صحیح العقیدہ سنی عالم دین کی تحقیر کرناسخت حرام اور محرومیوں کا سبب ہے، اور اگر یہ توہین ان کے عالم دین ہونے کی وجہ سےہو تو پھر کفر ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ علمائے دین کی توہین کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ”سخت حرام ، سخت گناہ اَشد کبیرہ، عالمِ دین سنی صحیحُ العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمد رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نائب ہے اس کی تحقیر مَعاذَ اللہ محمد رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی توہین ہے۔(فتاوی رضویہ، ج23، ص649، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:” حقیقۃً عالمِ دین ، ہادیِ خلق ، سنی صحیحُ العقیدہ ہو ، عوام کو اس پر اعتراض ، اس کے افعال میں نکتہ چینی ، اس کی عیب بینی حرام حرام حرام اور باعثِ سخت محرومی اور بد نصیبی ہے۔" (فتاویٰ رضویہ ،ج8،ص 97 ،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اور اگر توہین کرنا ان کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے،امام اہل سنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:” مطلقًا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہونے کے سبب براکہنا،یا شریعت مطہر کی ادنٰی توہین کرنا،یہ تو یقینا قطعًاکفروارتداد ہے۔“(فتاوی رضویہ، ج14،ص570، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com