نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

☎فون سے نکاح📱

فون پر نکاح کا حکم ؟
- نومبر 23, 2021
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نیٹ یاٹیلی فون کے ذریعے نکاح کرنے کی شریعت میں کیاحیثیت ہے؟ سائل:مولانامحمدعبداللہ عطاری(علی گارڈن،فیصل آباد) *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* حضرت *مفتی محمد قاسم صاحب عطاری* فرماتے ہیں نکاح صحیح ہونے کے لئے چندشرائط کاپایاجاناضروری ہے جن میں سے ایجاب وقبول کاایک مجلس میں ہونابھی ضروری ہے ۔ لہٰذانیٹرنیٹ یاٹیلی فون پرنکاح درست نہیں کہ ایجاب وقبول کی مجلس مختلف ہےہاں اگرنیٹ یاٹیلی فون پرکسی کووکیل بنادیاجائے اوروہ وکیل گواہوں کی موجودگی میں اپنے مؤکل کانکاح پڑھادے توشرyعاًجائزہوگا۔ *(دارالافتاء اہلسنت )* محقق جدید حضرت *مفتی نظام الدین صاحب* رضوی فرماتے ہیں لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر اگرچہ قاضی شاہدین کی صورت نظر آئے مگر اس پر لی گئی شہادت حقیقت میں شہادت نہیں ہے شہادت کا لغوی معنی ہے حضور، ،اور شاہد کا معنی ہے، ،حاضر، ،یہاں شاہد مجلس قضا میں حاضر نہیں بلکہ وہاں سے بہت دور اور غائب ہے یہ الگ بات ہے کہ مشین کی وجہ سے اس کا عکس نظر آرہا ہے، یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ شاہد، شخص ہے نہ کہ عکس، کی رویت شخص کا شہود و حضور قطعاً نہیں ہو سکتا اس لیے انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ (موبائل ) پر شہادت کے کلمات ادا کرنے کی شرعی حیثیت محض خبر کی ہے شہادت کی نہیں اگر لڑکی نے قاضی کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دیا *مثلاً* یہ کہہ دیا کہ فلاں بن فلاں کے ساتھ میرا نکاح کر دو اور قاضی نے گواہوں کے روبرو اس لڑکی کا نکاح معین لڑکے کے ساتھ کر دیا اور اس منظر کو انٹرنیٹ پر دکھایا گیا تو نکاح شرعا صحیح ہے درست ہے بغیر انٹرنیٹ کے بھی نکاح اس طور پر کیا جاتا ہے *(آپ کے مسائل صفحہ 131 )* *مفتی اعظم پاکستان پروفیسر حضرت منیب الرحمن صاحب* فرماتے ہیں شرعا نکاح کے جواز کے لئے شرط یہ ہے کہ مجلس نکاح میں دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہو فریقین (لڑکا اور لڑکی ) دونوں موجود ہوں اور برائے راست ایجاب وقبول کریں یا وہ دونوں ان میں سے کوئی ایک موجود نہ ہو تو اپنے اپنے وکیل کے ذریعے ایجاب وقبول کر سکتے ہیں (صرف فون پر ایجاب وقبول ) کیا تو یہ نکاح شرعا نہیں ہوگا ایسے نکاح کے جواز کی صورت یہ ہے کہ لڑکا یا لڑکی جو مجلس نکاح میں موجود نہیں تحریری طور پر یا فون پر کسی کو اپنا وکیل بنا لے اور وہ وکیل اس کی جانب سے بالمشافہ ایجاب وقبول کرے تو یہ شرعا نکاح جائز ہوگا ( *تفہیم المسائل جلد اول صفحہ 242 )* **حضرت فقیہ النفس مفتی محمد مطیع الرحمن رضوی صاحب * فرماتے ہیں* نکاح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ گواہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں جو ایجاب وقبول کے الفاظ ساتھ ساتھ سنے مسلمان کا نکاح دو آزاد عاقل بالغ مسلمان (دو مرد) یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی سے ہی منعقد ہوتا ہے اور سننا شرط ہے صحیح یہ ہی ہے، کیونکہ حاضر ہونے سے مقصود سننا ہی ہے اور گواہ فون یا انٹرنیٹ سے عاقدین کی آواز کو اگرچہ سنتے ہے مگر عاقدین میں سے ایک کے حق میں ضرور غائب ہوتے ہیں اور غائبانہ اس کی آواز کو سنتے ہیں جبکہ فقہاء فرماتے ہیں کہ پردہ کے پیچھے سے سنی گئی آواز پر گواہی جائز نہیں اس لیے کہ آواز دوسری آواز کی مشابہ ہوتی ہے لہذا صورت مسوئلہ میں فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح نہیں ہو سکتا ہاں فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح منعقد ہونے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ فون کر کے کسی کو نکاح کا وکیل بنا دے، کیونکہ وکیل بنانے کے لیے گواہوں کی ضرورت نہیں پھر وہ وکیل گواہوں کی موجودگی میں ایجاب یاقبول کرے ( *فتاوی فیض الرحمن صفحہ 699 )* *شیخ الحدیث حضرت علامہ غلام رسول سعیدی رحمت اللہ علیہ فرماتے* ہیں فون کے ذریعے نکاح نہیں ہو سکتا اس کی صورت یہ ہے لڑکا خط یا فون کے ذریعے کسی شخص کو اپنا وکیل بنا دے اور وہ وکیل لڑکے کی طرف سے پاکستان میں ایجاب وقبول کر لے اور یہ اور ایجاب وقبول حسب دستور گواہوں کے سامنے ہو مجلس نکاح میں ہو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا علامہ سرخسی لکھتے ہیں اگر غائب کسی حاضر شخص کو وکیل بنا دے اور وہ وکیل لڑکی کا نکاح اس غائب شخص سے کر دے تو نکاح صحیح ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نجاشی کی طرف خط لکھا اور امہ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا اور نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے حضرت امہ حبیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا الخ ( *شرح صحیح مسلم جلد 3 صفحہ 829 )* *واللہ اعلم ورسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ 9 اگست 2021 بروز پیر


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...