420179
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com