نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ثواب کی نیت سے ڈرو جایز نہیں عمرہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب

سوال:
بعض ٹورز اینڈ ٹریولز والے ایسی اسکیم چلاتے ہیں کہ ہر شخص سے مثلاً ₹786 وصول کیے جاتے ہیں، پھر 300 افراد کے نام مکمل ہونے پر قرعہ اندازی (Lucky Draw) کی جاتی ہے، جس میں ایک یا چند افراد کو مفت عمرہ یا دیگر انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ باقی تمام شرکاء کو کچھ نہیں ملتا۔ کیا ایسی اسکیم میں شرکت یا اس کا انعقاد جائز ہے؟

الجواب:

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اسکیم شرعاً ناجائز، حرام اور قمار (جوا) کی ایک صورت ہے، اس میں کسی قسم کی گنجائش نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اسکیم میں ہر شریک اپنی رقم اس امید پر دیتا ہے کہ شاید قرعہ اس کے نام نکل آئے اور اسے مفت عمرہ یا کوئی انعام مل جائے، جبکہ حقیقت میں چند افراد کو فائدہ ہوتا ہے اور باقی تمام شرکاء کی رقم سے وہ انعامات فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ بعینہٖ قمار کی حقیقت ہے، کیونکہ ہر شریک نفع و نقصان کے غیر یقینی معاملہ میں اپنا مال لگا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

> ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾



ترجمۂ کنز الایمان:
"اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہو کہ تم فلاح پاؤ۔"

(سورۂ المائدہ، آیت: 90)

امام علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

> القمار هو كل لعبٍ يكون فيه أخذُ مالٍ على وجه المخاطرة.



ترجمہ: قمار ہر وہ کھیل یا معاملہ ہے جس میں خطرے اور غیر یقینی بنیاد پر مال حاصل کیا جائے۔

(الدر المختار مع رد المحتار)

اس اسکیم میں تمام شرکاء کی رقم جمع کرکے چند افراد کو انعام دینا، جبکہ باقی محروم رہ جائیں، یہی قمار کی حقیقت ہے۔

مزید یہ کہ اس اشتہار میں "ثواب کی نیت" یا "کاروبار مقصود نہیں" جیسے الفاظ لکھ دینے سے شرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا، کیونکہ احکام کا مدار صرف نیت پر نہیں بلکہ معاملے کی حقیقت پر ہوتا ہے۔ اگر حقیقت قمار کی ہے تو اسے ثواب یا خدمت کا نام دینے سے وہ جائز نہیں ہو جاتا۔

لہٰذا:

اس قسم کی اسکیم بنانا ناجائز ہے۔

اس کی تشہیر کرنا ناجائز ہے۔

اس میں رقم جمع کرنا ناجائز ہے۔

اس میں شرکت کرنا ناجائز ہے۔

اس کے ذریعے مفت عمرہ یا انعام حاصل کرنا بھی شرعاً درست نہیں۔


مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس قسم کی تمام اسکیموں سے مکمل اجتناب کریں، خواہ انہیں عمرہ، حج، گاڑی، موبائل یا کسی اور انعام کا لالچ دیا جائے۔
خلاصۃ آپ یہ عبارت فتویٰ میں شامل کر سکتے ہیں:

> یہ بھی واضح رہے کہ اشتہار میں صرف یہ نوٹ لکھ دینا کہ "اس ڈرا سے کسی قسم کی کمائی مقصود نہیں، بلکہ صرف ثواب کی نیت ہے، اور جو شخص اس ڈرا میں نام لکھوائے وہ امداد اور تعاون کی نیت سے نام لکھوائے"، اس سے اس معاملے کا شرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا۔

کیونکہ شریعت میں کسی معاملے کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار صرف دعوائے نیت پر نہیں، بلکہ اس معاملے کی حقیقت اور اس کی عملی صورت پر ہوتا ہے۔ جب معاملے کی حقیقت قمار (جوا) کی ہو، تو اسے "ثواب"، "امداد"، "تعاون" یا "خدمت" کا نام دے دینے سے وہ ہرگز حلال نہیں ہو جاتا۔

لہٰذا مذکورہ نوٹ شرعی اعتبار سے اس ناجائز اسکیم کو جائز نہیں بنا سکتا، بلکہ یہ اسکیم اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے بدستور ناجائز اور قمار (جوا) ہی رہے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...